چینی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم پاک فوج کے دفاعی نظام میں شامل

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں چینی ساختہ لوٹو میڈیم  آلٹی ڈیوڈ ائیرڈیفنس سسٹم شامل کرلیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج میں دور تک کم اور درمیانی بلندی میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے والا نیا ائیرڈیفنس سسٹم شامل کر لیا گیا ہے۔ جس کے لئے راولپنڈی کے آرمی آڈیٹوریم میں تقریب ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ نئے ائیرڈیفنس سسٹم کے حصول کے بعد ہمارا دفاع مضبوط اورطاقت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور یہ سسٹم دور حاضر اور مستقل میں ائیرڈیفنس کے خطرات کا جواب دینے کے لئے فوج کا معاون اور مدد گار ثابت ہو گا۔

آئی ایس پی آرکے مطابق پاک فوج میں شامل کیا گیا ائیرڈیفنس سسٹم چینی ساختہ اور لوئر ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ ہے۔ ائیرسسٹم فضائی اہداف پرنظررکھنے اورانہیں ڈھونڈ کرتباہ کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ہے جب کہ ایل وائی 80 کے ذریعے لو ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ پر اڑنے والے دورتک کے اہداف کو باآسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔

چینی اور ترک فوجی بھی یوم پاکستان پریڈ کا حصہ ہوں گے

23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی پاک فوج کی خصوصی پریڈ میں رواں برس دوست ملک چین کے فوجی دستے اور ترکی کے ملٹری بینڈز بھی شامل ہوں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان دونوں ممالک سے شرکت کرنے والے خصوسی دستے پریڈ کا حصہ ہوں گے اور اس کی رونق میں اضافہ کریں گے۔ خیال رہے کہ 23 مارچ کی خصوصی پریڈ کے حوالے سے افواج پاکستان کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، ہر سال کی طرح اس برس بھی پریڈ کا انعقاد اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہو گا۔

جبکہ چینی فوجی دستے اور ترکی ملٹری بینڈ کی شرکت کے باعث اس برس کی پریڈ خاص اہمیت کی حامل ہو گی۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی ریہرسل جاری ہے، ریہرسل میں فضائیہ کے لڑاکا طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا۔ خیال رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں 23 مارچ 2008 کو منعقد کی گئی پریڈ کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس کا انعقاد روک دیا گیا تھا، جس کا دوبارہ آغاز سات سال بعد 23 مارچ 2015 سے ہوا۔

یہ بھی یاد رہے کہ یوم پاکستان تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری کی یاد دلاتا ہے۔ 75 سال قبل 1940ء کو اس دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی تھی جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔

پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر، بھارت کےلیے ڈراؤنا خواب کیوں؟

7 مارچ 2017ء کے روز پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ (پی اے سی کامرہ) میں اوور ہال کئے گئے ایک ہزارویں طیارے کی رولنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے کہا کہ پی اے سی کامرہ کا مستقبل ’پانچویں نسل‘ کے لڑاکا طیاروں کا ہے۔

اہم اور معنی خیز بیان

ایک عام شہری اس بیان کو ایک سرکاری تقریب کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کر سکتا ہے لیکن دفاعی حلقوں سے وابستہ افراد اور ماہرین کے نزدیک یہ انتہائی اہم اور معنی خیز بیان ہے۔ کتنا اہم اور معنی خیز؟ اس کا اندازہ اگلے ہی روز ٹائمز آف انڈیا میں نمایاں طور پر شائع ہونے والی ایک خبر سے لگایا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت صرف اسی وقت روس سے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے خریدے گا جب وہ ان کی ’’مکمل ٹیکنالوجی‘‘ بھارت کو منتقل کرے گا۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ، اس خبر میں بھارتی اور روسی حکام کے درمیان جن مذاکرات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ فروری میں ہوئے تھے لیکن یہ خبر پاکستانی ایئر چیف مارشل سہیل امان کے مذکورہ بیان کے فوراً بعد جاری کی گئی۔

بھارت سے قطع نظر، یہ بیان اور بھی کئی اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ مثلاً یہ پاک فضائیہ کے حاضر سروس سربراہ کا بیان ہے، یہ بیان دفاعِ وطن سے متعلق ہونے والی ایک سرکاری تقریب میں دیا گیا، اِس بیان کا تعلق ایک ایسے ادارے (پی اے سی کامرہ) سے ہے جو پاکستان میں فضائی دفاع کے حوالے سے کلیدی اہمیت رکھتا ہے، اور یہ کہ پی اے سی کامرہ ہی وہ ادارہ ہے جہاں پاکستان کے مایہ ناز لڑاکا طیارے ’جے ایف 17 تھنڈر‘ کی پیداوار کے علاوہ اسے خوب سے خوب تر بنانے کے لئے تحقیقی و ترقیاتی کام بھی جاری ہے۔ مختصر یہ کہ مذکورہ اور ایسی ہی دوسری وجوہ کی بناء پر اسے دفاعِ وطن کے نقطہِ نگاہ سے پالیسی بیان ہی قرار دیا جا سکتا ہے نہ کہ فردِ واحد کی ذاتی رائے یا خواہش۔ البتہ پاک فضائیہ کے سربراہ کم و بیش اسی طرح کے خیالات کا اظہار گزشتہ برس یومِ پاکستان (23 مارچ 2016) کے موقعے پر پاکستان ٹیلی ویژن کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کرچکے ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی سے تعلق اور دفاعی معاملات سے خصوصی دلچسپی کی بناء پر ہمیں اس بیان کے جس حصے نے سب سے زیادہ متوجہ کیا، اس کا تعلق مستقبل میں پی اے سی کامرہ میں ’پانچویں نسل‘ کے لڑاکا طیاروں کی ممکنہ تیاری سے ہے۔

24 اکتوبر 2016ء کے روز اسی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ’جے ایف 17 تھنڈر‘ لڑاکا طیارے کے ’بلاک 3‘ کے ڈیزائن کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، جس کے بعد یہ چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں سے بھی زیادہ جدید ہو جائے گا یعنی اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف اے 18 اور ایف 15، روس کے سخوئی 27، اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ اِس تحریر میں جہاں یہ بتایا گیا تھا کہ اُس وقت جے ایف 17 تھنڈر کی ٹیکنالوجی میں پاکستان کا حصہ 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے مستقبل میں مزید بڑھنے کی توقع ہے، وہیں یہ بھی لکھا تھا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی اے سی کامرہ میں جے ایف 17 تھنڈر کے اِس سے بھی زیادہ جدید ورژن ’بلاک 4‘ پر ابتدائی کام کا آغاز ہو چکا ہے جو ممکنہ طور پر پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ ہوگا۔ اپنے حالیہ خطاب میں پاک فضائیہ کے سربراہ نے ’’پی اے سی کامرہ کا مستقبل پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کا ہے‘‘ کہہ کر اس امکان پر یقین کی مہر ثبت کردی ہے۔

پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے

آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم بلاوجہ ہی اس بیان میں ’پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں‘ کا تذکرہ پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں ورنہ اس میں ایسی کوئی خاص بات نہیں۔ تو جناب! چلتے چلتے یہ بھی واضح کئے دیتے ہیں کہ اب تک عالمی دفاعی ماہرین ’’پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں‘‘ کی کسی ایک تعریف پر متفق نہیں ہوئے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ درج ذیل خصوصیات کو پانچویں نسل کے کسی بھی لڑاکا طیارے میں لازماً دیکھنا چاہتے ہیں:

وہ اسٹیلتھ ہو یعنی ریڈار پر نہ دیکھا جا سکتا ہو۔

وہ کثیرالمقاصد ہو یعنی فضائی برتری سے لے کر فضائی دفاع تک، ہر طرح کے مقصد میں مؤثر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہو۔

وہ دورانِ پرواز کم فاصلہ طے کرکے واپس پلٹنے کی صلاحیت (High maneuverability) بھی رکھتا ہو۔

وہ رابطوں اور رہنمائی کے جدید ترین نظاموں (ایڈوانسڈ ایویانکس) سے لیس ہو۔

اس میں ’’نیٹ ورکڈ ڈیٹا فیوژن‘‘ کیا گیا ہو، یعنی مختلف سینسروں اور ایویانکس کے آلات سے حاصل ہونے والا ڈیٹا نہ صرف آپس میں مربوط ہو بلکہ ایک ہی جگہ پر اس کی پروسیسنگ بھی کی جائے۔

گرد و پیش سے آگاہی (سچویشنل اویئرنیس) کا نظام بھی انتہائی جدید اور اس نوعیت کا ہو کہ جس کی مدد سے طیارے کا پائلٹ بڑی آسانی سے وسیع تر علاقے پر نظر رکھ سکے۔ یعنی وہ قریب اور دور پرواز کرنے والے حریف و حلیف طیاروں کے ساتھ ساتھ زمینی خدو خال اور فضائی دفاعی نظاموں وغیرہ پر بھی حقیقی وقت (رئیل ٹائم) میں بہ آسانی نظر رکھ سکے۔

وہ ’’سافٹ ویئر ڈیفائنڈ‘‘ طیارہ ہو یعنی اس کی کارکردگی کا انحصار ہارڈویئر (مائیکروپروسیسر، مائیکرو کنٹرولر) سے زیادہ سافٹ ویئر(کمپیوٹر پروگرامز) پر ہو، یعنی وہ ایسے زبردست سافٹ ویئر سے لیس ہو جو کم تر درجے کے ہارڈویئر پر بھی طیارے کو غیرمعمولی صلاحیتیں دے سکیں۔

اس کے انجن اتنے طاقتور ہوں کہ طیارہ آواز سے دوگنی رفتار پر بہت دیر تک پرواز کر سکے یعنی وہ اپنے ’’آفٹر برنر‘‘ استعمال کئے بغیر ہی آواز سے دوگنی رفتار پر گھنٹوں تک پرواز کرنے کا اہل بھی ہو.

وہ اکیلے ہی پرواز کرنے کے قابل نہ ہو بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے ساتھ درجن بھر ’غیر انسان بردار حملہ آور طیاروں‘ (UCAVs) کے جھرمٹ میں پرواز کرسکے اور اپنی تباہ کن حربی صلاحیتوں کو دوچند کر سکے۔

واضح رہے کہ یہ صرف چیدہ چیدہ نکات ہیں جو ہم نے عام قارئین کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کےلیے بیان کئے ہیں ورنہ ان میں سے ہر پہلو اپنی اپنی جگہ بہت تفصیلی اور جزئیات سے بھرپور ہے۔

حاضر سروس اور مجوزہ طیارے

اس وقت دنیا میں صرف ایک ’’حاضر سروس‘‘طیارہ ایسا ہے جسے بجا طور پر پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ کہا جا سکتا ہے، اور وہ ہے امریکی فضائیہ کا ’’ایف 22 ریپٹر‘‘ (F-22 Raptor)۔ اگرچہ امریکہ ہی کے ’’ایف 35 لائٹننگ ٹو‘‘ (F-35 Lightning II) کو بھی پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ قرار دیا جاتا ہے لیکن اس دعوے سے بیشتر دفاعی ماہرین اتفاق نہیں کرتے۔ امریکہ کے سوا پانچویں نسل کے جتنے بھی لڑاکا طیارے ہیں، وہ سب کے سب یا تو ابھی آزمائشی مرحلے پر ہیں یا پھر ان منصوبوں پر تحقیقی و ترقیاتی (R&D) کام جاری ہے۔

مثلاً اِس وقت بھارت میں پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں سے متعلق دو منصوبے جاری ہیں جن میں سے پہلا ’’ہال اے ایم سی اے‘‘ (HAL AMCA) اور دوسرا ’’پی ایم ایف‘‘ (PMF) کہلاتا ہے۔ اگرچہ ان دونوں منصوبوں میں بھارت اور روس ایک دوسرے کے شریک ہیں لیکن یہ اقرار صرف ’’پی ایم ایف‘‘ کے لئے کیا گیا ہے جو پانچویں نسل کے روسی لڑاکا طیارے ’’ٹی 50‘‘ سے ماخوذ ہے جبکہ یہی وہ طیارہ بھی ہے جس کی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بارے میں ٹائمز آف انڈیا نے رپورٹ شائع کی تھی جس کا تذکرہ اس تحریر کے شروع میں کیا جا چکا ہے۔ امریکہ، روس اور بھارت کے علاوہ پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کے میدان میں چین، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی بھی موجود ہیں لیکن اِس وقت ان میں بھی چین اپنے جے 31 اور جے 20 لڑاکا طیاروں کے ساتھ سرِفہرست ہے جو آزمائشی پروازیں کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ 2020 تک ان کی محدود پیداوار بھی شروع کر دی جائے گی۔

آٹھواں ملک

ان تمام معلومات کے پیشِ نظر پاکستان دنیا کا وہ آٹھواں ملک ہے جو پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر کام شروع کر رہا ہے۔ ماضی کو رہنما بنائیں تو قرینِ قیاس یہی لگتا ہے کہ پاکستان میں پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر تحقیقی و ترقیاتی کاموں کی ابتداء چینی تعاون سے ہو گی اور پاکستانی ماہرین چینی تجربے اور مہارت سے مستفید ہوتے ہوئے اپنے تقاضوں کے مطابق یہ منصوبہ خود آگے بڑھائیں گے۔ یہ بات اس لیے بھی مناسب لگتی ہے کیونکہ جے ایف 17 تھنڈر کے معاملے میں پاکستان کی عین یہی حکمتِ عملی رہی ہے جس کے زبردست نتائج آج ساری دنیا کے سامنے ہیں۔

دفاعی ویب سائٹ ’’قوۃ‘‘ کے تجزیہ نگار بلال خان لکھتے ہیں کہ پی اے سی کامرہ میں جے ایف 17 تھنڈر ’بلاک 3‘ کی پیداوار ممکنہ طور پر 2019ء تک شروع کر دی جائے گی لیکن چونکہ اس ادارے کے پاس پہلے ہی پاک فضائیہ میں شامل سارے طیاروں کی اوورہالنگ، تیاری اور جدت طرازی وغیرہ کی ذمہ داری ہے اس لئے نئی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے لئے اسے مزید توسیع کی ضرورت بھی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ پی اے سی کامرہ ماضی میں بھی جے ایف 17 کے انجن (آر ڈی 93) کا اوورہالنگ پلانٹ حاصل کرنے کے لئے روسی ادارے ’کلیموف‘ سے مذاکرات کرتا رہا ہے۔ یعنی مستقبل میں پی اے سی کامرہ ہی وہ ادارہ بنے گا جہاں جدید لڑاکا طیاروں کے جیٹ انجن بھی اوورہال کئے جائیں گے۔

’لکھنا آسان اور کرنا مشکل‘ کے مصداق، ان مقاصد کا حصول اتنا آسان نہیں کہ جتنی سہولت سے یہاں لکھ دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مختصر، اوسط اور طویل مدت کی پائیدار منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے جس پر عملدرآمد کے نتائج میں جدت طرازی کے ساتھ ساتھ خود انحصاری بھی شامل ہے جو دفاعی نقطہ نگاہ سے خصوصی اور فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ پاک فوج کے دفاعی منصوبہ ساز ان ضروریات کو ہم سے کہیں بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں، اسی لئے ’’کامرہ ایوی ایشن سٹی‘‘ کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے، جِسے پاکستان میں طیارہ سازی کی یونیورسٹی بھی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں اپریل 2017 سے پوسٹ گریجویٹ (ماسٹرز اور پی ایچ ڈی) پروگراموں کا آغاز کر دیا جائے گا۔

ایوی ایشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اعلیٰ تربیت یافتہ افرادی قوت جہاں جاری منصوبوں کو معیاری اور مقداری اعتبار سے خوب تر بنائے گی وہیں تحقیقی و ترقیاتی (R&D) سرگرمیوں کے متقاضی نئے منصوبوں کو بھی مضبوط بنیادیں میسر آئیں گی۔ ویسے تو پی اے سی کامرہ میں لائسنس پر مختلف غیرملکی ریڈار تیار کئے جا رہے ہیں لیکن قوی امکان ہے کہ آنے والے برسوں میں یہاں فضائی دفاعی ریڈاروں کے علاوہ جدید ’’اے ای ایس اے ریڈارز‘‘ (AESA Radars) کی تیاری بھی لائسنس، ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی بنیادوں پر شروع کر دی جائے گی۔

غرض کہ انجن، ایئرفریم، ایویانکس اور ایسے ہی دوسرے اجزاء کو مربوط انداز میں یکجا کرتے ہوئے پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر کام شروع کیا جائے گا۔

تاہم، بلال خان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اِس ضمن میں پی اے سی کامرہ کسی نئے اور ’خالص مقامی‘ منصوبے پر کام شروع کرے گا یا پھر چین کے کسی جاری منصوبے (جیسے کہ ایف سی 31) میں شراکت داری کرے گا۔

صورت اور نوعیت کچھ بھی ہو، لیکن اتنا ضرور طے ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر سے حاصل ہونے والی کامیابی کو دیکھتے ہوئے پاک فضائیہ نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے فیصلہ کر لیا ہے کہ مقامی طور پر پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر بھی کام شروع کر دیا جائے، اور عسکری نوعیت کے منصوبوں سے متعلق اہم عوامی اعلانات صرف اسی وقت کئے جاتے ہیں جب دفاعی ادارے اپنی تیاری مکمل کر چکے ہوں۔ اس تناظر میں ایئر چیف مارشل جناب سہیل امان کا یہ بیان کہ کامرہ کا مستقبل پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کا ہے، اس خیال کو تقویت پہنچاتا ہے کہ صرف منصوبہ بندی ہی نہیں بلکہ عمل درآمد کی حد تک بھی بہت کچھ ہو چکا ہے جس کے بارے میں عامۃ الناس کو صحیح وقت آنے پر ہی بتایا جائے گا۔

جے ایف 17 تھنڈر بلاک 4؟

آخر میں رہ جاتا ہے یہ نکتہ کہ کیا پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں بننے والا پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ جے ایف 17 تھنڈر ’بلاک 4‘ ہوگا یا نہیں؟ تو اِس سوال کا معقول جواب یہ ہے کہ پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے اپنی ساخت، کردار اور صلاحیتوں کے اعتبار سے چوتھی نسل والے لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں بہت مختلف اور ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ لہذا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ پی اے سی کامرہ میں پانچویں نسل کے جس لڑاکا طیارے پر کام ’ہو رہا ہے‘ اسے جے ایف 17 تھنڈر منصوبے کا منطقی تسلسل ضرور قرار دیا جا سکتا ہے لیکن بہرکیف وہ جے ایف 17 تھنڈر ’بلاک 4‘ ہر گز نہیں ہو گا۔ البتہ، اپنے نام اور عنوان سے قطع نظر، وہ منصوبہ دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستانی انجینئروں اور سائنسدانوں کی فنی مہارت کا ایک اور منہ بولتا ثبوت ہوگا.

انشاء اللہ۔

علیم احمد

سی کنگ ہیلی کاپٹر پاکستان کیلئے کیسے مددگار ہے ؟

لندن میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران پاکستان نیوی کو 7 ویسٹ لینڈ سی کنگ ہیلی کاپٹر موصول ہو چکے ہیں جو ریکٹر اسپیس نامی کمپنی کے پاس مینٹی نینس کے عمل سے گزر کر پاکستان کو روانہ کردیئے جائیں گے۔ سی کنگ ہیلی کاپٹر ایک ملٹی رول ہیلی کاپٹر ہے، جو مختلف فرائض سر انجام دے سکتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر گذشتہ کئی دہائیوں سے تلاش اور ریسکیو، جنگ اور ٹرانسپورٹ کے لیے بھی استعمال کیا جا تا رہا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر برطانوی ساختہ ہے جو امریکی ہیلی کاپٹر کیکورسکائی ایس-61 جیسا ہی ہے۔ سی کنگ برٹش رائل نیوی، رائل ایئر فورس، جرمن نیوی اور انڈین نیوی کے لیے اپنی خدمات سر انجام دے چکا ہے تاہم گذشتہ برس برطانیہ نے اپنے سی کنگ کے بیڑے کو ریٹائر کر دیا تھا۔

208 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے والا درمیانے لفٹ کی نقل و حمل اور افادیت کا یہ ہیلی کاپٹر رات میں بھی دیکھنے کی صلاحیت والے آلات سے لیس ہے جو اسے ایک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر سے زیادہ کار آمد بناتا ہے۔ پاک بحریہ پہلے ہی کثیر الاطراف مقاصد کے لیے ’سی کنگ‘ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتی رہی ہے اور اس نے جنگی اور سرکاری محاذوں پر پاکستان کی خدمت کی ہے۔

’سی کنگ‘ کا پاک بحریہ میں استعمال

پاک بحریہ، سی کنگ کو جاسوسی، فوجی دستوں کی نقل و حمل، آبدوزوں اور جنگی جہازوں سے مدبھیڑ میں استعمال کرتی ہے، اس ہیلی کاپٹر کو آبدوزوں کو نشانہ بنانے والے میزائل کے ساتھ ساتھ خطرناک اور سمندری گہرائی میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ امن و امان کے دوران یہ ہیلی کاپٹر فوجی اہلکاروں کی تربیت، سیلاب اور زلزلے کے دوران ریسکیو آپریشن کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اکتوبر 2005 میں آنے والے قیامت خیز زلزلے اور 2010 میں سیلاب کی آفت کے بعد ’سی کنگ‘ نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے ترقیاتی کاموں کے دوران پاکستان نیوی ان ہیلی کاپٹروں کو بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کر رہی ہے۔ انتہائی کم اونچائی پر مسلسل اڑنے کی صلاحیت کے پیش نظر پاکستان نیوی ان ہیلی کاپٹروں کو بحری قزاقوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی استعمال کرتی ہے جبکہ ’سی کنگ‘ سمندر میں غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سی کنگ کے نئے ماڈلز میں سطح سمندر پر اترنے اور دوبارہ پرواز کرنے کی صلاحیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہیلی کاپٹر انفرا ریڈ لائٹس سے لیس ہے جنہیں صرف نائٹ وژن آلات کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے، اسی لیے یہ خفیہ اور حیرت انگیز حکمت عملی پر مبنی کارروائیوں کو با آسانی سرانجام دے سکتا ہے۔
سی کنگ کے ماڈل ’ایم کے 4‘ کو بحری حلقوں میں ’جنگلی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی خصوصیات اسے نامساعد حالات میں بھی کارروائی کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ سی کنگ کا اپ گریڈ ورژن ’ایچ سی 4‘ 2 ہزار 7 سو 20 کلو گرام تک کا وزن اپنے ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر میرین اور بحری کمانڈوز کی ٹرینگ کے لیے استعمال ہونے والا ایک اہم ہتھیار ہے۔

پاک فضائیہ نے اپنے تمام فارورڈ ایئربیس آپریشنل کر دیئے

پاک فضائیہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ بھارتی ائیرچیف کی دھمکیوں کے پیش نظر پاک فضائیہ کے تمام فارورڈ آپریٹنگ بیسزمکمل آپریشنل کردیئے گئے ہیں اور مختلف جنگی طیاروں کی تربیتی پروازیں جاری ہیں۔ ایئر چیف مارشل سہیل امان سیاچن محاذ کے قریب اسکردو میں فارورڈ آپریٹنگ بیس پر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے پہنچے، ایئر چیف نے نا صرف فضائی سرحدوں کی حفاظت پر مامور جوانوں کے جذبے کو سراہا بلکہ فارورڈ آپریشنل ایریا میں میراج طیارہ اڑا کر جنگی مشقوں میں حصہ بھی لیا۔

بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایئرچیف سہیل امان نے کہا کہ ہم سارا سال ہر لمحے تیار رہتے ہیں، یہ معمول کی آپریشنل سرگرمی ہے اور ہمیں کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم تیار ہیں، قوم کو دشمن کے بیانات پر رتی بھر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

یومِ شہدائے پولیس

فوج کے علاوہ پولیس کے افسر اور جوان بھی کئی سالوں سے حالتِ جنگ میں ہیں، ان کے سپاہی سے لے کر آئی جی تک نے دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ پولیس کے جونیئر ہی نہیں سینئر افسروں نے بھی برضا ورغبت اپنی سب سے قیمتی متاع زندگی کی قربانی دی ہے تاکہ ملک کے عام شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہیں، قوم کے یہ محافظ، یہ انوکھے جذبوں سے سرشار متوالے بلاشبہ قوم کے بہت بڑے محسن ہیں۔ آج وطنِ عزیز کے شہروں میں زندگی کی گہما گہمی اور ریل پیل اور دفتروں، بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں انھی کے دم سے ہیں۔

آج ملک کے کروڑوں شہری رات کو سکون سے میٹھی نیند سوتے ہیں تو یہ سکون انھی شہیدوں کی قربانیوں کے طفیل ہے۔ آج قوم کے کروڑوں بچّے اسکولوں سے بحفاظت گھروں کو لوٹتے ہیں تو یہ امن بھی شہیدوں کے خون کا صدقہ ہے ۔ ان کی بیمثال قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے، اس کا زیادہ سے زیادہ ذکر بھی ہونا چاہیے۔ غالباً اسی لیے نیشنل پولیس بیورو نے ملک کے تمام صوبوں اور خطّوں میں پولیس کے شہداء کے لیے ایک دن مخصوص کر دیا تا کہ اسے یومِ شہدائے پولیس کے طور پر منایا جائے۔

کسی کام کے لیے ایک دن مخصوص کر دیا جائے تو سال کے باقی ماندہ دنوں میں انسان اُس سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور اسے کسی حد تک فراموش کر دیتا ہے۔ مگر قوم کے محسنوں کو سارا سال یاد رکھنا چاہیے اور ہمارے محسن اور ہیرو ہمارے دلوں سے کبھی محو نہیں ہونے چاہئیں، خاص دن کے بارے میں معلوم کیا تو بتایا گیا کہ چار اگست چونکہ پولیس کے سب سے سینئر شہید آئی جی صفوت غیوّر کا یومِ شہادت ہے اس لیے نیشنل پولیس بیورو نے اس دن کو ہی پورے ملک کے لیے یومِ شہداء قرار دے دیا ہے۔

یہ بھی مناسب فیصلہ ہے مگر سال میں صرف ایک روز شہداء کی قبروں پر پھول چڑھا دینا کافی نہیں ہے، قوم کے یہ عظیم محسن اس سے کہیں زیادہ کے حقدار ہیں۔ صرف عیدوں پر نہیں ہر مہینے ضلع کا کوئی ایس پی یا ڈی ایس پی رینک کا افسر شہداء کے لواحقین سے جاکر ضرور ملا کرے اور ان کی خَیریّت اور مسائل کے بارے میں دریافت کرتا رہے۔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قافلۂ شہدأ کائناتوں کے خالق اور مالک کا بہت لاڈلا اور پسندیدہ گروپ ہے، اتنا پسندیدہ کہ اسکے لیے ربّ ِ کائنات نے اپنے بنائے ہوئے اصول اور قانون تک بدل ڈالے، مالک کا واضح اعلان ہے کہ ’’کُلُّ نفس’‘ ذ ائقتُہ الموت‘‘ ہر شخص موت سے ہمکنار ہو گا مگر ایک گروپ کو موت سے بھی استثنأ دے دی گئی ہے۔ فرمایا شہید زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے مگر آپ کو اس کا ادراک نہیں ہے۔

جب زندگی اور موت کے خالق اور فرمانروا نے فرما دیا کہ شہید زندہ ہیں تو کون ہے جو ان کا نام دفتروں کے رجسٹروں اور کتابوں سے کاٹے۔ پھر تو ان کی تنخواہ بھی جاری رہنی چاہیے جب حکومتی سطح پر اس چیز کا احساس دلایا گیا تو بات فوراً تسلیم کر لی گئی اور فیصلہ ہو گیا کہ شہیدوں کی تنخواہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک جاری رہیگی اور انکریمنٹ بھی لگا کرے گی مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ شہداء کے بوڑھے والدین اور ان کی بیوگان کو دفتروں کے چکّر کاٹنے پڑتے ہیں۔
صوبوں کے آئی جی صاحبان پر لازم ہے کہ وہ اس چیز کو یقینی بنائیں کہ شہداء کے پسماندگان کو تمام واجبات ان کے گھروں پر ہی وصول ہوں اور جس ضلعے میں انھیں دفتروں کے چکّر کاٹنے پڑیں اور کلرکوں کی منتّیں کرنی پڑیں وہاں ضلع سربرہ کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اگر کسی شہید کا والد یا بھائی کبھی پولیس کے ضلع سربراہ کو ملنے آئے تو پولیس کمانڈر انھیں انتظار کرائے بغیر فوری طور پر خوشدلی سے ملیں، انھیں اپنے دفتر میں پوری عزّت دیں، اچھی چائے پلائیں اور ان کا مسئلہ حل کرانے کی پوری کوشش کریں۔

یومِ شہداء پر ہر ضلع ہیڈکوارٹر میں تقریبات منعقد ہونی چاہئیں اور یہ تقریبات پولیس لائنوں کے بجائے ڈسٹرکٹ کونسل ہال یا کسی بڑے آڈیٹوریم میں منعقد ہوں جہاں شہداء کی فیمیلیز کے علاوہ ضلع کے نامور دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، صنعت و تجارت اور بارایسوسی ایشنز کے نمائیندوں، علمائے کرام اور نوجوان طلباء و طالبات کو بھی مدعو کیا جائے، ایسی تقریبات میں ٹاؤٹ یا بدنام لوگ ہرگز نظر نہیں آنے چاہئیں شہداء کی یاد میں منعقد کی جانے والی فوج کی تقریبات بڑی جاندار اور پُر اثر ہوتی ہیں، پولیس کو فوج کی تقریبات کی وڈیوز دیکھ کر اپنی تقریبات کا Format ان کے مطابق بنانا چاہیے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آج بھی شہداء کے لیے منعقد کی گئی تقریبات میں باون سال پہلے (سن پینسٹھ کی جنگ کے دوران) شہداء کے لیے لکھّے گئے لافانی نغمے گونجتے ہیں، اسمیں کوئی شک نہیں کہ سن پینسٹھ میں بھارت کے خلاف ہونے والی جنگ میں ملک کے شاعروں نے ایسے بے مثال نغمے تخلیق کیے اور موسیقاروں نے ایسی پاور فل دھنیں تخلیق کیں کہ وہ آج بھی ہر عمر کے لوگوں کے رگ و پے میں بجلیاں دوڑادیتی ہیں مگر ہمارے شعر و نغمہ کا میدان بنجر کیوں ہو گیا ہے؟ اس معیار کے نغمے پھر کیوں تخلیق نہیں ہو سکے؟۔

دلوں کے تار ہلا دینے والی اور نوجوانوں کو جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دینے والی دھنیں بنانے والے تخلیق کار کہا ں چلے گئے؟ چونکہ قوم کے محافظوں کے خون سے گلشنِ وطن کی آبیاری کا سلسلہ جاری ہے، اسلیے ان لازوال قربانیوں کی تحسین و توصیف کے لیے نئے نغمے تخلیق ہونے چاہئیں اور نئی دھنیں ترتیب دی جانی چاہئیں، ان تقریبات میں پیش ہونے والا شعر و نغمہ اعلیٰ معیار کا ہونا چاہیے، جو قوم کے بہادر سپوتوں کے عظیم کارناموں اور قربانیوں کے شایانِ شان ہو۔

سوال یہ ہے کہ اسقدر قربانیوں کے باوجود پولیس کو ایک نیک نام اور قابلِ احترام ادارے کی حیثیّت کیوں نہیں حاصل ہو سکی؟ پولیس یونیفارم عزّت کی علامت کیوں نہیں بن سکی؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ عوام اس وردی کو ناگوار نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اسلیے ہے کہ عوام کو پولیس سے کئی شکایات ہیں جن میں سے تین بڑی سنگین نوعیّت کی ہیں۔ پہلی یہ کہ پولیس ایماندار نہیں ہے، رشوت کے بغیر مظلوم کے آنسو پونچھنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ دوسرا یہ کہ عام آدمی کے ساتھ پولیس بدتمیزی اور بداخلاقی کے ساتھ پیش آتی ہے، اس کا روّیہ غیر ہمدردانہ ہے اور تیسرا یہ کہ پولیس کے زیادہ ترافسران قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کا قانون نافذ کرتے ہیں یعنی حکومت ِ وقت کے ذاتی نوکروں کا کردار ادا کرتے ہیں اور حکومتوں کے غیر قانونی احکامات بھی بجا لاتے ہیں۔

پولیس سب کی سانجھی ہونی چاہیے، سب کی ہمدرد، خیرخواہ اور غیر جانبدار لیکن عوام کو شکایت ہے کہ پولیس افسر صرف حکومتی پارٹی کے کام کرتے ہیں اور صرف انھیں ریلیف ملتا ہے۔ جو حکومتی پارٹی میں نہ ہوں انھیں انصاف کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں، دوسرے لفظوں میں پولیس اپنے سب سے بڑے Client یعنی عوام کے اعتماد سے محروم ہے۔ عزّت تو اعتماد سے بھی اگلا زینہ ہے۔ مختلف فورمز پر کئی بار کہا بھی ہے اور تحریر بھی کر چکا ہوں کہ پولیس کے دامن میں سب سے قیمتی اثاثہ ، شہداء کا خون ہے۔ شہید گاہے بگاہے اپنے لہوسے پولیس کے دامن پر لگے داغ صاف کرتے ہیں مگر کچھ بدبخت اہلکار رشوت خوری اوربددیانتی سے پولیس کا دامن پھر داغدار کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنے والے شہیدوں کے مقدّس خون کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔

ہر سطح کے پولیس کمانڈروں کو شہداء سے منسوب تقریبات میں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ “ہم کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوّث ہوکر شہداء کے خون کی توہین نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو توہین کرنے دیں گے”۔ آئی جیز دوٹوک الفاظ میں اعلان کریں کہ” کرپٹ اور حرام خور افسران پولیس کی یونیفارم پہننے کے مستحق نہیں ہیں، اُن سے وردی چھین لی جائے گی۔ محافظ کی یونیفارم صرف رزقِ حلال کھانے والوں کے جسم پر سجتی ہے اور وہی اس کے حقدار ہیں”۔

ذوالفقار احمد چیمہ

پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کیوں ؟

بارک شاہ ان دو پولیس افسروں میں شامل تھے جو چار دنوں کے مختصرعرصے میں کوئٹہ اور چمن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ مبارک شاہ کو کوئٹہ شہر میں دن دہاڑے تین محافظوں سمیت گھر کے قریب ہی مارا گیا۔ وہ 1985 میں بلوچستان پولیس میں بطور انسپیکٹر بھرتی ہوئے اور 2000 میں ایس پی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بڑے بیٹے عبد الستار کا کہنا ہے کہ اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ پشتونوں کے غیبزئی قبیلے میں اس عہدے پر پہنچنے والے واحد شخص تھے۔
عبد الستار کا کہنا ہے کہ ان کا رویہ گھر میں سب کے ساتھ دوستوں جیسا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘خطرات کے پیش نظر ان کو گھروالوں نے سیکورٹی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر انھوں نے کہا کہ میں نے کسی کے بچوں کو نہیں رلایا تو کوئی ان کے بچوں کو کیوں رلائے گا۔’

سنہ 2000 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے پولیس اہلکاروں پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب بھی جاری ہے۔ محکمۂ داخلہ حکومت بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 میں 111 پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ گذشتہ سال پولیس ٹریننگ کالج پر ہونے والے تین خود کش حملوں میں 61 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

سال ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار
2011 23
2012 46
2013 88
2014 35
2015 36
2016 111

رواں سال میں اب تک تین افسروں سمیت 15 سے زائد پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ پولیس اہلکار آسانی کے ساتھ کیوں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں، اس بارے میں سینیئرصحافی سلیم شاہد نے اس کی چند وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ‘پولیس اہلکار کسی گیریژن میں نہیں رہتے۔ وہ الگ بیرکوں میں بھی نہیں رہتے ۔ پولیس اہلکار عام آبادیوں میں رہتے ہیں اس لیے وہ آسانی کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔’ پولیس کے مطابق فورس کے اہلکاروں کی آسانی کے ساتھ ٹارگٹ بننے کی ایک وجہ تحفظ کے لیے جدید سہولیات کا فقدان ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مقتول ایس پی مبارک شاہ نے اعلیٰ حکام کو بلٹ پروف گاڑی کی فراہمی کے لیے تحریری درخواست دی تھی لیکن انھیں گاڑی فراہم نہیں کی گئی۔

تاہم ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ فورس کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے نشانہ بننے کی وجہ شہری علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’سب کو اندازہ ہے کہ اس جنگ میں ہم شہری علاقوں میں فرنٹ لائن پر ہیں۔ فوج ایک اور طریقے سے اس جنگ کو لڑ رہی ہے لیکن شہری علاقوں میں پولیس اور ایف سی فرنٹ لائن پر ہیں۔’ محکمۂ پولیس کے مطابق 2000 سے لے کر اب تک بلوچستان میں 835 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

محمد کاظم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

خانہ کعبہ کے اندر

اگر نیت صاف، دل ودماغ ’’مَیں‘‘ سے پاک اور کوئی ذاتی مفاد نہ ہو تو پھر ناممکن بھی ممکن ہو جائے۔ جب ایک نسبتاً گرم دن کے بعد آئی شام، رات میں ڈھل کرخنکی کی چادر اُوڑھ چکی، جب چائے، کافی اور قہوے کے دور چل چکے، جب وہ اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ا پنی اُس ملاقات کا بتا چکے کہ جو تھی تو آدھے گھنٹے کی اور جو شروع ہوئی انتہائی Tenseماحول میں مگر جاری رہی ڈھائی گھنٹے تک اور جس کا اختتام ہوا پرجوش معانقوں اورمحبت بھرے اندا زمیں، جب وہ دبئی کے حکمران شیخ محمد سے ہوئی اپنی ایک بہت ہی سود مند ملاقات کا حال سنا چکے، جب چینی قیادت سے ہوئی انکی ملاقاتوں پر گفتگو ہو چکی، جب قطر کے امیر کے گھر ایک کھلے ڈھلے ماحول میں ہوئی ایک لمبی نشست پر بات ہو چکی، جب انکا برطانوی دورہ بھی ڈسکس ہو چکا اور جب کلبھوشن سے احسان اللہ احسان تک ہر موضوع زیرِبحث آچکا.

تب مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو میں ہر بار پوچھنا بھول جاتا تھا ’’بحیثیت آرمی چیف سعودی عرب کے پہلے ہی دورے میں آپ کو خانہ کعبہ کے اندر جانے کی سعادت ہوئی، یہ کیسے ہو گیا ‘‘ میرے اس سوال پر اک عجیب سے اطمینان بھرے انداز میں صوفے سے ٹیک لگا کر چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولے ’ ’ سچی بات تو یہ کہ جس کا گھر، اسی کا کرم اور اسی کا بلاوا، ورنہ یہ پہلے سے طے نہیں تھا، دراصل ہوا یوں کہ ریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتوں کے بعد جب مدینہ آکر میں روضہ رسول ؐ پر سلام اور مسجد نبوی ﷺمیں نفل پڑھ کر فارغ ہوا تو سعودی باد شاہ کے پروٹوکول سربراہ جو پہلے میرےا سٹاف کو آگاہ کر چکا تھا، اس نے پھر ٹیلی فون پر مجھے بھی بتایا کہ’’ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خواہش پر عمرے کے بعد آپ کیلئے خصوصی طو ر پر کعبہ کا دروازہ کھولا جائے گا‘‘، یہ سنتے ہی میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور شکر ادا کرتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ خیر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرنے، شاہی مہمان خانے میں آکر احرام اتارنے، تھوڑی دیر آرام کرنے اور پھر عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سعودی شاہی فورس کا خصوصی دستہ ہمیں خانہ کعبہ کے دروازے تک لایا، جہاں سے میں اپنے وفد سمیت اللہ کے گھر کے اندر گیا ‘‘۔

سر باجوہ جونہی بات کرتے کرتے رُکے تو میں نے اگلا سوال کر دیا ’’کعبتہ اللہ میں جانے کیلئے جب آپ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، تب کیا احساسات تھے ‘‘، وہ قہو ے کا کپ اُٹھاتے ہوئے بولے ’’ بس بار بار اپنے گناہ گار ہونے اور اللہ کے گھر کے تقدس اور جاہ وجلال کا احساس ہو رہا تھا ‘‘ سر باجوہ نے رُ ک کر جیسے ہی قہوے کا گھونٹ بھرا تو میں نے ایک اور سوال کیا ’’خانہ کعبہ میں داخل ہو نے کے بعد کیا Feelings تھیں ‘‘لمحہ بھر کے توقف کے بعد وہ بولے ’’وہ Feelings لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتیں، وہاں پہنچ کر بھلا کسے ہوش رہتا ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے بندہ کسی اور ہی دنیا اور کسی اور ہی جہان میں پہنچ گیا ہو، وہاں جونہی یہ خیال آتا ہے کہ میں کہاں ہوں تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ‘‘.

اُنہوں نے بات مکمل کی تومیرا اگلا سوال تیار تھا ’’اللہ کے گھر میں داخل ہوتے وقت یا داخل ہو کر پہلی نظر پڑتے ہی کیا دیکھا اور اندر جا کر پہلا کام کیا کیِا ‘‘، اندر داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ کعبۃ اللہ کے ستونوں کے درمیان رسی پر بہت سارے برتن لٹکے ہوئے ہیں، یہ غالباً حضور ؐ کے دور یا اس سے بھی پہلے کے ہیں، باقی اندر جا کرمیں جیسے ہی نفل پڑھنے کیلئے ایک جگہ کھڑا ہوا تو سعودی شاہی گائیڈ مجھے ’’رکن یمنی ‘‘والی دیوار کے ساتھ ایک جگہ لے جا کر بولا ’’آپ یہاں نفل پڑھیں کیونکہ یہ مصلّیٰ رسولؐ ہے، حضورؐ یہاں نفل پڑھا کرتے تھے‘‘، میں نے پہلے وہاں نفل پڑھے پھر کعبۃ اللہ میں گھوم کر چاروں طرف نفل پڑھے اور پھر جب میں دعا مانگنے میں مصروف تھا تو اللہ کا مجھ پر ایک اور کرم ہوا کہ میرے لیئے کعبۃ اللہ کے اندر موجود ’’ توبہ کا دروازہ‘‘ بھی کھول دیا گیا اور میں نے باقی دعائیں وہاں جا کر کیں.

بات ختم کر کے غیر محسوس طریقے سے ٹشو سے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے سر باجوہ سے جب میں نے یہ پوچھا کہ ’’کوئی ایسی دعا جو آپ نے وہاں بار بار مانگی ہو‘‘توان کا جواب تھا ’’ویسے تو میں نے پاک فوج، اپنے شہداء، والدین، بچوں، رشتہ داروں اور دوست احباب کیلئے بھی بہت دعائیں کیں مگر خانہ کعبہ کے اندر میرے دل ودماغ پر پاکستان چھایا ہوا تھا، وہاں میں نے سب سے زیادہ دعائیں پاکستان کیلئے کیں اور مجھے اچھی طرح یاد کہ دعا مانگتے مانگتے جب میں یہاں پہنچا کہ ’’اے پاک پروردگار پُر امن اور مستحکم پاکستان کیلئے پاک فوج کی دی گئی قربانیاں رائیگاں نہ جانے دینا ‘‘تو میری جو کیفیت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے، یہاں میں یہ بھی ضرور بتانا چاہوں گا کہ ان لمحوں میں جب اندر میں اپنے ملک کیلئے دعائیں کر رہا تھا تو باہر کعبہ کا صحن نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، پاکستان زندہ باد اور پاک فوج پائندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا، میں عمر بھر یہ روح پرور لمحے نہیں بھلا سکتا، اِدھر سرباجوہ خاموش ہوئے اور اُدھر غیر ارادی طورپر جب میری نظر ان کے چہرے پر پڑی تو انکی آنکھیں پھر سے بھیگ چکی تھیں۔

صاحبو ! اُس رات نجانے کتنے موضوعات پر بات کر کے واپس آتے ہوئے بار بار میرے ذہن میں یہ خیال آرہا تھا کہ یہ نصیب نصیب کی بات کہ جو سعادت پچھلے دونوں چیفس کے حصے میں نہ آئی، وہ سعادت آتے ہی سرباجوہ کو حاصل ہو گئی، میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ بھلا کل تک کس کے وہم وگمان میں تھا کہ وہ کام جو پچھلے چیفس 9 سالوں میں نہ کر سکے، وہ جنرل قمر جاوید باجوہ صرف 5 مہینوں میں کر لیں گے، کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ صرف 150 دنوں میں اگر ایک طرف پنجاب میں رینجرز آپریشن شروع ہو جائے گا تو دوسری طرف 9 سالوں سے التوا میں پڑی مردم شماری کا آغاز ہو جائے گا، اگر ایک طرف کلبھوشن کو پھانسی کی سزا سنا دی جائے گی تو دوسری طرف عزیر بلوچ کا کیس فوجی عدالت میں آجائے گا اوراگر ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد لانچ ہو جائے گا تو دوسری طرف بیرونی محاذ پر افغان بارڈ مینجمنٹ پر عملی اقدامات سے لیکر دہشت گردوں کیخلاف افغانستان کے اندر 100 کلومیٹر تک کارروائی اور ہر محاذ پر بھارتی جارحیت کو منہ توڑ جواب بھی ملے گا.

اور پھر یہ کیا آسان کام ہے کہ صرف 5 مہینوں میں آرمی چیف کا نہ صرف اگلے مورچوں اور محاذوں پر لڑتے جوانوں سے دو تین بار ملنے پہنچ جانا، نہ صرف 150 دنوں میں ان کا پاکستان کا مقدمہ لے کر سعودی عرب، یو اے ای، چین، قطر اور برطانیہ سے بھی ہو آنا اور نہ صرف فاٹا میں جاری ترقیاتی کاموں سے لیکر سی پیک اور گوادر کی نگرانی کرنا بلکہ ریکوڈک کے معاملے سے لیکر پاک کی فوج کی جدید خطوط پر تربیت تک سب کچھ کر جانا، یہی نہیں، آگے بھی سنتے جایئے، گو کہ چھٹی والے دن بھی رات 3 تین بجے تک کام کرتے اور پاکستان میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنے کے خواہش مند جنرل باجوہ ان موضوعات پر نہیں بولتے مگر اب یہ سب کو معلوم ہو چکا کہ جنرل راحیل شریف کو زمین کے مسئلے سے نکالنے اور ان کے مسلم افواج کے کمانڈر بننے کے ڈی ٹریک ہو چکے معاملے کو پھر سے ٹریک پر لانے کا کریڈٹ بھی سر باجوہ کو ہی جائے اور پھر ہر قسم کی ٹوئٹ بازی اور کریڈٹ بازی کے چکروں سے دور بڑی خاموشی سے مختلف محاذوں پر بیک وقت ہوش اور جوش سے کام کرتے جنرل قمر باجوہ کی ملک سے محبت کا اندازہ لگائیے کہ جب امیرِ قطر انہیں کہتے ہیں کہ ’’برادر بتایئے میں آپ کیلئے کیا کر سکتا ہوں ‘‘ تو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ امیرِ قطر سے کہہ دیتے ہیں کہ ’’جتنا زیادہ ہو سکے میرے ملک کے بے روزگاروں کو قطر میں روزگار دیں ‘‘ اور جو گارڈ آف آنر کے بعد سڑک کے کنارے چلتے ہوئے برطانوی فوج کے چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دیں کہ ’’وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے حالات بھی ایسے ہو ں گے کہ میں بھی آپکو اسی طرح وہاں سیکورٹی کے بنا آزادانہ گُھما پھرا سکوں گا‘‘۔ صاحبو! میں تو جب بھی گھکھڑ منڈی سے کعبہ شریف میں توبہ کے دروازے تک حیرت انگیز کامیابیوں بھرا یہ سفر دیکھتا ہوں تو اللہ کے فضل کے بعد مجھے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہی کہ اگر نیت صاف، دل ودماغ ’’مَیں‘‘ سے پاک اور ذاتی ایجنڈا نہ ہوتو پھر ناممکن بھی ممکن ہو جائے۔

ارشاد بھٹی

راحیل شریف امت کے اتحاد کا سبب بنیں گے

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کا
کہنا ہے کہ ‘ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کےقریب لائیں گے‘۔ انھوں نے یہ بات پاکستان کی بحری سکیورٹی سے متعلق چیلنجز پر اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے 39 مسلم ممالک پر مشتمل سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘اتحاد مخالف ممالک’ کو اطمینان ہونا چاہیے کہ ‘اس اتحاد کی کمان جنرل راحیل شریف جیسے فوجی کے ہاتھ میں ہو گی۔’

ان کے خیال میں اگر جنرل راحیل یہ عہدہ قبول کرلیتے ہیں تو وہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات ختم کرنے اور دونوں ملکوں کو قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔ جنرل جنجوعہ کے بقول راحیل شریف ‘امت مسلمہ کے اتحاد کا سبب بنیں گے۔’ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو دہشت گردی کے خلاف 39 مسلم ممالک کے اتحاد کا سربراہ بننے سے متعلق اجازت نامے کے اجرا کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف کر چکے ہیں۔ دسمبر 2015 میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 30 سے زیادہ اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک تھے تاہم بعد ازاں ان کی تعداد 39 ہو گئی۔

لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کے مطابق اس اتحاد کی سربراہی کے معاملے پر ‘ذاتی حملوں سے گریز کرتے ہوئے دور رس نتائج پر نظر رکھنا ہوگی’۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف ‘اپنے تجربے اور فکر سے مسلم ممالک کی باہمی غلط فہمیوں کو دور کریں گے’۔ مشیر قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے انڈیا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا نے دو فرنٹ کھول رکھے ہیں جو ‘گھاٹے کا سودہ’ ہے کیونکہ یہ دونوں محاذ ‘ایٹمی طاقتوں’ یعنی چین اور پاکستان کے خلاف ہیں۔ مشیر قومی سلامتی کے مطابق پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب ‘ کاؤنٹر ٹیررازم ‘ تھا، جبکہ آپریشن رد الفساد ‘انتہا پسندانہ سوچ’ کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر کام جاری ہے جو کہ مذہبی انتہا پسندانہ بیانیے سے متعلق ہے۔ اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ‘مدارس کے حوالے سے جلد ایک اچھی خبر’ سنائیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مدرسہ اصلاحات پر کس حد تک کام کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘نفرت انگیز مواد کا خاتمہ بھی قومی ایکشن پلان کا حصہ ہے’، مگر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انٹرنیٹ پر موجود توہین آمیز مواد کے خاتمے کے لیے وزارت داخلہ کام کر رہی ہے جسے ان کی ‘مکمل حمایت’ حاصل ہے۔

فرحت جاوید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاک آرمی کے ساتھ ایک دن

pakistan-army

میجر حارث کی پیش کش کو ٹھکرایا نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 7 فروری کو ہم آپ کو آرمی کے جوانوں سے ملوانا چاہتے ہیں اور دکھائیں گے کہ وہ کس طرح دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہر دم کوشاں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کو گنڈا سنگھ بارڈر پر بھی لے جایا جائے گا، جہاں واہگہ بارڈر کی طرز پر ہر روز پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مَیں مقررہ مقام پر پہنچا تو وہاں بہت سے اجنبی چہرے دکھائی دیئے جو سویلین لباس میں تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی تو پتا چلا کہ یہ تمام احباب سول سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں بینکار، صنعت کار، تاجر اور وکلاء شامل تھے۔ ادیبانہ اور شاعرانہ چہرہ ایک بھی نہیں تھا۔ اتنے میں ایک صاحب بہت تیزی سے میری طرف آئے اور بولے: ’’شکر ہے کہ یہاں آپ موجود ہیں۔ اب مَیں سارا دن آپ کے ساتھ ہی رہوں گا‘‘۔ یہ اردو اور پنجابی زبان کے شاعر انیس احمد تھے۔ ان کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا۔ مجھے اپنا ایک شعر یاد آ گیا:

ناصر بشیر خود کو اکیلا ہی پاؤ گے

لوگوں میں ڈھونڈتے رہے گر اپنے جیسی بات5404febaceb3f

اسی اثناء میں مجھے ایک نہایت خوب صورت نوجوان، صاف ستھری فوجی وردی میں دکھائی دیا۔ یہی میجر حارث تھے جن کی دعوت پر مَیں یہاں پہنچا تھا۔ یادگارِ شہدا کے چبوترے پر نہایت چاق چوبند سپاہی بھاری رائفلیں تھامے کھڑے تھے۔ چند لمحوں کے بعد لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز آ گئے۔ وہ سویلین میں بالکل اسی طرح گھل مل گئے جس طرح ہمارے سیاسی زعمائے کرام فیصل مسجد یا بادشاہی مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد گھل مل جاتے ہیں۔ ابھی ہم ان کی رعب دار شخصیت کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس ایک اور صاحب آ گئے۔ میجر حارث اور لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز نے انہیں پروٹوکول دیا تو مَیں سمجھ گیا کہ یہ یقیناًان کے سینئر ہیں۔ یہ بریگیڈیئر عمران نقوی تھے۔ فوج کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ اس میں جونیئرز اپنے سینئرز کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں اور ان کے اشارے کو بھی حکم سمجھتے ہیں اور جہاں سینئر افسر موجود ہو، وہاں جونیئر اس سے کچھ فاصلے پر رہتے ہیں۔

مَیں چونکہ شاعر ہوں، اس لئے شاعروں کی مثال دوں گا کہ اب ادبی دنیا میں سینئر جونیئر کا فرق مٹ گیا ہے۔ نئے شاعر اپنے سینئرز کی نشستوں پر زبردستی قبضہ کر لیتے ہیں۔ نوجوان شاعر تقریب میں وقت پر آ جائیں تو اگلی نشستوں پر براجمان ہو جاتے ہیں جو سینئر ادیبوں شاعروں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔ صرف ادبی دنیا کا ہی نہیں، ہماری سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ کوئی بڑا سیاسی راہنما کہیں موجود ہو تو نووارد سیاست دان سینئر اور تجربہ کار سیاست دانوں کو پرے دھکیل کر خود اپنے رہنما کی بغل میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہاں موجود کیمروں کی آنکھیں انہیں دیکھ لیں تا کہ وہ بھی ٹیلی ویژن سکرین پر کچھ ثانیوں کے لئے ہی سہی، جلوہ گر ہو سکیں۔ میجر حارث نے میجر علی سے بھی ملوایا جو آئی ایس پی آر میں ہوتے ہیں۔ جب انہیں علم ہوا کہ یومِ یک جہتی کشمیر پر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نغمے میں پہلے دو شعر میرے ہیں تو ان کی گرم جوشی مزید بڑھ گئی۔ میرے دو شعر آپ بھی دیکھ لیجئے:

کشمیر! ترا حسن ہوا درد کی تصویر

آنسو ہیں تری آنکھ میں، پیروں میں ہے زنجیر

وہ کہتے ہیں آزادی کو اک خواب ہی سمجھو

ہم کہتے ہیں ہر خواب کی اک ہوتی ہے تعبیر

سانحۂ پشاور پر بھی آئی ایس پی آر نے دو نہایت شان دار نغمے جاری کئے تھے  لیکن یوم یکِ جہتی کشمیر پر ریکارڈ کیا گیا نغمہ ان کے معیار تک نہیں پہنچا۔ میرے دو شعر تحت اللفظ میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور مشہور

 شعر تحت اللفظ میں شامل کیا گیا ہے:

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ ریکارڈ کرنے والوں نے میرے دو شعروں میں بھی ایک غلطی کی اور اس شعر میں بھی غلطی کر دی۔ دوسرا مصرع یوں کر دیا:

جنت کسی کافر کو نہ ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ سنتے ہی مَیں نے آئی ایس پی آر اسلام آباد میں تعینات اپنے دوست یوسف عالمگیرین سے رابطہ کیا اور انہیں ان اغلاط سے آگاہ کیا۔ مَیں نے انہیں یہ کہا کہ نغمہ ریکارڈ کرنے سے پہلے مجھ سے نہ سہی، کسی اور شاعر سے رابطہ کر لیا جاتا تا کہ غلطی کا احتمال نہ رہتا۔ جو گانا گلوکار سے گوایا گیا ہے،اس کی شاعری کسی بحر میں نہیں ہے۔ میری اس بات کو آپ جملہ معترضہ جان لیجئے۔ کالم کا اصل موضوع تو آرمی کے ساتھ گزرے ہوئے دن کی روداد بیان کرنا ہے۔ یادگار شہدا سے تمام دوستوں کو محفوظ شہید گیریثرن لے جایا گیا۔ ٹینکوں کی سواری ، فائرنگ اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں سے نمٹنے کی مشقیں دیکھ کر دل کو یقین ہونے لگا کہ ہمارا ہر آتا ہوا دن بہتر سے بہتر ہوگا۔ وہاں سے کورہیڈ کوارٹر پہنچے ۔ جہاں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صادق علی ( بلال امتیاز) نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان کے قیام کے لئے بہادر پاکستانی افواج کی طرف سے کی جانے والی کامیاب کوششوں کے حوالے سے تفصیل سے معلومات دیں۔

انہوں نے وکلا، تاجروں، صنعت کاروں اور بینکاروں کے انتہائی تلخ سوالوں کے جوابات نہایت خندہ پیشانی سے دیئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یومِ کشمیر پر جاری کئے گئے نغمے میں میرے دو شعر شامل ہیں تو انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور حاضرین سے تالیاں بجوائیں۔ پُر تکلف چائے پینے کے بعد ہمیں قصور لے جایا گیا۔ ہماری بسوں کے آگے پیچھے فوجی گاڑیاں تھیں جو غالباً ہماری سیکیورٹی پر مامور تھیں۔ ظہرانے میں دیگر کھانوں کے ساتھ قصور کی تو ے والی مچھلی بھی وافر مقدار میں رکھی گئی تھی۔ مہمانوں کو جی بھر کے کھانا کھانے دیا گیا، کسی افسر نے کھانے کے آغاز میں جینٹل مین بسم اللہ کہا، نہ ختم کرنے کے لئے جینٹل مین الحمد للہ کہا۔ کرنل اشفاق حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فوجی میس میں اس وقت تک کھانا شروع نہیں کیا جاتا جب تک وہاں موجود سینئر افسر جینٹل مین بسم اللہ نہ کہے اور کھانے کے دوران میں جب وہی افسر جینٹل مین الحمد للہ کہے تو سب کو اپنا ہاتھ روکنا پڑتا ہے۔

کھانے کے بعد گنڈا سنگھ بارڈر پر پہنچے۔ جہاں پرچم اتارنے کی تقریب ہو رہی تھی۔ ہمارے لئے پہلے سے نشستیں مخصوص تھیں۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی لکیر کے عین اُوپر ایک بلی بیٹھی تھی۔ وہ کبھی پاکستانی فوجیوں کی طرف دیکھتی اور کبھی بھارتی فوجیوں کی طرف۔ وہ دراصل ان کے پاؤں کی دھمک سے خوفزدہ تھی۔ مَیں نے محسوس کیا کہ بھارتی فوجی اس بلی کو دیکھ کر بھیگی بلی بنے ہوئے تھے۔ بلی نے بھارت کی طرف جانا چاہا تو بھارتی فوجیوں نے اشاروں سے اسے پاکستان کی طرف دھکیل دیا۔ یہ وہی بھارتی فوج ہے جو ایک معمولی سے کبوتر سے بھی ڈر جاتی ہے۔ میرا یہ دن تھکا دینے والا تھا، لیکن فوجیوں کی مشقت بھری زندگی کی مصروفیات دیکھ کر مَیں مطمئن تھا کہ میرا پاکستان محفوظ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر اگر کوئی دیوار ہے تو وہ پاک آرمی ہے جس نے تمام خطروں کو روکا ہوا ہے۔

ناصر بشیر