Pakistan Military Academy Kakul’s passing out parade …

Pakistan Military Academy Kakul’s passing out parade …

 

 

 

 

 

 

Advertisements

Wagah Border Flag Lowering Ceremony

Corps Commander Lahore Lieutenant General Naweed Zaman along with other senior civil and military officers witnessing flag lowering ceremony amongst spectators at Wagha border.

سی ویو کراچی پر پاکستان اور برطانیہ کے پائلٹوں کا شاندار ایئرشو کا مظاہرہ

شہر قائد میں پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کی خوشی میں سی ویو پر رنگا رنگ ائیر شو کا انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کی فضائیہ کے ماہر پائلٹوں نے شاندار کرتب دکھا کر حاضرین کے دل جیت لیے ۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ساحل سمندر پر پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیارے اور برطانیہ کے رائل ایئرفورس کی ریڈ ایروز ایئروبیٹک ٹیم فضائی مظاہرہ پیش کیا۔ کراچی کے ساحل پر پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے سلسلے میں فضائی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔

تقریب میں پاک فضائیہ کے افسران سمیت گورنر سندھ اور صوبائی حکومتی شخصیات بھی شریک ہیں۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں اور برطانیہ کے رائل ایئر فورس کی ریڈ ایروز ایئروبیٹک ٹیم کا فضائی مظاہرہ دیکھنے کے لئے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر ماہر پائلٹوں نے پیشہ وارانہ طریقے سے انتہائی خوبصورت انداز میں فارمیشنز بنا کر فضاء میں رنگ بھی بکھیرے ۔ پائلٹوں کے فضاء میں کرتب دیکھ کر حاضرین خوب لطف اندوز ہوئے ۔

 

Pakistan, Russia Begin ‘Friendship 2017’ Joint Anti-terror Drill

Pakistani and Russian military commandos have launched joint counterterrorism drills in the mountains and forests of Russia’s North Caucasus republic of Karachaevo-Cherkessia. The two-week-long exercise dubbed as “Friendship 2017” involves more than 200 mostly special forces from both countries who will conduct joint “hostage rescue” and “cordon-and-search” operations, according to the Pakistani military. “The joint exercise will enhance and further strengthen military ties between the countries and share Pakistan army’s experience in war against terrorism,” it added. Meanwhile, a nearly three-week-long joint air force exercises China is hosting with Pakistan are due to conclude this week. A spokesman for the Chinese air force described them as “routine” exercises.

Pakistan’s deepening political, economic and defense ties with traditional ally China and its emerging new alliance with Russia come amid Islamabad’s increasingly uneasy and strained relations with the United States. The tensions stem from persistent U.S. allegations that Pakistan is not doing enough to prevent terrorist groups on its soil from undertaking deadly attacks against American troops in Afghanistan or from undermining peace-building efforts in the war-ravaged country. Bilateral ties have plunged to new lows following U.S. President Donald Trump’s policy speech last month that accused Islamabad of not ending terrorist safe havens on its soil. U.S. officials have also threatened, among other punitive measures, to degrade Pakistan’s status of a major non-NATO ally.

 

Islamabad promptly rejected the charges, saying no sanctuaries exist on Pakistani soil because of sustained security operations. It asserted Washington was “scapegoating” Pakistan because of its own “failures” in ending the Afghan war. Pakistan hosted the inaugural round of the counterterrorism drills with Russia late last year, their first-ever joint military exercise. The drills stem from a defense cooperation agreement the two countries signed in 2014, lifting a long-running Russian embargo on arms sales to Pakistan. The deal paved the way for the sale of Mi-35 combat helicopters to Islamabad, despite objections by India, Moscow’s longtime ally and Pakistan’s archenemy.
The October 4 conclusion of the drills is expected to coincide with an official visit to Russia by Pakistan army chief, General Qamar Javed Bajwa. Foreign Ministry spokesman Nafees Zakaria said the visit is a regular high-level exchange between the two sides that “has set the stage for translating political goodwill into a substantial partnership, in particular, in the field of defense.”

پاکستان اور روس کی مشترکا کمانڈوز مشقیں شروع ہو گئیں

پاکستان اور روس کے درمیان دو ہفتوں پر محیط مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز روس میں ہو گیا ہے۔ ’’دروزبہ‘‘ نامی یہ مشقیں روس کے شہر منرالینی میں ہو رہی ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کے مطابق ان مشترکہ فوجی مشقوں کی افتتاحی تقریب میں دونوں ملکوں کی اسپیشل فورسز کے سینیئر افسران شریک ہوئے۔ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن، یرغمال بنائے گئے افراد کی بازیابی اور سرچ آپریشن سے متعلق کارروائیاں ان فوجی مشقوں کا محور ہیں۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق مشترکہ فوجی مشقوں سے دونوں ملکوں کے درمیان عسکری روابط مزید مضبوط ہوں گے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق اپنے تجربے کا تبادلہ روسی فورسز سے کرے گا۔

گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان اور روس کے درمیان پہلی مشترکہ فوجی مشقیں پاکستان میں ہوئی تھیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے عسکری تعلقات کے لیے اہم قرار دیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں 2014ء کے بعد سے نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسی سال روس نے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی جس کے بعد ماسکو نے اسلام آباد کو لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے گزشتہ ہفتے ہی نیوز بریفنگ میں بتایا تھا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں روس کا دورہ طے ہے۔ اس دورے میں بھی دفاع کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی جائے گی۔

پاک بحریہ کا جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستانی بحریہ نے سنیچر کو شمالی بحیرہِ عرب میں بحری جہاز شکن فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ سی کنگ ہیلی کاپٹر نے کھلے سمندر میں یہ مظاہرہ کیا اور کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔ اس موقعے پر پاکستانی بحریہ کے سربراہ محمد زکا اللہ نے مظاہرے کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا سی کنگ ہیلی کاپٹر سے میزائل کا کامیاب مظاہرہ پاکستانی بحریہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جنگی تیاری کا واضح ثبوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی بحریہ اپنے وطن کی سالمیت اور مفادات کا ہر قیمت ہر دفاع کرے گی۔ یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستانی بحریہ نے آبدوز سے کروز میزائل ‘بابر تھری’ کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ بابر تھری کروز میزائل کا تجربہ بحیرہ ہند سے کیا گیا جس نے خشکی میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس کروز میزائل بابر تھری 450 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل زیر سمندر موبائل پلیٹ فارم سے لانچ کیا گیا تھا۔ میزائل بابر تھری کئی قسم کے جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نچلی پرواز کرسکتا ہے۔

 

Nation solemnly remembers the heroes and martyrs of 1965 war

Defence Day of Pakistan marking the 52nd anniversary of the 1965 war is being celebrated with traditional fervour and solemnity across the country. The day began with special prayers for the progress and prosperity of Pakistan, followed by the change of guards ceremonies at the mausoleums of Allama Iqbal in Lahore and Quaid-i-Azam in Karachi, and a ceremony at the Pakistan Navy headquarters in Islamabad. A smartly attired contingent of Pakistan Air Force (PAF) cadets assumed the responsibility of security during an impressive ceremony with Air Vice Marshal (AVM) Imran Khalid as the chief guest on the occasion.
Meanwhile, all the formations and units of the Lahore Garrison also observed Defence Day with solemnity and remembrance and paid tributes to the martyrs of 1965 war. Corps Commander Lahore General Sadiq Ali visited Ravi Siphon near Batapur and laid floral wreath on the monument of 1965 War’s martyrs. The highlight of the day will be a function tonight at General Headquarters in Rawalpindi to pay tribute to the martyrs.

 

 

 

 

 

 

 

 

سنہ 1965 کی جنگ میں ’جب پاکستانی بمباری سے ڈر کر انڈین کمانڈر کھیتوں میں چھپ گئے‘.

سنہ 1965 کی جنگ کے دوران لاہور محاذ پر انڈین فوجیوں کو ابتدائی کامیابی تو مل گئی تھی لیکن زمین پر حالات بہت اچھے نہیں تھے۔ میجر جنرل نرنجن پرساد کی 15 ڈویژن میں زبردست افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ مغربی کمان کے سربراہ جنرل ہربكش سنگھ کو جب وائرلیس پر جنرل نرنجن پرساد کا پیغام ملا کہ ان کی ڈویژن پر پاکستان کی دو ڈوژنوں نے حملہ کیا ہے اور ان کی بریگیڈ کو اچّھوگل نہر سے سات کلومیٹر واپس گوسلگيال تک ہٹنا پڑا ہے، تو وہ حیران رہ گئے۔
انھوں نے جنرل نرنجن پرساد کو پیغام بھیجا کہ چاہے جو ہو جائے آپ اپنی پوزیشن سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میں اور کور کمانڈر آپ سے ملنے آپ کے ٹھکانے پر ہی آ رہے ہیں۔

جنرل ہربكش سنگھ نے ڈرائیور کو جیپ کے پیچھے بیٹھنے کو کہا اور خود ڈرائیو کرنے لگے۔ جب وہ جی ٹی روڈ پر پہنچے تو وہاں کا نظارہ دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔ ہر جگہ انڈین گاڑیاں جل رہی تھیں۔ سڑک پر پاکستانی جہازوں کی بمباری سے بڑے بڑے گڑھے بن گئے تھے اور پاکستانی طیارے بھی اوپر اڑ رہے تھے۔
جنرل ہربكش سنگھ اپنی سوانح عمری ان دی لائن آف ڈیوٹی میں لکھتے ہیں، ’ہم دیکھ رہے تھے کہ 15 ڈویژن کی گاڑیاں سڑک پر ادھر ادھر پڑی ہوئی تھیں۔ ان کے ڈرائیور انہیں چھوڑ کر بھاگ چکے تھے۔ بہت ٹرینوں کے تو انجن تک بند نہیں کیے گئے تھے۔ سڑک کے بیچو بیچ ایک ہتھیار بند گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ اس میں کوئی نہیں تھا لیکن چابی لگی ہوئی تھی۔ میں نے اسے سڑک سے ہٹوا کر کنارے لگوایا۔‘

ہربكش سنگھ کو ڈویژنل ملٹری پولیس کی ایک گاڑی گنے کے ان کھیتوں کے پاس لے گیا جہاں 15 ڈویژن کے کور کمانڈر میجر جنرل نرنجن پرساد پاکستانی بمباری سے بچنے کے لیے رو پوش تھے۔ ہربكش سنگھ لکھتے ہیں، ’جب جنرل نرنجن پرساد مجھے ریسیو کرنے آئے تو ان کے جوتے کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے۔ ان کے سر پر ٹوپی نہیں تھی اور انھوں نے داڑھی بھی نہیں بنائی ہوئی تھی۔ ان کی وردی پر ان کا عہدہ بتانے والے سارے نشانات غائب تھے۔ میں نے ان کو اس حال میں دیکھ کر براہ راست سوال کیا آپ ڈویژن کے جنرل افسر کمانڈنگ ہیں یا قلی؟ آپ نے داڑھی کیوں نہیں بنائی ہے اور آپ کی رینک کے بیج کہاں ہیں؟‘

ابھی یہ سوال جواب چل ہی رہے تھے کہ دو پاکستانی جنگی طیارے بہت نیچے پرواز بھرتے ہوئے ان کے سر کے اوپر سے گزرے۔ جنرل نرنجن پرساد نے جنرل ہربكش سنگھ کو پاس کی جھاڑی میں کھینچنے کی کوشش کی۔ ہربكش سنگھ نرنجن پرساد پر زور سے چلائے اور بولے ’دشمن کے جہازوں کی ہم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ویسے بھی وہ ہمیں نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ وہ ان گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں آپ نے سڑک پر یوں ہی چھوڑ دیا ہے۔‘ جنرل ہربكش نے نرنجن پرساد سے پوچھا، ’آپ کے بریگیڈ کمانڈر کہاں ہیں؟‘

ہربكش نے ان سے پوچھا، ’آپ لوگ کہاں ہیں؟‘ نرنجن پرساد نے آواز لگائی ’پاٹھک، پاٹھک۔‘ جب پاٹھک وہاں پہنچے تو ان کا چیہرہ سفید تھا۔ پاٹھک نے کہا ‘وہ لوگ واپس آ رہے ہیں لیکن بہت لوگوں کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے وہ غیر فعال ہو گئے ہیں۔‘ ہربكش نے پوچھا، ’کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں؟ پاٹھک نے جواب دیا 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جنرل ہربكش سنگھ نے کہا، ’4000 میں سے صرف 30 افراد زخمی ہیں اور آپ کہہ رہے ہے مکمل بریگیڈ غیر فعال ہو گئی ہے؟‘ جنرل ہربكش سنگھ نے انہیں نئے سرے سے آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ انھوں نے جنرل نرنجن پرساد سے کہا کہ وہ بریگیڈ کی پیش رفت پر نظر رکھیں اور اگلی صبح کور کمانڈر کو آپریشن کی اطلاع دیں۔

1965 کی جنگ
سات ستمبر کو نرنجن پرساد اپنی بریگیڈ کی پوزیشن جاننے کے لیے اے ڈی سی کے ساتھ ایک جیپ پر سوار ہو کر آگے بڑھے۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ ان پر پاکستانیوں نے میڈیم مشین گن سے فائر کیا۔ نرنجن پرساد اور ان کے ڈی سی گاڑی چھوڑ کر قریب کے کھیتوں میں چھپ گئے۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے انھوں نے پیچھے آنے والی جیپ کا استعمال کیا۔ ان جیپوں میں سوار لوگوں سے پیدل واپس آنے کے لیے کہا گیا۔ انھوں نے اپنی جیپ وہیں کھیتوں میں چھوڑ دی جس میں ان کا ایک بریف کیس رکھا ہوا تھا۔ اس میں کئی اہم کاغذات بھی تھے۔ جیپ پر ڈویژن کا جھنڈا اور سٹار پلیٹ بھی لگی ہوئی تھی۔

بعد میں یہ جیپ پاکستانی فوجیوں کے ہاتھ لگ گئی اور ریڈیو پاکستان نے بریف کیس میں رکھے کاغذات نشر کرنا شروع کر دیے۔ ان کاغذات میں جنرل ہربكش سنگھ کے خلاف فوجی سربراہ سے کی گئی شکایت بھی تھی۔ 11 ویں کور کے کمانڈر، نرنجن پرساد کی اس غلطی کے لیے ان کا کورٹ مارشل کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل چوہدری نے نرنجن پرساد سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا۔ ان کی جگہ میجر جنرل موہندر سنگھ کو 15 ڈویژن کا نیا کمانڈر بنایا گیا۔ بعد میں جنرل نرنجن پرساد نے جنرل جوگندر سنگھ کو دیے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی کہ انھوں نے جیپ میں کوئی اہم کاغذ چھوڑے تھے۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا، ’میں جیپ میں صرف ایک پیڈ چھوڑ کر آیا تھا۔ بعد میں میرے افسروں نے مجھے اس معاملے پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور میرے خلاف انکوائری اس شخص کو سونپی گئی جس کی خفیہ رپورٹ میں میں نے اس کے خلاف لکھا تھا۔‘ جوگندر سنگھ اپنی کتاب ’بیہائنڈ دا سین’ میں جنرل نرنجن پرساد کا دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نرنجن کو اس لیے نہیں برطرف کر دیا گیا کہ وہ ایک بزدل کمانڈر تھے بلکہ اس لیے کہ وہ ایک ’ڈیفیكلٹ سب آرڈینیٹ‘ تھے۔ جوگندر سنگھ اور ہربكش سنگھ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن کچھ غیر جانبدار مبصرین جیسے میجر کیسی پرول اور میجر آغا ہمايوں امین کا خیال ہے کہ نرنجن پرساد کی ڈویژن نے بہتر مواقع کو ہاتھ سے نکل جانے دیا اور ان کی وجہ سے انڈیا کی کافی سبکی ہوئی۔

ریحان فضل
بی بی سی ہندی، دہلی

چینی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم پاک فوج کے دفاعی نظام میں شامل

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں چینی ساختہ لوٹو میڈیم  آلٹی ڈیوڈ ائیرڈیفنس سسٹم شامل کرلیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج میں دور تک کم اور درمیانی بلندی میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے والا نیا ائیرڈیفنس سسٹم شامل کر لیا گیا ہے۔ جس کے لئے راولپنڈی کے آرمی آڈیٹوریم میں تقریب ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ نئے ائیرڈیفنس سسٹم کے حصول کے بعد ہمارا دفاع مضبوط اورطاقت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور یہ سسٹم دور حاضر اور مستقل میں ائیرڈیفنس کے خطرات کا جواب دینے کے لئے فوج کا معاون اور مدد گار ثابت ہو گا۔

آئی ایس پی آرکے مطابق پاک فوج میں شامل کیا گیا ائیرڈیفنس سسٹم چینی ساختہ اور لوئر ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ ہے۔ ائیرسسٹم فضائی اہداف پرنظررکھنے اورانہیں ڈھونڈ کرتباہ کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ہے جب کہ ایل وائی 80 کے ذریعے لو ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ پر اڑنے والے دورتک کے اہداف کو باآسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔