جے ایف 17 تھنڈر طیارے فضائیہ کے بیڑے میں شامل

چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے 16 جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے فضائی بیڑے میں شامل کر لیے گئے۔ ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق طیاروں کو پاکستان ایئر فورس کے 14 اسکوارڈن میں شامل کرنے کی تقریب کامرہ ایئربیس پر منعقد ہوئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بطور خصوصی مہمان شرکت کی۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل سہیل امان سمیت پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے، تقریب کے آغاز میں پاک فضائیہ کے عملے نے وزیر دفاع کو سلامی پیش کی۔ نئی خصوصیات اور جدید آلات سے آراستہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان اور چین کے اشراک سے تیار کیے گئے ہیں۔

تقریب کے دوران طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کا بھی مظاہرہ کیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے طیارے میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا۔ چین کی مدد سے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن کے حامل ملٹی رول طیارے ہیں جو آواز کی رفتار سے دوگنا زیادہ رفتار سے 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے فضا میں ری فیولنگ، ڈیٹا لنک، توسیعی الیکٹرانک وارفیئر اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاک فضائیہ کے پاس پہلے ہی 70 سے زائد جے ایف 17 تھنڈر طیارے موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ ان طیاروں کی خرید و فروخت کے معاہدے کیے۔ رواں ماہ یکم فروری کو امریکی خبر رساں ادارے یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمار کی حکومت جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول جنگی طیاروں کا ملکی ورژن بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ ہو جاتا ہے، تو میانمار، پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی سرکاری ایرو اسپیس کارپوریشن کے تعاون سے سنگل سیٹ پر مشتمل جے ایف 17 طیارے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔

اس سے قبل جون 2015 میں غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان ایئرفورس کے ترجمان ایئر کموڈور سید محمد علی شاہ کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا تھا کہ پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا ایک آرڈر حاصل کر لیا ہے، تاہم انھوں نے اس آرڈر کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ نومبر 2015 میں چینی اخبار ’چائنا ڈیلی‘ نے اپنی رپورٹ میں سینئر چینی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایوی ایشن انڈسٹری کارپ آف چائنا (ایوک) اور پاکستان ایرو ناٹیکل کامپلکس کا دبئی ایئر شو کے دوران نامعلوم خریدار سے جے ایف 17 فائٹر جہاز کی فروخت کا معاہدہ طے پا گیا۔

دبئی ایئر شو 2013 میں بھی پاکستان کے جے ایف تھنڈر اور سپر مشاق طیارے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے تھے، اس موقع پر دنیا بھر کے ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے تھے۔

پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر نے ٹیکنالوجی میں امریکی ایف 16 کو مات دے دی

پاکستان کے مایہ ناز لڑاکا طیارے ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ کے جدید ترین ورژن ’’بلاک 3‘‘ کے ڈیزائن کو حتمی شکل دی جاچکی ہے جس کے بعد یہ چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں سے بھی زیادہ جدید ہوجائے گا اور اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف/اے 18 اور ایف 15؛ روس کے سکھوئی 27؛ اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کا انجن زیادہ طاقتور ہوگا جس کی بدولت یہ آواز کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ رفتار (Mach 2.0+) سے پرواز کرسکے گا۔ اس میں خاص قسم کے کم وزن لیکن مضبوط مادّے استعمال کئے جائیں گے جو ایک طرف اس کا مجموعی وزن زیادہ بڑھنے نہیں دیں گے جبکہ دوسری جانب اسے دشمن ریڈار کی نظروں سے بچنے میں مدد بھی دیں گے۔

جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ ایسے جدید ترین ریڈار (اے ای ایس اے ریڈار) سے بھی لیس ہوگا جسے جام کرنا دشمن کے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کےلئے انتہائی مشکل ہوگا۔ پائلٹ کا ہیلمٹ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا جو طیارے کے اطراف سے بہتر واقفیت کے علاوہ ہتھیاروں پر بہترین کنٹرول کی صلاحیت بھی دے گا۔ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ میں طویل فاصلے پر موجود زمینی اہداف کا بہتر نشانہ لینے کےلئے خصوصی آلہ (ٹارگٹنگ پوڈ) بھی اضافی طور پر نصب ہوگا؛ جبکہ اسے زمینی یا فضائی اہداف کو اُن سے خارج ہونے والی گرمی کی بنیاد پر شناخت کرنے اور نشانہ باندھنے والے نظام (آئی آر ایس ٹی) سے بھی ممکنہ طور لیس کیا جائے گا۔

اپنے ’’بلاک 2‘‘ ورژن کی طرح جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں بھی دورانِ پرواز ایندھن بھروانے کی سہولت ہوگی جس کے باعث یہ 2,500 کلومیٹر دور تک کسی ہدف کو نشانہ بناسکے گا۔ یہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین تک مار کرنے والے دوسرے میزائلوں کے علاوہ نظر کی حد سے دُور تک مار کرنے والے (بی وی آر) میزائل سے بھی لیس ہوگا۔ پاکستان کی برّی افواج کےلئے بنائے گئے ’’بابر کروز میزائل‘‘ میں ترامیم کے بعد اسے ’’رعد کروز میزائل‘‘ کی شکل دے دی گئی ہے جو روایتی یا غیر روایتی اسلحے سے لیس کرکے جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں نصب کیا جائے گا؛ اور جس کے باعث سینکڑوں کلومیٹر دُور زمینی اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکے گا۔

امکان ہے کہ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کے کاکپٹ میں 2 افراد کی گنجائش ہوگی۔ اندازہ یہ بھی ہے کہ اب تک اس پر کام کا آغاز کیا جاچکا ہے کیونکہ متوقع طور پر ان لڑاکا طیاروں کو پاک فضائیہ کے سپرد کرنے کا سلسلہ 2019 سے شروع ہوجائے گا۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ بہت کم خرچ لڑاکا طیارہ بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ (وکی پیڈیا کے مطابق) جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 1‘‘ کی فی طیارہ لاگت 25 ملین ڈالر (ڈھائی کروڑ ڈالر) تھی؛ ’’بلاک 2‘‘ پر 28 ملین ڈالر (2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) فی طیارہ لاگت آئی؛ جبکہ ’’بلاک 3‘‘ کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس کے ہر پیداواری یونٹ کی ممکنہ لاگت 32 ملین ڈالر (3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) ہوگی۔

اگر اس لاگت کا موازنہ پرانے قسم کے ایف 16 طیاروں (بلاک 52) سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی اصل قیمت 20 ملین (2 کروڑ) ڈالر فی طیارہ کے لگ بھگ ہے لیکن یہ پاکستان کو 34 ملین (3 کروڑ 40 لاکھ) ڈالر فی طیارہ کے حساب سے فروخت کئے گئے۔ کچھ ماہ پہلے امریکہ سے اسی پرانی قسم کے مزید ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ بھی اسی لئے کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ اب کی بار امریکہ نے پاکستان سے ان کی فی طیارہ قیمت 87 ملین (8 کروڑ 70 لاکھ) ڈالر سے بھی کچھ زیادہ طلب کرلی تھی، جو ایف 16 کی پچھلی قیمت سے بھی ڈھائی گنا زیادہ تھی۔

گزشتہ ماہ بھارت نے فرانس سے 36 عدد ’’رافیل‘‘ لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا؛ جس کے تحت رافیل کی فی طیارہ قیمت تقریباً 242 ملین (24 کروڑ 20 لاکھ) ڈالر طے کی گئی ہے جبکہ اس معاہدے کی مجموعی لاگت 8 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ ان تمام اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ اپنی خصوصیات اور صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کے جدید لڑاکا طیاروں کے ہم پلّہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کےلئے کم خرچ بھی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ جے ایف 17 ’’تھنڈر‘‘ کی بدولت پاکستان نے مقامی طور پر عسکری طیارہ سازی میں خود کفالت کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا ہے۔

اس وقت بھی جبکہ یہ سطور قلم بند کی جارہی ہیں، جے ایف 17 تھنڈر کے منصوبے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے؛ اور مستقبل میں یہ اور بھی زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ پاکستانی انجینئروں کا مثالی اور انتہائی قابلِ فخر کارنامہ ہے جس کےلئے پاک فضائیہ کے دفاعی منصوبہ ساز اور پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) کے انجینئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی اے سی میں جے ایف 17 تھنڈر کے اس سے بھی زیادہ جدید ورژن ’’بلاک 4‘‘ پر ابتدائی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں تفصیلات دستیاب نہیں لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ اپنے ’’بلاک 4‘‘ کے ساتھ جے ایف 17 بھی پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں شامل ہوجائے گا۔

علیم احمد

پاک فضائیہ : کل اور آج…تفصیلی کارکردگی جانیے

وطن عزیز پاکستان کی فضائی حدود کی حفاظت پاکستان ایئر فورس کے ذمے ہے، جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسے بخوبی انجام دے رہی ہے۔ آج پاک فضائیہ کے 65 ہزار اہلکار ہیں، جن میں سے 3 ہزار پائلٹ ہیں جو 1032 ہوائی جہاز اڑانے کے ذمہ دار ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں کی جانوں کے رکھوالے بنے ہوئے ہیں۔ پاک فضائیہ کی تاریخ عظمت و شجاعت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ 1959ء میں عید الفطر کے روز راولپنڈی میں بھارت کا جاسوس طیارہ مار گرانے سے لے کر جنگ ستمبر میں عظیم کارناموں تک، پاک فضائیہ نے خود کو اقبال کا حقیقی شاہین ثابت کیا ہے۔

اپریل 1959ء میں عید الفطر کے روز بھارت کا ایک جاسوس طیارہ کینبرا پاکستان کی سرحدی حدود میں گھس آیا، جس سے نمٹنے کے لیے سرگودھا سے دو ایف-86 سیبر طیارے اڑے، لیکن بھارتی طیارہ 50 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا کہ جہاں تک پہنچنا پاکستانی طیاروں کے بس کی بات ہی نہیں تھی، لیکن شاہینوں نے ایک لمحہ بھی اس طیارے پر سے اپنی نظر نہیں ہٹائی، پھر جیسے ہی بھارتی طیارے نے راولپنڈی کے اوپر سے واپسی کے لیے موڑ کاٹا، اس کی بلندی کم ہوئی اور یہیں پر فلائٹ لیفٹیننٹ محمد یونس اس پر جھپٹ پڑے۔ ساڑھے 47 ہزار فٹ کی بلندی پر کینبرا طیارہ ایف-86 کی گولیوں سے لڑکھڑایا، ڈگمایا اور پھر منہ کے بل زمین پر آ گرا۔ طیارے کے دونوں پائلٹ اس سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن گرفتار ہوئے اور یوں پاک فضائیہ کی تاریخ میں فلائٹ لیفٹیننٹ محمد یونس امر ہوگئے.

لیکن چھ سال بعد پاک فضائیہ کو مجموعی طور پر بہت بڑے امتحان سے گزرنا پڑا اور اس میں جس طرح شاہین پورا اترے، اس نے دنیا بھر میں ان کی عزت اور مرتبے میں اضافہ کیا۔ جب ستمبر 1965ء میں جنگ چھڑی تو پاکستان کے پاس صرف 12 ایف-104 سٹار فائٹرز، 120 ایف-86 سیبرز اور 20 بی-57 کینبرا بمبار طیارے تھے، جن سے شاہینوں خود سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کرنا تھا۔ بھارت اپنی عددی برتری اور فضائی تجربے کے باوجود صرف تین دنوں میں شاہینوں کے ہاتھوں بری طرح شکست کھاگیا۔ پاکستان نے جنگ ستمبر کے دوران بھارت کے 104 طیارے تباہ کیے جبکہ پاک فضائیہ کو صرف 19 طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں پاکستان کے دو لڑاکا پائلٹوں نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ ایک سکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم المعروف ایم ایم عالم تھے، جنہوں نے صرف پانچ منٹ میں دشمن کے 9 طیارے مار گرائے اور ایک ایسا عالمی ریکارڈ بنایا، جو آج تک نہیں ٹوٹ سکا۔ اس دوران انہوں نے ایک منٹ کے اندر پانچ طیارے گرانے کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ اس کارنامے پر ایم ایم عالم کو ستارۂ جرات سے نوازا گیا۔

دوسرے بہادری اور حب الوطنی کی عظیم مثال سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی تھے۔ جنگ شروع ہونے کے پہلے ہی دن 6 ستمبر کی شام وہ ہلواڑا ایئر بیس پر حملہ کرنے والے دستے کا حصہ تھے، جہاں ایک جہاز گرانے کے بعد ان کی مشین گن جام ہوگئی۔ بجائے میدان چھوڑ کے بھاگنے کے انہوں نے اپنے ساتھیوں کو حملہ جاری رکھنے پر آمادہ کیا اور خود پشت سے ان کی حفاظت کرنے لگے۔ اس دوران ایک بھارتی طیارے کی گولیوں کی زد میں آ گئے اور شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ پاک فضائیہ نے 1967ء میں چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں بھی حصہ لیا اور 10 اسرائیلی طیارے تباہ کیے۔ علاوہ ازیں 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی داد شجاعت دکھائی جہاں فلائٹ لیفٹیننٹ ستار علوی نے اسرائیلی ایئرفورس کے ایک میراج طیارے کو تباہ کیا اور یوں شامی حکومت کی طرف سے اعلیٰ اعزاز بھی حاصل کیا۔

ان دونوں عرب اسرائیل جنگوں کے درمیان شاہینوں کے کندھوں پر 1971ء میں وطن عزیز کی حفاظت کی کڑی ذمہ داری ایک مرتبہ پھر پڑی۔ اس جنگ میں جہاں پاکستان کو شکست ہوئی اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بنا، لیکن پاکستانی فضائیہ نے مغربی حصے کی بھرپور حفاظت کی اور بھارت کو 45 جہازوں کا نقصان بھی پہنچایا،پھر 1979ء میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کی مغربی سرحد بھی غیر محفوظ ہوگئی۔ ساتھ ہی کہوٹہ میں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت بھی ایک اہم کام تھا جسے پورا کرنے کے لیے پاکستان نے 1983ء میں امریکا سے جدید ایف-16 طیارے حاصل کیے۔ ان طیاروں نے افغانستان کے ساتھ پاکستانی سرحد حفاظت بھی کی اور 1986ء سے 1988ء کے دوران دو سالوں میں افغانستان سے سرحدی مداخلت کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے آٹھ طیارے تباہ کیے، جن میں سے چار ایس یو-22، دو مگ-23 اور ایک ایس یو-25 اور ایک اے این-26 طیارے تھے۔

آج پاک فضائیہ کے پاس 76 ایف-16 طیارے ہیں جبکہ چین کے تعاون سے بنائے گئے جدید جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی تعداد 90 ہے جو جلد ہی یہ تعداد 250 تک پہنچ جائے گی۔ جے ایف-17 کی شمولیت کے بعد پاکستان چین ہی کے تعاون سے بنائے گئے ایف-7 طیاروں کو ریٹائر کردے گا، جن کی تعداد اس وقت 185 ہے۔ فرانس سے خریدے گئے 80 میراج III اور 85 میراج 5 طیارے اس کے علاوہ ہیں۔ پاک فضائیہ کے پاس تربیتی مقاصد کے لیے 145 مشاق اور 60 کے-8 طیارے بھی موجود ہیں۔ سامان کی نقل و حمل کے لیے 18 سی-130 ہرکولیس، 4 آئی ایل-78 اور ایک اے این-26 بھی اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، جن میں سے آئی ایل-78 طیارہ لڑاکا جہازوں میں دوران پرواز ایندھن بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس وقت پاک فضائیہ کے 11 اڈے یعنی بیسز ہیں، جہاں سے طیارے اڑتے ہیں ان میں سے دو کراچی میں ہیں جنہیں بیس مسرور اور بیس فیصل کہا جاتا ہے جبکہ باقی بیس مصحف، سرگودھا، بیس رفیقی، شورکوٹ، بیس پشاور، بیس سمنگلی، کوئٹہ، بیس میانوالی، بیس منہاس، کامرہ، بیس چکلالہ، راولپنڈی، بیس رسالپور اور بیس شہباز، جیکب آباد شامل ہیں۔ پاکستان اس وقت جدید ترین جے ایف-17 طیارے حاصل کر رہی ہے اور بہت جلد یہ تعداد میں تمام طیاروں کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ اس کے ساتھ پاکستان کی فضائیہ کی لڑنے کی قابلیت کہیں بڑھ جائے گی۔

(بشکریہ اُردو ٹرائب ڈاٹ کام) –