نشان حیدر : کسے، کب دینے کا اعلان کیا گیا ؟

nishan-e-haiders

نشان حید ر کا پہلا اعزاز 27 جولائی 1948ء کو پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے پاکستان آرمی کے کیپٹن محمد سرور کو دیا گیا۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے تھا اور یہ اعزاز ان کو شہادت کے تقریباََ 9 سال بعد 16 مارچ 1957ء کو نشان حیدر کے اجراء کے ساتھ ہی دیا گیا۔

نشان حیدر کا دوسرا اعزاز 7 اگست 1958ء کی پاک بھارت جنگ میں دادِ شجاعت دے کرجام شہادت نوش کرنے والے پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ ہی کے میجر طفیل محمد شہید کو دیا گیا۔

راجا عزیز بھٹی شہید، جن کا تعلق بھی پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے تھا اور جو پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے 10 ستمبر 1965ء کو پاک بھارت جنگ میں شہید ہوئے، تیسرے نشان حیدر کے حقدار قرار پائے۔

چوتھا نشان حیدرپاکستان ائیرفورس کے جواں سال جانباز راشد منہاس شہید کر دیا گیا جنہوں نے 20 اگست 1971ء کو دشمن کے ہاتھ لگنے کے بجائے جام شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔

1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران 6 دسمبر 1971ء کو ارض وطن کیلئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنے والے پاکستان آرمی کے فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے میجر شبیر شریف شہید کو نشان حیدر کے پانچویں اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا۔banner-2

1971ء ہی کی پاک بھارت جنگ کے دوران 10 دسمبر 1971ء ک بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرنے وال پاکستان آرمی کے آرمڈ کور کے سوار محمد حسین جنجوعہ شہید ،5 دسمبر 1971ء کو پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس کے رجمنٹ کے میجر محمد اکرم شہید اور 17 دسمبر 1971ء کو دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہونے والی پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ کے لانس نائیک محمد محفوظ شہید کو بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

نواں نشان حیدر آزاد کشمیر رجمنٹ کے نائیک سیف علی جنجوعہ کو 1948 کی پاک بھارت جنگ میں بہادری کے جوہر دکھانے پر 1995ء میں دیا گیا۔ نشان حیدر کا دسواں اور گیارہواں ایوارڈ 5 جولائی1999ء کوکارگل کے تنازعہ میں شہید ہونے والے سندھ رجمنٹ کے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور7 جولائی 1999ء کو شہید ہونے والے ناردرن لائٹ انفنٹری کے حوالدار لالک جان شہید کو دیا گیا۔

 بشکریہ ’’ہونہار‘‘

یوم دفاع، شہریوں کا ملک سے محبت کا بھر پور اظہار

51 واں یوم دفاع بھر پور جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ ارض پاک کے تقدس کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ قوم نے اس دن کو بہترین انداز منایا۔ 6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کے طور پر ہر سال اِن شہیدوں اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے جنہوں نے وطنِ عزیز کی سالمیت اور یکجہتی کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔

 

 

 

 

پانچ اور چھہ ستمبر 1965ء کی درمیانی شب قصور میں

ستمبر 1965ء میں پاک بھارت جنگ کے بادل اگرچہ ہمارے آسمان پر چھائے ہوئے تھے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ اس طرح اچانک جنگ سرپر آ جائے گی۔ ہم نے اگرچہ فوج جوائن نہیں کی تھی لیکن دل میں دور دور تک بھی یہ ارمان موجود نہ تھا کہ فوج میں شامل ہوا جائے۔ ہمارے نزدیک فوج کا تصور ایک دھندلا سا تصور تھا،۔۔۔ ایک الگ قبیلہ۔۔۔ ایک علیحدہ برادری۔۔۔ ایک انجانی سی تنظیم۔۔۔ اور ایک ان سوچا سا خیال۔۔۔ جب سات آٹھ برس پہلے ایوب خان کا پہلا مارشل لا لگا تھا تو کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ مارشل لا کیا ہوتا ہے۔ بس اتنا معلوم تھا کہ وردی پوش لوگوں کی خبریں اور تصویریں اخباروں میں چھپا کرتی تھیں۔ کوئی آفیسر اور کوئی جوان 6 فٹ سے کم قد آور نہ تھا اور سخت اور تنومند جسمانی خدوخال سے مزین ایک مجسمہ ہمارے سامنے آتا اور ہم اس سے محبت کرنے سے زیادہ اس سے خوفزدہ رہنے کا رجحان رکھتے تھے۔ ہمارے اکثر رشتہ دار پولیس میں تھے لیکن دیکھا گیا تھا کہ پولیس والے بھی فوجیوں سے خم کھاتے تھے۔ فوجیوں کے بارے میں ہماری معلومات بھی بس اتنی ہی تھیں جتنی عام سکول یا کالج کے طالب علموں کی تھیں۔ ہم نے اسلامی لشکروں اور سپہ سالاروں وغیرہ کے نام تو اکثر کتابوں میں پڑھے تھے لیکن انگریزفوجوں اور کمانڈر انچیفوں کے نام ابھی تک زبان پر نہیں چڑھے تھے۔ ہم شمشیر و سناں کو رائفل اور ریڈار سے زیادہ وقیع سمجھا کرتے تھے!

 اِسی اثنا میں قصور میں بابا بلھے شاہ کا عرس آ گیا اور ہم عرس دیکھنے اپنے ننھال چلے گئے۔ اولیائے کرام کے عرسوں سے ویسے بھی ہماری عقیدت تھی کہ پاک پتن شریف کے دامن میں واقع ملکہ ہانس میں پیدا ہوئے اور پھر پاک پتن میں آبسے۔ وہیں سکول کی تعلیم پائی اور خاندان کے آدھے افرادلورالائی سے ،ہجرت کر کے آئے اور پھر پاک پتن ہی کے ہو رہے۔ اس زمانے میں پاک پتن کے ساتھ ’’شریف‘‘ کا لاحقہ بھی ضرور لگا کرتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم کے دونوں کناروں پر جو بڑے بڑے بورڈ لگے ہوتے تھے ان پر انگریزی اور اردو میں’’ پاک پتن شریف‘‘ ہی لکھا ہوتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اگر پاک پتن کے ساتھ شریف نہ لگائیں تو یہ شہر نا مکمل، اجاڑ، سنسان اور نا شریف سا لگنے لگتا تھا۔ ذرا ہوش سنبھالی تو شریف کے لاحقے والے شہروں اور قصبوں کی قطاریں لگ گئیں۔ ملتان شریف، گولڑہ شریف، کھڑی شریف، چاچڑاں شریف اور اس طرح کئی شریفوں کے حصار میں گھرے ہم پاک پتن شریف پر بہت نازاں ہوا کرتے تھے۔ پھر جب یہ بھی سوچا کہ چونکہ اس جگہ برصغیر ہندو پاک کی ایک عظیم روحانی شخصیت محو خواب ہے اس لئے بابا فرید گنج شکر کی نسبت سے یہ شہر شریف کہلاتا ہے تو ہم نے اول اول اس پر یقین کر لیا۔ لیکن جب پہلی دفعہ لاہور آئے اور لاہور ریلوے اسٹیشن پر اترے تو صرف لاہور لکھا دیکھا اور سوچا کہ حضرت داتا گنج بخش کی نسبت سے لاہور کو بھی شریف کا لاحقہ عطا ہونا چاہئے تھا۔۔۔۔ ذہن کچھ الجھ سا گیا۔۔۔ کچھ یہی حال قصور کا بھی تھا۔ یہاں بابا بلھے شاہ اور شاہ کمال چشتی کے مزارات کی سارے برصغیر میں ایک خاص تقدیس تھی لیکن قصور ریلوے اسٹیشن پر ہم جب بھی اترتے تو ’’قصور جنکشن‘‘ لکھا دیکھتے اور چونکہ قصور شریف نہیں ہوتا تھا اس لئے ہم نے ایک اور مفروضہ ذہن میں پال لیا کہ شائد جنوبی پنجاب کے شہروں میں شریف کا اضافہ مناسب سمجھ جاتا ہوگا اور شمالی پنجاب میں نہیں۔ لیکن گولڑہ شریف اوردیول شریف کے مقامات تو جنوبی پنجاب میں نہیں تھے!۔۔۔بالآخر یہی سمجھا کہ لوگ عقیدتاً شریف کا لاحقہ لگا دیتے ہیں!۔۔۔ یہ کنفیوژن پوری طرح آج بھی ذہن سے محو نہیں ہو سکا۔

میرے ننھال تو قصور میں کوٹ مراد خان میں رہتے تھے لیکن قصور کے بارہ کوٹوں میں سب سے زیادہ مشہور کوٹ، کوٹ مراد خان کے علاوہ کوٹ عثمان خان سمجھا جاتا تھا جہاں میرے ایک کزن پولیس تھانے کے انچارج تھے۔ ہم اس روز ان کے ہاں گئے ہوئے تھے۔ پہلے بابا بلھے شاہ کے مزار پر حاضری دی اور پھر چند گز دور کوٹ عثمان خاں میں واقع ان کے سرکاری گھر میں چلے گئے۔۔۔ یہ 5 ستمبر 1965ء کا دن تھا! اچانک خبر آئی کہ کوٹ مراد خان پر بھارتی فضائیہ نے حملہ کیا ہے اور وہاں ایک دھوبی گھاٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ ہم کوٹ عثمان خان سے نکلے اور دھوبی گھاٹ دیکھنے کے لئے تانگے میں سوار ہو گئے۔ ان دنوں تو لاہور میں بھی تانگے ہی چلا کرتے تھے۔ دھوبی گھاٹ میں جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے تھے۔ انڈین بمبار نے اس جگہ شائد دو یا تین بم گرائے تھے۔۔۔ اس وقت تو معلوم نہ تھا کہ انڈین ایئر فورس کا ہدف قصور کا یہ دھوبی گھاٹ کیوں تھا لیکن بعد میں جب تاریخِ جنگ کی شدبد ہوئی تو معلوم ہوا کہ حملہ آور طیارے کا ہدف قصور ریلوے اسٹیشن تھا۔ اور دھوبی گھاٹ وہاں سے تقریباً دو تین کلومیٹر دور تھا! یعنی اس وقت بھی بھارتی فضائیہ کی نشانے بازی میں ’’مہارت‘‘ نمایاں اور واضح تھی! ستمبر کے مہینے میں اگرچہ دن رات برابر ہو جاتے ہیں اور موسم بھی زیادہ گرم سرد نہیں ہوتا اس لئے اس شب ہم تا دیر جاگتے اور گپیں ہانکتے رہے۔ معاً ریڈیو پر خبریں آنا شروع ہوئیں کہ انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے اور اس کی فوجیں قصور کی طرف بڑھی چلی آ رہی ہیں۔ میرے کزن نے گھر آ کر جب یہ خبرسنائی تو ہمیں خاصی تشویش ہوئی۔

قصور، دفاعی لحاظ سے ایک اہم سرحدی شہر تھا۔ ہم کئی بار قصور سے گنڈا سنگھ والا صبح پیدا چل کر جاتے اور شام کو واپس آ جاتے تھے۔ لیکن قصور پر انڈیا کی طرف سے حملے کرنے کے امکانات فوجی فائلوں میں ضرور ہوں گے لیکن پبلک کو کچھ آگاہی نہ تھی کہ شہر پر حملہ ہونے والا ہے۔ نہ ہی کسی نے بلیک آؤٹ کا ذکر کیا تھا۔ سارا شہر 5 ستمبر 1965ء کی شام کو حسبِ معمول روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ شہری ہوا بازی کی کوئی موثر تنظیم موجود نہ تھی۔ فضائی حملوں کے خلاف کوئی احتیاطی تدابیر نہیں اٹھائی گئی تھیں۔ کسی نے خندقیں کھودنے کامشورہ یا ہدائت نہیں دی تھی۔ (تاہم یہ سب کچھ 6 ستمبر کے بعد کیا گیا) ۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ 6 ستمبر کا بھارتی حملہ ایک ناگہانی حملہ تھا تو اس کی صداقت اور ہماری حماقت کا ثبوت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں بھی وہ دفاعی احتیاطی تدابیر کام میں نہیں لائی گئی تھیں جو عام جنگی حالات سے پہلے لائی جاتی ہیں۔ میں عمداً عسکری احتیاطوں کا ذکر نہیں کروں گا۔ لیکن سول انتظامیہ کی غفلت اور نا اہلی کا اندازہ کیجئے کہ کسی کو بھی خیال نہ آیا کہ رن کچھ جھڑپ کے بعد (اپریل مئی 1965ء) بھی پاکستان اور بھارت میں کشیدگی برقرار ہے اور کسی وقت بھی عام جنگ کا نقارہ بج سکتا ہے۔ فوج نے جب آپریشن جبرالٹر شروع کیا تھا (یکم اگست 1965ء) تو تب بھی پاکستان میں ’’سب اچھا‘‘ کی گردان ہو رہی تھی۔ اور جب اگست کے آخری ایام میں دریائے توی عبور کر کے پاک فوج چھمب جوڑیاں کو روندتی ہوئی اکھنور کی طرف بڑھ رہی تھی تو پھر بھی حکومت نے مناسب نہ سمجھا کہ عوام کو مطلع کیا جائے کہ اگر اکھنور پر قبضہ ہو گیا تو پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے اور بھارت اس کے جواب میں کیا اقدامات کرے گا۔ اس دھمکی کے باوجود جو اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے انہی دنوں دی تھی کہ ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے، اربابِ اقتدار نے عوام کو بے خبر ہی رکھا۔ اور بعد میں واویلا مچایا کہ بھارت نے دھوکے سے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کر دیا ہے!

میڈیا میں یہ خبریں ضرور اچھالی جاتی رہیں کہ شاستری جی نے یہ دھمکی دی ہے لیکن قومی اور سرکاری سطح پر اس اجتماعی آگہی کا کوئی اہتمام نہ کیا گیا جوایسی دھمکی کے بعد ضروری ہوتی ہے۔ یہ تو جب جنگ شروع ہوئی اور پاک فوج کی جونیئر اور مڈل کلاس قیادت نے ہر سطح پر اپنے سے تین چار گنا طاقتور بھارتی فوج کو روک دیا تو پاکستانی عوام کو معلوم ہوا کہ خطرہ کتنا بڑا تھا ۔اور جب معلوم ہوا تو پھر پاکستان کا بچہ بچہ واقعی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا۔ اور تو اور مشرقی پاکستان بھی کہ جو اس جنگ کے چھ سال بعد بھارت کے ساتھ مل کر ہم سے علیٰحدہ ہو گیا، وہ بھی قومی جذبے سے سرشار معلوم ہوا۔ مجھے خبر نہیں یہ سرشاری واقعی اصلی تھی یا مغربی پاکستان کے عوام کی دیکھا دیکھی جھوٹ موٹ اختیار کی گئی تھی۔ ستمبر1965ء کی اس 17 روزہ جنگ میں پاکستان کی تینوں فورسز نے جو حیرت انگیز عسکری کارنامے انجام دیئے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی اقوام میں سراہے گئے اور جب سے اب تک پاک فوج کا ایک ایسا تشخص بیرونی دنیا میں مروج ہے کہ جس کی شہرت مدھم نہیں ہو سکی بلکہ اس میں مرورِ ایام سے اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ الحمد للہ!

میں قصور میں 5 اور 6 ستمبر 1965ء کی درمیانی شب کا ذکر کر رہا تھا!۔۔۔ اللہ اکبر!۔۔۔ آج اس رات کو گزرے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا لیکن وہ سارا منظر آنکھوں میں اس طرح بسا ہواہے جیسے ابھی کل کی بات ہو!۔۔۔ اُس 6 ستمبر 1965ء کی صبح نا خوشگوار سی تھی۔ شہر میں بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور لوگ گھروں کو چھوڑ کر محفوظ تر قصبوں اور شہروں کا رخ کر رہے تھے۔ توپوں کی گھن گرج اور چمک سنائی اور دکھائی دے رہی تھی۔ پھر ریڈیو پر خبریں آئیں کہ صدر مملکت قوم سے خطاب کریں گے۔ ان کا خطاب اور اس میں ایوب خان کی زبان سے کلمہ طیبہ کی ادائیگی اتنی بروقت، اتنی حوصلہ افزا اور اتنی سکون بخش تھی کہ جو لوگ جوق در جوق لاری اڈوں کا رخ کر کے قصور سے نکل رہے تھے، وہ واپس آنے لگے۔ شہر کا نظم و نسق ایک لمحے کے لئے بھی متزلزل نہ ہوا۔ کھیم کرن۔ قصور سرحد میں صرف دو تین کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ جب اہل قصور کو اطلاع ملی کہ پاک فوج نے کھیم کرن پر قبضہ کرلیا ہے تو ہم جیسے خوش فہموں نے آس لگا لی کہ اب امرتسر اور فیروز پور کچھ زیادہ دور نہیں ہوں گے اوران دونوں بھارتی شہروں کا سقوط اب شائد ’’چند گھنٹوں‘‘کی مار ہو!

لیکن اصل میں قصور محاذ پر کیا ہوا؟۔۔۔ کیا واقعی پاکستانی فوج امرتسرکے قریب پہنچ گئی تھی اور اگر کرنل صاحب زاد کے ٹینک ولٹوہا جا سکتے تھے تو اس سے آگے کیوں نہ گئے؟۔۔۔ بھارتی آرمی چیف جنرل چودھری نے انڈین آرمی کی ویسٹرن کمانڈ کے کمانڈر، جنرل ہربخش سنگھ کو دریائے بیاس تک پیچھے ہٹنے کے احکام دیئے تو ہربخش سنگھ نے ان پر عمل کیوں نہ کیا ؟۔۔۔قصور کی طرف سے پاکستان آرمی کی جوابی یلغار (کاؤنٹر اوفینسو) کامیابی کے عین کنارے پر پہنچ کر ناکام کیوں ہوئی؟۔۔۔ ہمارے پیٹن ٹینک جو کسی بھی بھارتی ٹینک سے ہر طرح سے بہتر اور طاقتور تھے ان کو انڈیا کے4 ماؤنٹین ڈویژن نے کیسے روکا؟۔۔۔ ایک بھارتی مسلمان حوالدار عبدالحمید نے اصل اُتر کی اس ٹینک بیٹل میں کیا کردار ادا کیا اور اسے بھارت سرکار نے دلیری کا اعلیٰ ترین اعزاز جو ہمارے نشانِ حیدر کے برابر تھا، کیوں دیا؟۔۔۔ یہ سب تفصیلات حوصلہ شکن بھی ہیں اور حوصلہ افزا بھی۔ ۔۔۔ آدھے خالی گلا س کوبھرا بھی جاسکتا تھا اگر جنرل قسمت (General Luck) ہماری طرفداری کرتا!۔۔۔ یہ باتیں کالموں میں نہیں لکھی جا سکتیں۔ اصل حقیقت تک پہنچنے کے لئے قارئین کو کم از کم اس جنگ کی کوئی ایسی تاریخ پڑھنی چاہئے جو یکطرفہ اور جانبدارانہ نہ ہو۔ اور یہ تاریخ غیر ملکی مصنفین اور مورخین ہی لکھ سکتے ہیں۔ قارئین کو لائبریریوں یا انٹرنیٹ پر جا کر جنگ ستمبر 1965ء کی تواریخ کو براؤز) (Browse کرنا چاہئے اور اس حقیقت کا ادراک بھی کرنا چاہئے کہ پاکستان نے اگرچہ مختصر دورانیئے کی یہ جنگ جیتی نہیں تھی لیکن بھارت کو بھی جیتنے نہیں دی تھی!

لیفٹیننٹ کرنل (ر)غلام جیلانی خان

پاک فوج کے شہیدوں کو سلام

اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو، وطن کی ہوائیں تمھیں سلام کہتی ہیں۔ میرے پیارے دوستو سنائیں کیسے ہیں! امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے ، جی ہم بھی اچھے ہی ہیں۔ دوستو! آپ کو تو یہ پتہ ہی ہو گا کہ ایک بار پھر ستمبر کا مہینہ آن پہنچا، یہ ستمبر وہی مہینہ ہے جو ہمارے دلوں میں پاک فوج کے ان سجیلے جوانوں کی یادوں کو تازہ و شاداب کر دیتا ہے جنہوں نے وطن کی محبت سے سرشار ہوکر پاک سر زمین کی حفاظت کی خاطر اپنا تن من دھن اس سوہنی دھرتی کی حفاظت پر قربان کر دیا، لیکن وطن کی سلامتی وقار ، حرمت و عزت میں کوئی کمی نہ آنے دی ، اسی لئے تو راہ حق کے شہیدوں کی یاد میں آج تک ساری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے، ستمبر 1965ء میں ہمسایہ ملک بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی ، اور نہ صرف کوشش کی، بلکہ ہماری پاک سر زمین پر حملہ بھی کر دیا ، لیکن آفرین ہے ہمارے پاک فوج کے سجیلے شیر جوانوں پر جنہوں نے دن رات نہ صرف ہماری سرحدوں کی حفاظت کی، بلکہ پاک سر زمین کی حفاظت کی خاطر اپنا تن من دھن وار دیا۔

پاک سر زمین کی حفاظت کی خاطر ہمارے شہیدوں نے جو لہو بہایا و ہ تاحال ہم پر قرض ہے۔ ہم ہمیشہ کی طرح آج بھی یوم دفاع منا رہے ہیں۔ ہر سال چھ ستمبر کو سب پاکستانی جوش و خروش سے یوم دفاع مناتے ہیں۔ یوم دفاع کے موقع پر سب پاکستانی جلسے جلوس نکالتے ہیں ، رنگ برنگی تقریبات سجائی جاتی ہیں جن میں پاک وطن کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے انہیں سلام عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ یوم دفاع کا آغاز توپوں کی سلامی دے کر کیا جاتا ہے وطن کے شہیدوں کو سلامی دی جاتی ہے اور نہ صرف پاک فوج کے شہیدوں، بلکہ ان ماؤں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے ایسے سجیلے شیر جوانوں کو جنم دیا جنہوں نے رہتی دنیا تک ملک و ملت میں اپنا نام روشن کیا، بلکہ پاکستان کا پرچم بھی بلند کیا۔

پاک فوج کے شیر جوانوں نے دشمنوں کو لوہے کے چنے چبوا دئیے ، ایک آہنی چٹان بن کر دشمن کے سامنے ڈٹے رہے اور اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہ کیا ، بہر حال ہم جب بھی یوم دفاع مناتے ہیں تو اپنے شہیدوں جن میں راشد منہاس ، لانس نائیک محفوظ شہید ، کیپٹن سوار محمد ، میجر طفیل ، میجر عزیز بھٹی ،شبیر شریف ، اور اور نہ جانے کتنے شہید ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر گلشن کو اپنے لہو سے سینچا ہے۔ دوستو آئیے عہد کریں اپنے آپ سے، اپنے وطن سے، اپنے وطن کی مٹی سے، اپنے پاک وطن کی خاطر لہو پیش کرنے والے شہیدوں سے آئیے آج ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ، کہ ہم اپنے وطن پر آنچ نہیں آنے دیں گے ملکی سالمیت و بقاء کے لئے ہر حد سے گزرنا پڑے تو گزر جائیں گے۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور یہ عزم بھی کریں کہ ہمارے ملک کی طرف اٹھنے والی آنکھیں نوچ لیں گے ،،، اجازت چاہتے ہیں ملتے ہیں ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان ر ب راکھا۔

فیصل شامی

Nishan-e-Haider

Nishan-e-Haider   (abbreviated as “NH”) is Pakistan‘s highest military gallantry award. “Nishan-e-Haider” literally means “Mark of the Lion” in the Urdu language. The word “Haider” is also the epithet of Hazrat Ali. The Nishan-e-Haider can only be awarded posthumously to members of the Pakistan Armed Forces for sacrificing their life in an act of extraordinary bravery in face of the enemy. Although some consider it equivalent of the British Victoria Cross and the United States Medal of Honor, however, it has no equivalent since the Nishan-e-Haider is unique in that it can only be awarded posthumously. Its exclusivity can be gauged by the fact that, since Pakistan’s independence in 1947, there have been only ten recipients.

History

The Nishan-e-Haider was established by the Government of Pakistan on 16 March 1957, in the year when Pakistan became a republic. However, it was applied retrospectively from the date of Pakistan’s independence on 14 August 1947. The Nishan-e-Haider is Pakistan’s highest award and takes precedence over all military and civil awards. Of the ten Nishan-e-Haider recipients till date, nine have been from the Pakistan Army and one from the Pakistan Air Force.

Criterion

The Nishan-e-Haider can be awarded posthumously to all ranks of the Pakistan Armed Forces for sacrificing their lives in acts of extraordinary courage in face of the enemy. As a matter of practice and precedent, it has only been awarded posthumously in circumstances where it has been established that a member of the Pakistan Armed Forces acted with extraordinary bravery and courage in face of the enemy notwithstanding the realization of a high risk to his life and, consequentially, sacrificed his life in the act.[3]

Manufacturing

The Nishan-e-Haider is manufactured by the Pakistan Mint on order of the Ministry of Defence, Government of Pakistan. It is forged from captured enemy equipment and consists of 88% copper, 10% tin and 2% zinc.

Recipients

Only ten Nishan-e-Haider medals have been awarded since Pakistan’s independence on 14 August 1947, nine to members of the Pakistan Army and one to a member of the Pakistan Air Force. Below is the list of Nishan-e-Haider recipients.[4]
Enhanced by Zemanta