پاکستانی فوج : انڈیا ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا

پاکستانی فوج کے ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا ‘چیف آف آرمی سٹاف ایک انتہائی اہم تقرری ہوتی ہے اور فور سٹار وہ رینک ہے جس میں تمام عمر کا تجربہ اور پختگی شامل ہوتی ہے، لہٰذا اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان اتنے اہم اور ذمہ دار عہدے والے افسر کو زیب نہیں دیتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا ‘انڈیا ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت مشرق کی جانب سے آنے والے خطرات کے لیے ہے، جبکہ پاکستان کی جوہری صلاحیت حملے کے لیے نہیں بلکہ دفاع کے لیے ہے۔‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کو جوہری دھوکا کہنے کے انڈین آرمی چیف کے بیان کو بچکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ذمہ دار افسر کی جانب سے ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان انتہائی نامناسب ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے آرمی چیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر حکومت نے حکم دیا تو انڈین آرمی سرحد پار کر کے پاکستان میں آپریشن کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔ ‘پاکستان کی جوہری صلاحیت ایک فریب ہے، اگر ہمیں واقعی پاکستانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ہمیں یہ ٹاسک دیا گیا تو ہمیں یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اس لیے ہم سرحد پار نہیں کر سکتے۔‘ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا ‘اگر انڈیا روایتی طریقوں سے پاکستان پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا تو اب تک ایسا کر چکا ہوتا، انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہی ہے۔‘

میجر جنرل آصف غفور نے کہا ‘ہم ایک پیشہ ورانہ آرمی، ذمہ دار جوہری ریاست اور بیدار قوم ہیں، جو کسی فریب کا شکار نہیں ہے۔‘ دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے انڈین آرمی چیف کے بیان کو جوہری تصادم کو دعوت دینے کے برابر قرار دے دیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ‘انڈین آرمی چیف نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا جو ان کے عہدے کو زیب نہیں دیتا، تاہم اگر انڈیا کی خواہش ہے تو ہمارے عزم کو آزما لے، انشاء اللہ بھارتی جنرل کا شک دور کر دیا جائے گا۔’

Advertisements

کوئی طاقت پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکتی، آرمی چیف

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دھمکانے والے سن لیں جس ملک میں عظیم والدین اور بہادر بیٹے ہوں کوئی بھی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا، ایسی فوج کا سربراہ ہوں جس کے جوان ہر دم وطن کیلئے جان دینے کو تیار ہیں، کوئی رقم ان بہادروں کی حب الوطنی اور قربانیوں کی قیمت نہیں چکا سکتی، ہمارے شہداء کی قربانیاں ہی ہمیں پر امن اور مستحکم پاکستان کی جانب لے جا رہی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرک کے علاقے گڑھ خیل میں مادر وطن پر 3 بیٹے اور 2 بھتیجے قربان کرنیوالے محمدعلی خان کے گھر آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا اور انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا.

جبکہ اپنے دورہ شمالی وزیرستان میں آرمی چیف نے پاک افغان سرحد میں حال ہی میں تعمیر قلعوں اور نصب کی گئی آہنی باڑ کا جائزہ لیا اور میرانشاہ میں یادگار شہدأ پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے شمالی وزیر ستان ایجنسی کا دورہ کیا اور میرانشاہ میں شہداء یادگار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میرانشاہ نے سلامتی کی صورتحال‘ عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی کے لئے ایجنسی میں سماجی اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی ۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان سرحد میں حال ہی میں تیار کیے گئے قلعوں اور نصب کی گئی آہنی باڑ کے جائزہ کے لئے دورہ کیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرحدی سکیورٹی کے لئے فارمیشن کی جانب سے تیز رفتاری کیلئے معیاری کام کرنے کے عمل کو سراہا۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ بعد ازاں آرمی چیف شمالی وزیرستان کے دورے کے دوران کرک کے علاقے گڑھ خیل میں محمد علی خان کے گھر پہنچے، ان کے 6 بچے پاک فوج کا حصہ رہے ٗ3 نے مادر وطن کیلئے جام شہادت نوش کیا ان کے 2 بھتیجے بھی شہید ہو چکے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کو دھمکانے والی بیرونی قوتیں سمجھ لیں ،جس قوم کے پاس ایسے والدین اور بچے ہوں ان کا کوئی بال بیکا بھی نہیں کر سکتا ۔

ان کا کہناتھاکہ وہ ایسی فوج کے چیف ہیں جس کے جوان ہر وقت ملک پر جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ کوئی رقم ان بہادروں کی حب الوطنی اور قربانیوں کی قیمت نہیں چکا سکتی ،ان کی قربانیاں ہی ہمیں پرامن اور مستحکم پاکستان کی طرف لے جارہی ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ محمدعلی نےدورہ کرنےاورگاؤں کیلئے فلاحی پیکیج دینے پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔

پاک بحریہ کا دیسی ساختہ کروز میزائل ’حربہ‘ کا کامیاب تجربہ

پاک بحریہ میں حال ہی میں شامل کی جانے والی فاسٹ اٹیک کرافٹ (میزائل ) پی این ایس ہمت نے شمالی بحیرئہ عرب میں لائیو ویپن فائرنگ کا شاندار مظاہرہ کیا۔ پی این ایس ہمت نے اندرون ملک تیار کردہ حربہ نیول کروز میزائل فائر کیا ʼ جو سطح آب سے سطح آب پر مار کرنے والا اینٹی شپ اور زمینی حملے کی صلاحیت کا حامل میزائل ہے۔ میزائل نے اپنے ہدف کو پوری کامیابی سے نشانہ بنایا جو اس ویپن سسٹم کی حربی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ لائیو ویپن فائرنگ کا یہ کامیاب مظاہرہ نہ صرف پاک بحریہ کی فائر پاور کی قابل اعتماد اور بھرپور صلاحیت کا مظہر ہے بلکہ پاکستا ن کی دفاعی صنعت کی اندرون ملک ہائی ٹیک ہتھیار سازی کی معیاری صلاحیت کا عکاس ہے اوراس شعبے میں خود انحصاری کے حصول کے لیے حکومتی عزم کی واضح دلیل ہے۔

دبئی ایئر شو میں پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیارے کی دھوم

دبئی کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر 16 ویں دبئی ایئر شو میں پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی شاندارفضائی کارکردگی نے تماشائیوں کو حیران کر دیا۔
پاک فضائیہ کے پائلٹ کے شاندار کرتب نے شو دیکھنے کے لیےآنے والے شائقین پر سحر طاری کر دیا، جس کے بعد طیارے کو واپس لینڈ کرایا گیا تو عوام نے اسے خوب سراہا۔ دنیا کے سب سے بڑا ایئر شو اس وقت دبئی میں ہو رہا ہے جس کی 5 روزہ تقریب میں پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس کی جانب سے بھی اسٹال لگایا گیا جہاں جے ایف 17 تھنڈر کو دیکھنے کے لیے عوام اور خریداروں کا رش لگا رہا۔ دبئی ایئر شو کی افتتاحی تقریب میں ایئر مارشل احمر شہزاد اور چیئرمین پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس بھی موجود تھے۔ تقریب میں پاکستان کی جانب سے جدید صلاحیت سے آراستہ سپر مشاک طیارہ بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے
نئی خصوصیات اور جدید آلات سے آراستہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان اور چین کے اشراک سے تیار کیے گئے ہیں۔ چین کے ٹیکنیشنز کی مدد سے پاکستان میں تیار کئے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن ملٹی رول طیارے ہیں جو کہ آواز کی رفتار سے دوگنا زیادہ رفتار سے 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان طیاروں کی تیاری کا آغاز 1999 میں ہوا تھا اور اس کی پہلی آزمائشی 2003 میں کی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری میں دیگر ممالک کی دلچسپی کی بنیادی وجہ اس کی قیمت ہے جو کہ امریکی ایف 16 سے 16 سے 18 لاکھ ڈالر کم ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے فضا میں ری فیولنگ، ڈیٹا لنک، توسیعی الیکٹرانک وارفیئر اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ یاد رہے کہ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ایک بڑی تعداد پاک فضائیہ کے فضائی بیڑے میں شامل کی جا چکی ہے۔

پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، پاکستان کی حفاظت کی ضامن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں نہایت سخت لہجہ اپنایا، مگر انہوں نے اب تک پابندیاں نہیں عائد کی ہیں، جیسا کہ ایران کے ساتھ ہوا، نہ ہی انہوں نے پاکستان کو شمالی کوریا کی طرح ‘مکمل طور پر تباہ’ کر دینے کی دھمکی دی۔ پاکستانی سفارتکاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ گرمجوش تعلقات نہ سہی مگر پھر بھی کام کی حد تک تعلقات کی گنجائش موجود ہے۔ مگر یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اسلام آباد افغانستان سے متعلق امریکا کی ‘نئی’ پالیسی سے متفق نہیں ہے۔ یہ افغانستان کی جنگ اپنی زمین پر نہیں لڑے گا۔ یہ افغانستان میں ہندوستان کے وسیع کردار کی مخالفت کرتا رہے گا۔ اسلام آباد افغان طالبان اور کابل کے درمیان طویل تنازعے کے بجائے تنازعے کا سیاسی حل چاہتا ہے.

اگر پاکستان اور امریکا افغانستان پر اپنے حد درجہ مختلف مؤقف کو ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے، تب بھی ان اسٹریٹجک شراکت داریوں میں تبدیلی ہوتی نظر آتی جو کہ ایشیاء میں پالیسیوں کا تعین کریں گی۔ امریکا نے ایشیاء میں چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے ہندوستان کو اپنا اسٹریٹجک شراکت دار منتخب کر لیا ہے۔ نتیجتاً پاکستان کی سلامتی کے لیے ہندوستان کی جانب سے کیا خطرات پیدا ہوتے ہیں، اِس سے امریکا کو یا تو کوئی فرق نہیں پڑتا، یا پھر خطے میں ہند امریکی بالادستی کے خلاف پاکستان کی مزاحمت کو کمزور کرنا اِس کی پالیسی کا حصہ ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع کے حالیہ دورہءِ ہندوستان نے اِس اسٹریٹجک اتحاد کی تصدیق کرتے ہوئے افغانستان میں اُن کے تعاون پر مہر ثبت کر دی ہے۔ ہندوستانی ڈکٹیشن کی مزاحمت اور امریکا کی اسٹریٹجک پالیسیوں کی مخالفت کرنے کی قابلیت پاکستان میں ایک اہم وجہ سے موجود ہے۔ وہ اہم وجہ پاکستان کی ایٹمی اور میزائل صلاحیت ہے۔ اس کے بغیر پاکستان پر یا عراق کی طرح حملہ کر دیا جاتا یا پھر ایران کی طرح پابندیاں لگا دی جاتیں۔ دوسری جانب شمالی کوریا اپنی تنہائی کے باجود امریکا کو نیچا دکھانے میں اِس لیے کامیاب ہے کیوں کہ وہ ایک ایٹمی قوت اور میزائل ٹیکنالوجی کی ماہر قوم ہے۔

ایک اسلامی ایٹمی قوت امریکا اور زیادہ تر مغربی ممالک کے لیے ہمیشہ سے گلے کی ہڈی کی طرح تھی۔ یہاں تک کہ جب پاکستان امریکا کا قریبی اتحادی تھا، تب بھی امریکا کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح اِس کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو بتدریج کم کرتے ہوئے ختم ہی کر دیا جائے۔ امریکا کے ہندوستان کے ساتھ اتحاد کے بعد اِن کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرامز کے خلاف تفریق پر مبنی ٹیکنولوجیکل اور سیاسی پابندیوں کے علاوہ امریکا اب مطالبہ کر رہا ہے کہ پاکستان اکیلے ہی ایٹمی مواد اور تھوڑے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں کی تیاری بند کر دے۔

مگر اِس کے ساتھ ہی یہ ہندوستان کی اِس کے ایٹمی اسلحے میں اضافے اور جدت لانے، اِس کی میزائل اور اینٹی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں میں اضافے، اور اِس کی فضائی و بحری افواج اور سیٹلائٹ اور خلائی پروگرام میں ترقی کے لیے بھرپور مدد کر رہا ہے۔ باوثوق رپورٹس جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، موجود ہیں کہ امریکا نے کسی تنازعے یا بحران کے دوران پاکستان کے ایٹمی اسلحے پر قبضہ کرنے یا اِسے برباد کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے دہشتگردوں کے ہاتھ لگ جانے، یا اِس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز طور پر پاک فوج کے ‘انتہاپسند’ فوج میں تبدیل ہو جانے کے خیالی پلاؤ بنا رکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کی خوفناک صورتحال پیدا کی جا سکتی ہے تاکہ ‘قبضہ کرو اور تباہ کرو’ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک اور جنگ ہو گئی، تو حالات میں مزید خرابی آئے گی۔ کشمیر دونوں ممالک کے بیچ ایک جاری تنازع ہے جو ایٹمی جنگ کو ہوا دے سکتا ہے۔ چوںکہ دونوں ممالک کی فوجی قوت میں عدم توازن موجود ہے، اِس لیے پاک و ہند جنگ کے فوری طور پر ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ اِس لیے جنگ کا تو سوچا بھی نہیں جانا چاہیے۔ مگر پھر بھی ہندوستان کے سیاسی اور عسکری قائدین پاکستان کے خلاف ‘سرجیکل اسٹرائیکس’ اور ‘محدود’ جنگ کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہندوستان نے کبھی پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کا فیصلہ بھی کیا تو اُسے پہلے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کرنے کے لیے حملہ کرنا ہو گا، یا پھر ہندوستان کے لیے یہ کام امریکا سرانجام دے گا ؟ پاکستان کو دونوں ہی طرح کی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اسلام آباد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ماضی میں اپنے ایٹمی اثاثوں کی ‘سلامتی و تحفظ’ کے لیے امریکا سے ‘تعاون’ کی وجہ سے امریکا کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں اچھی خاصی انٹیلیجنس حاصل ہے۔ مگر پاکستانی حکام امریکا کی پاکستان کے اثاثوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت کو درست طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے پاس کئی ہتھیار، کئی جگہوں پر پھیلے ہوئے اور اچھی طرح محفوظ ہیں، اِس لیے اِن پر قبضہ، یا اِن پر حملہ کر کے اِنہیں برباد نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ایٹمی ہتھیار ڈیلیور کرنے والے سسٹم (میزائل وغیرہ) کو چھپانا یا محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

کسی بھی تنازعے کی صورت میں ابتدائی حملے کا شکار یہ ڈیلیوری سسٹم ہی بنیادی ہدف ہوں گے۔ کسی بھی تنازعے کی صورت میں جب انہیں الگ رکھے گئے وار ہیڈز سے ملایا جا رہا ہو گا، تو اُن کی جگہوں کا پتہ لگانا آسان ہو جائے گا۔ اِس کے علاوہ، جیسا کہ حال ہی میں کوریا میں دیکھا گیا، میزائل لانچ کو سائبر حملوں اور دیگر تکنیکی ذرائع سے سبوتاژ کیا جا سکتا ہے۔ اِس اسٹریٹجک صورتحال میں پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہی بیرونی خطرات اور دباؤ کے خلاف پاکستان کی سب سے بڑی قوت ہیں۔ پاکستان کو اپنی ایٹمی صلاحیت کو قابلِ اعتبار بنائے رکھنے کے لیے کئی اقدامات کرنے چاہیے۔ پہلا، شمالی کوریا کی طرح آرٹلری اور تھوڑے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ہندوستان کے کولڈ اسٹارٹ حملے کے خلاف مزاحمت کی پہلی صف کے طور پر تنصیب۔ اِس سے ہندوستانی حملہ ناکام ہو جائے گا اور ایٹمی حملے کی نوبت اوپر چلی جائے گی۔

دوسرا، پاکستان کو ایٹمی حملوں کی صلاحیت رکھنے والے طویل، درمیانے اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تعداد بڑھانی ہو گی تاکہ ہندوستان کے کسی بھی بیلسٹک میزائل سسٹم کا توڑ کیا جا سکے۔ تیسرا، پاکستان کو اپنے میزائلوں پر ایٹمی وار ہیڈز کی تنصیب کے لیے لگاتار ایٹمی مواد تیار کرتے رہنا ہو گا۔ چوتھا، جوابی حملے کے لیے کم از کم کچھ میزائل ایٹمی وارہیڈز سے لیس کر کے اُنہیں پوشیدہ رکھ کر تیار رکھنا ضروری ہے۔ اِس کے علاوہ آبدوزوں پر نصب بیلسٹک میزائل پاکستان کو دوسرا حملہ کرنے کی صلاحیت فراہم کر سکتے ہیں۔ پانچواں، مؤثر فضائی دفاعی نظام اور محدود اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹمز کی تنصیب ضروری ہے تاکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو محفوظ بنایا جا سکے۔

چھٹا، سائبر جنگ کے لیے حملے اور دفاع، دونوں کی صلاحیت پیدا کی جانی چاہیے۔ اِس سب کے علاوہ، پاکستان کو جلد سے جلد خبردار کرنے والے سسٹمز، جن میں سیٹلائٹس، طیارے اور ڈرونز شامل ہیں، حاصل کرنے چاہیے۔ اِس دوران پاکستان کو چین کے ایسے سسٹمز سے مدد لینی چاہیے۔ آخر میں یہ کہ چین کی بری، بحری اور فضائی افواج کے ساتھ اسٹریٹجک اور روایتی مزاحمت کی صلاحیت بڑھانی چاہیے تاکہ کم وقت اور کم خرچ میں فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
ایک بار پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کے مکمل طور پر قابلِ اعتبار ہونے کو واضح کر دے گا، تو جنوبی ایشیاء میں قیامِ امن اور مسئلہ کشمیر کے حل کی اس کی کوششوں پر ہندوستان اور امریکا، دونوں ہی کی جانب سے مثبت ردِ عمل کی توقع ہے۔ اِس کے بعد پاکستان اپنے سماجی و اقتصادی مقاصد کو بیرونی جارحیت، مداخلت اور دباؤ کے خوف کے بغیر حاصل کر سکے گا۔

منیر اکرم

لکھاری اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 1 اکتوبر 2017 کو شائع ہوا۔
 

پاک بحریہ کا جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستانی بحریہ نے سنیچر کو شمالی بحیرہِ عرب میں بحری جہاز شکن فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ سی کنگ ہیلی کاپٹر نے کھلے سمندر میں یہ مظاہرہ کیا اور کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔ اس موقعے پر پاکستانی بحریہ کے سربراہ محمد زکا اللہ نے مظاہرے کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا سی کنگ ہیلی کاپٹر سے میزائل کا کامیاب مظاہرہ پاکستانی بحریہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جنگی تیاری کا واضح ثبوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی بحریہ اپنے وطن کی سالمیت اور مفادات کا ہر قیمت ہر دفاع کرے گی۔ یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستانی بحریہ نے آبدوز سے کروز میزائل ‘بابر تھری’ کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ بابر تھری کروز میزائل کا تجربہ بحیرہ ہند سے کیا گیا جس نے خشکی میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس کروز میزائل بابر تھری 450 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل زیر سمندر موبائل پلیٹ فارم سے لانچ کیا گیا تھا۔ میزائل بابر تھری کئی قسم کے جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نچلی پرواز کرسکتا ہے۔

سنہ 1965 کی جنگ میں ’جب پاکستانی بمباری سے ڈر کر انڈین کمانڈر کھیتوں میں چھپ گئے‘.

سنہ 1965 کی جنگ کے دوران لاہور محاذ پر انڈین فوجیوں کو ابتدائی کامیابی تو مل گئی تھی لیکن زمین پر حالات بہت اچھے نہیں تھے۔ میجر جنرل نرنجن پرساد کی 15 ڈویژن میں زبردست افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ مغربی کمان کے سربراہ جنرل ہربكش سنگھ کو جب وائرلیس پر جنرل نرنجن پرساد کا پیغام ملا کہ ان کی ڈویژن پر پاکستان کی دو ڈوژنوں نے حملہ کیا ہے اور ان کی بریگیڈ کو اچّھوگل نہر سے سات کلومیٹر واپس گوسلگيال تک ہٹنا پڑا ہے، تو وہ حیران رہ گئے۔
انھوں نے جنرل نرنجن پرساد کو پیغام بھیجا کہ چاہے جو ہو جائے آپ اپنی پوزیشن سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میں اور کور کمانڈر آپ سے ملنے آپ کے ٹھکانے پر ہی آ رہے ہیں۔

جنرل ہربكش سنگھ نے ڈرائیور کو جیپ کے پیچھے بیٹھنے کو کہا اور خود ڈرائیو کرنے لگے۔ جب وہ جی ٹی روڈ پر پہنچے تو وہاں کا نظارہ دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔ ہر جگہ انڈین گاڑیاں جل رہی تھیں۔ سڑک پر پاکستانی جہازوں کی بمباری سے بڑے بڑے گڑھے بن گئے تھے اور پاکستانی طیارے بھی اوپر اڑ رہے تھے۔
جنرل ہربكش سنگھ اپنی سوانح عمری ان دی لائن آف ڈیوٹی میں لکھتے ہیں، ’ہم دیکھ رہے تھے کہ 15 ڈویژن کی گاڑیاں سڑک پر ادھر ادھر پڑی ہوئی تھیں۔ ان کے ڈرائیور انہیں چھوڑ کر بھاگ چکے تھے۔ بہت ٹرینوں کے تو انجن تک بند نہیں کیے گئے تھے۔ سڑک کے بیچو بیچ ایک ہتھیار بند گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ اس میں کوئی نہیں تھا لیکن چابی لگی ہوئی تھی۔ میں نے اسے سڑک سے ہٹوا کر کنارے لگوایا۔‘

ہربكش سنگھ کو ڈویژنل ملٹری پولیس کی ایک گاڑی گنے کے ان کھیتوں کے پاس لے گیا جہاں 15 ڈویژن کے کور کمانڈر میجر جنرل نرنجن پرساد پاکستانی بمباری سے بچنے کے لیے رو پوش تھے۔ ہربكش سنگھ لکھتے ہیں، ’جب جنرل نرنجن پرساد مجھے ریسیو کرنے آئے تو ان کے جوتے کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے۔ ان کے سر پر ٹوپی نہیں تھی اور انھوں نے داڑھی بھی نہیں بنائی ہوئی تھی۔ ان کی وردی پر ان کا عہدہ بتانے والے سارے نشانات غائب تھے۔ میں نے ان کو اس حال میں دیکھ کر براہ راست سوال کیا آپ ڈویژن کے جنرل افسر کمانڈنگ ہیں یا قلی؟ آپ نے داڑھی کیوں نہیں بنائی ہے اور آپ کی رینک کے بیج کہاں ہیں؟‘

ابھی یہ سوال جواب چل ہی رہے تھے کہ دو پاکستانی جنگی طیارے بہت نیچے پرواز بھرتے ہوئے ان کے سر کے اوپر سے گزرے۔ جنرل نرنجن پرساد نے جنرل ہربكش سنگھ کو پاس کی جھاڑی میں کھینچنے کی کوشش کی۔ ہربكش سنگھ نرنجن پرساد پر زور سے چلائے اور بولے ’دشمن کے جہازوں کی ہم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ویسے بھی وہ ہمیں نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ وہ ان گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں آپ نے سڑک پر یوں ہی چھوڑ دیا ہے۔‘ جنرل ہربكش نے نرنجن پرساد سے پوچھا، ’آپ کے بریگیڈ کمانڈر کہاں ہیں؟‘

ہربكش نے ان سے پوچھا، ’آپ لوگ کہاں ہیں؟‘ نرنجن پرساد نے آواز لگائی ’پاٹھک، پاٹھک۔‘ جب پاٹھک وہاں پہنچے تو ان کا چیہرہ سفید تھا۔ پاٹھک نے کہا ‘وہ لوگ واپس آ رہے ہیں لیکن بہت لوگوں کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے وہ غیر فعال ہو گئے ہیں۔‘ ہربكش نے پوچھا، ’کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں؟ پاٹھک نے جواب دیا 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جنرل ہربكش سنگھ نے کہا، ’4000 میں سے صرف 30 افراد زخمی ہیں اور آپ کہہ رہے ہے مکمل بریگیڈ غیر فعال ہو گئی ہے؟‘ جنرل ہربكش سنگھ نے انہیں نئے سرے سے آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ انھوں نے جنرل نرنجن پرساد سے کہا کہ وہ بریگیڈ کی پیش رفت پر نظر رکھیں اور اگلی صبح کور کمانڈر کو آپریشن کی اطلاع دیں۔

1965 کی جنگ
سات ستمبر کو نرنجن پرساد اپنی بریگیڈ کی پوزیشن جاننے کے لیے اے ڈی سی کے ساتھ ایک جیپ پر سوار ہو کر آگے بڑھے۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ ان پر پاکستانیوں نے میڈیم مشین گن سے فائر کیا۔ نرنجن پرساد اور ان کے ڈی سی گاڑی چھوڑ کر قریب کے کھیتوں میں چھپ گئے۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے انھوں نے پیچھے آنے والی جیپ کا استعمال کیا۔ ان جیپوں میں سوار لوگوں سے پیدل واپس آنے کے لیے کہا گیا۔ انھوں نے اپنی جیپ وہیں کھیتوں میں چھوڑ دی جس میں ان کا ایک بریف کیس رکھا ہوا تھا۔ اس میں کئی اہم کاغذات بھی تھے۔ جیپ پر ڈویژن کا جھنڈا اور سٹار پلیٹ بھی لگی ہوئی تھی۔

بعد میں یہ جیپ پاکستانی فوجیوں کے ہاتھ لگ گئی اور ریڈیو پاکستان نے بریف کیس میں رکھے کاغذات نشر کرنا شروع کر دیے۔ ان کاغذات میں جنرل ہربكش سنگھ کے خلاف فوجی سربراہ سے کی گئی شکایت بھی تھی۔ 11 ویں کور کے کمانڈر، نرنجن پرساد کی اس غلطی کے لیے ان کا کورٹ مارشل کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل چوہدری نے نرنجن پرساد سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا۔ ان کی جگہ میجر جنرل موہندر سنگھ کو 15 ڈویژن کا نیا کمانڈر بنایا گیا۔ بعد میں جنرل نرنجن پرساد نے جنرل جوگندر سنگھ کو دیے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی کہ انھوں نے جیپ میں کوئی اہم کاغذ چھوڑے تھے۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا، ’میں جیپ میں صرف ایک پیڈ چھوڑ کر آیا تھا۔ بعد میں میرے افسروں نے مجھے اس معاملے پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور میرے خلاف انکوائری اس شخص کو سونپی گئی جس کی خفیہ رپورٹ میں میں نے اس کے خلاف لکھا تھا۔‘ جوگندر سنگھ اپنی کتاب ’بیہائنڈ دا سین’ میں جنرل نرنجن پرساد کا دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نرنجن کو اس لیے نہیں برطرف کر دیا گیا کہ وہ ایک بزدل کمانڈر تھے بلکہ اس لیے کہ وہ ایک ’ڈیفیكلٹ سب آرڈینیٹ‘ تھے۔ جوگندر سنگھ اور ہربكش سنگھ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن کچھ غیر جانبدار مبصرین جیسے میجر کیسی پرول اور میجر آغا ہمايوں امین کا خیال ہے کہ نرنجن پرساد کی ڈویژن نے بہتر مواقع کو ہاتھ سے نکل جانے دیا اور ان کی وجہ سے انڈیا کی کافی سبکی ہوئی۔

ریحان فضل
بی بی سی ہندی، دہلی
 

Nation solemnly remembers the heroes and martyrs of 1965 war

Defence Day of Pakistan marking the 52nd anniversary of the 1965 war is being celebrated with traditional fervour and solemnity across the country. The day began with special prayers for the progress and prosperity of Pakistan, followed by the change of guards ceremonies at the mausoleums of Allama Iqbal in Lahore and Quaid-i-Azam in Karachi, and a ceremony at the Pakistan Navy headquarters in Islamabad. A smartly attired contingent of Pakistan Air Force (PAF) cadets assumed the responsibility of security during an impressive ceremony with Air Vice Marshal (AVM) Imran Khalid as the chief guest on the occasion.
Meanwhile, all the formations and units of the Lahore Garrison also observed Defence Day with solemnity and remembrance and paid tributes to the martyrs of 1965 war. Corps Commander Lahore General Sadiq Ali visited Ravi Siphon near Batapur and laid floral wreath on the monument of 1965 War’s martyrs. The highlight of the day will be a function tonight at General Headquarters in Rawalpindi to pay tribute to the martyrs.

پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کیوں ؟

بارک شاہ ان دو پولیس افسروں میں شامل تھے جو چار دنوں کے مختصرعرصے میں کوئٹہ اور چمن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ مبارک شاہ کو کوئٹہ شہر میں دن دہاڑے تین محافظوں سمیت گھر کے قریب ہی مارا گیا۔ وہ 1985 میں بلوچستان پولیس میں بطور انسپیکٹر بھرتی ہوئے اور 2000 میں ایس پی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بڑے بیٹے عبد الستار کا کہنا ہے کہ اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ پشتونوں کے غیبزئی قبیلے میں اس عہدے پر پہنچنے والے واحد شخص تھے۔
عبد الستار کا کہنا ہے کہ ان کا رویہ گھر میں سب کے ساتھ دوستوں جیسا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘خطرات کے پیش نظر ان کو گھروالوں نے سیکورٹی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر انھوں نے کہا کہ میں نے کسی کے بچوں کو نہیں رلایا تو کوئی ان کے بچوں کو کیوں رلائے گا۔’

سنہ 2000 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے پولیس اہلکاروں پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب بھی جاری ہے۔ محکمۂ داخلہ حکومت بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 میں 111 پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ گذشتہ سال پولیس ٹریننگ کالج پر ہونے والے تین خود کش حملوں میں 61 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

سال ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار
2011 23
2012 46
2013 88
2014 35
2015 36
2016 111

رواں سال میں اب تک تین افسروں سمیت 15 سے زائد پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ پولیس اہلکار آسانی کے ساتھ کیوں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں، اس بارے میں سینیئرصحافی سلیم شاہد نے اس کی چند وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ‘پولیس اہلکار کسی گیریژن میں نہیں رہتے۔ وہ الگ بیرکوں میں بھی نہیں رہتے ۔ پولیس اہلکار عام آبادیوں میں رہتے ہیں اس لیے وہ آسانی کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔’ پولیس کے مطابق فورس کے اہلکاروں کی آسانی کے ساتھ ٹارگٹ بننے کی ایک وجہ تحفظ کے لیے جدید سہولیات کا فقدان ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مقتول ایس پی مبارک شاہ نے اعلیٰ حکام کو بلٹ پروف گاڑی کی فراہمی کے لیے تحریری درخواست دی تھی لیکن انھیں گاڑی فراہم نہیں کی گئی۔

تاہم ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ فورس کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے نشانہ بننے کی وجہ شہری علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’سب کو اندازہ ہے کہ اس جنگ میں ہم شہری علاقوں میں فرنٹ لائن پر ہیں۔ فوج ایک اور طریقے سے اس جنگ کو لڑ رہی ہے لیکن شہری علاقوں میں پولیس اور ایف سی فرنٹ لائن پر ہیں۔’ محکمۂ پولیس کے مطابق 2000 سے لے کر اب تک بلوچستان میں 835 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

محمد کاظم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
 

یومِ شہدائے پولیس

فوج کے علاوہ پولیس کے افسر اور جوان بھی کئی سالوں سے حالتِ جنگ میں ہیں، ان کے سپاہی سے لے کر آئی جی تک نے دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ پولیس کے جونیئر ہی نہیں سینئر افسروں نے بھی برضا ورغبت اپنی سب سے قیمتی متاع زندگی کی قربانی دی ہے تاکہ ملک کے عام شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہیں، قوم کے یہ محافظ، یہ انوکھے جذبوں سے سرشار متوالے بلاشبہ قوم کے بہت بڑے محسن ہیں۔ آج وطنِ عزیز کے شہروں میں زندگی کی گہما گہمی اور ریل پیل اور دفتروں، بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں انھی کے دم سے ہیں۔

آج ملک کے کروڑوں شہری رات کو سکون سے میٹھی نیند سوتے ہیں تو یہ سکون انھی شہیدوں کی قربانیوں کے طفیل ہے۔ آج قوم کے کروڑوں بچّے اسکولوں سے بحفاظت گھروں کو لوٹتے ہیں تو یہ امن بھی شہیدوں کے خون کا صدقہ ہے ۔ ان کی بیمثال قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے، اس کا زیادہ سے زیادہ ذکر بھی ہونا چاہیے۔ غالباً اسی لیے نیشنل پولیس بیورو نے ملک کے تمام صوبوں اور خطّوں میں پولیس کے شہداء کے لیے ایک دن مخصوص کر دیا تا کہ اسے یومِ شہدائے پولیس کے طور پر منایا جائے۔

کسی کام کے لیے ایک دن مخصوص کر دیا جائے تو سال کے باقی ماندہ دنوں میں انسان اُس سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور اسے کسی حد تک فراموش کر دیتا ہے۔ مگر قوم کے محسنوں کو سارا سال یاد رکھنا چاہیے اور ہمارے محسن اور ہیرو ہمارے دلوں سے کبھی محو نہیں ہونے چاہئیں، خاص دن کے بارے میں معلوم کیا تو بتایا گیا کہ چار اگست چونکہ پولیس کے سب سے سینئر شہید آئی جی صفوت غیوّر کا یومِ شہادت ہے اس لیے نیشنل پولیس بیورو نے اس دن کو ہی پورے ملک کے لیے یومِ شہداء قرار دے دیا ہے۔

یہ بھی مناسب فیصلہ ہے مگر سال میں صرف ایک روز شہداء کی قبروں پر پھول چڑھا دینا کافی نہیں ہے، قوم کے یہ عظیم محسن اس سے کہیں زیادہ کے حقدار ہیں۔ صرف عیدوں پر نہیں ہر مہینے ضلع کا کوئی ایس پی یا ڈی ایس پی رینک کا افسر شہداء کے لواحقین سے جاکر ضرور ملا کرے اور ان کی خَیریّت اور مسائل کے بارے میں دریافت کرتا رہے۔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قافلۂ شہدأ کائناتوں کے خالق اور مالک کا بہت لاڈلا اور پسندیدہ گروپ ہے، اتنا پسندیدہ کہ اسکے لیے ربّ ِ کائنات نے اپنے بنائے ہوئے اصول اور قانون تک بدل ڈالے، مالک کا واضح اعلان ہے کہ ’’کُلُّ نفس’‘ ذ ائقتُہ الموت‘‘ ہر شخص موت سے ہمکنار ہو گا مگر ایک گروپ کو موت سے بھی استثنأ دے دی گئی ہے۔ فرمایا شہید زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے مگر آپ کو اس کا ادراک نہیں ہے۔

جب زندگی اور موت کے خالق اور فرمانروا نے فرما دیا کہ شہید زندہ ہیں تو کون ہے جو ان کا نام دفتروں کے رجسٹروں اور کتابوں سے کاٹے۔ پھر تو ان کی تنخواہ بھی جاری رہنی چاہیے جب حکومتی سطح پر اس چیز کا احساس دلایا گیا تو بات فوراً تسلیم کر لی گئی اور فیصلہ ہو گیا کہ شہیدوں کی تنخواہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک جاری رہیگی اور انکریمنٹ بھی لگا کرے گی مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ شہداء کے بوڑھے والدین اور ان کی بیوگان کو دفتروں کے چکّر کاٹنے پڑتے ہیں۔
صوبوں کے آئی جی صاحبان پر لازم ہے کہ وہ اس چیز کو یقینی بنائیں کہ شہداء کے پسماندگان کو تمام واجبات ان کے گھروں پر ہی وصول ہوں اور جس ضلعے میں انھیں دفتروں کے چکّر کاٹنے پڑیں اور کلرکوں کی منتّیں کرنی پڑیں وہاں ضلع سربرہ کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اگر کسی شہید کا والد یا بھائی کبھی پولیس کے ضلع سربراہ کو ملنے آئے تو پولیس کمانڈر انھیں انتظار کرائے بغیر فوری طور پر خوشدلی سے ملیں، انھیں اپنے دفتر میں پوری عزّت دیں، اچھی چائے پلائیں اور ان کا مسئلہ حل کرانے کی پوری کوشش کریں۔

یومِ شہداء پر ہر ضلع ہیڈکوارٹر میں تقریبات منعقد ہونی چاہئیں اور یہ تقریبات پولیس لائنوں کے بجائے ڈسٹرکٹ کونسل ہال یا کسی بڑے آڈیٹوریم میں منعقد ہوں جہاں شہداء کی فیمیلیز کے علاوہ ضلع کے نامور دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، صنعت و تجارت اور بارایسوسی ایشنز کے نمائیندوں، علمائے کرام اور نوجوان طلباء و طالبات کو بھی مدعو کیا جائے، ایسی تقریبات میں ٹاؤٹ یا بدنام لوگ ہرگز نظر نہیں آنے چاہئیں شہداء کی یاد میں منعقد کی جانے والی فوج کی تقریبات بڑی جاندار اور پُر اثر ہوتی ہیں، پولیس کو فوج کی تقریبات کی وڈیوز دیکھ کر اپنی تقریبات کا Format ان کے مطابق بنانا چاہیے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آج بھی شہداء کے لیے منعقد کی گئی تقریبات میں باون سال پہلے (سن پینسٹھ کی جنگ کے دوران) شہداء کے لیے لکھّے گئے لافانی نغمے گونجتے ہیں، اسمیں کوئی شک نہیں کہ سن پینسٹھ میں بھارت کے خلاف ہونے والی جنگ میں ملک کے شاعروں نے ایسے بے مثال نغمے تخلیق کیے اور موسیقاروں نے ایسی پاور فل دھنیں تخلیق کیں کہ وہ آج بھی ہر عمر کے لوگوں کے رگ و پے میں بجلیاں دوڑادیتی ہیں مگر ہمارے شعر و نغمہ کا میدان بنجر کیوں ہو گیا ہے؟ اس معیار کے نغمے پھر کیوں تخلیق نہیں ہو سکے؟۔

دلوں کے تار ہلا دینے والی اور نوجوانوں کو جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دینے والی دھنیں بنانے والے تخلیق کار کہا ں چلے گئے؟ چونکہ قوم کے محافظوں کے خون سے گلشنِ وطن کی آبیاری کا سلسلہ جاری ہے، اسلیے ان لازوال قربانیوں کی تحسین و توصیف کے لیے نئے نغمے تخلیق ہونے چاہئیں اور نئی دھنیں ترتیب دی جانی چاہئیں، ان تقریبات میں پیش ہونے والا شعر و نغمہ اعلیٰ معیار کا ہونا چاہیے، جو قوم کے بہادر سپوتوں کے عظیم کارناموں اور قربانیوں کے شایانِ شان ہو۔

سوال یہ ہے کہ اسقدر قربانیوں کے باوجود پولیس کو ایک نیک نام اور قابلِ احترام ادارے کی حیثیّت کیوں نہیں حاصل ہو سکی؟ پولیس یونیفارم عزّت کی علامت کیوں نہیں بن سکی؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ عوام اس وردی کو ناگوار نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اسلیے ہے کہ عوام کو پولیس سے کئی شکایات ہیں جن میں سے تین بڑی سنگین نوعیّت کی ہیں۔ پہلی یہ کہ پولیس ایماندار نہیں ہے، رشوت کے بغیر مظلوم کے آنسو پونچھنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ دوسرا یہ کہ عام آدمی کے ساتھ پولیس بدتمیزی اور بداخلاقی کے ساتھ پیش آتی ہے، اس کا روّیہ غیر ہمدردانہ ہے اور تیسرا یہ کہ پولیس کے زیادہ ترافسران قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کا قانون نافذ کرتے ہیں یعنی حکومت ِ وقت کے ذاتی نوکروں کا کردار ادا کرتے ہیں اور حکومتوں کے غیر قانونی احکامات بھی بجا لاتے ہیں۔

پولیس سب کی سانجھی ہونی چاہیے، سب کی ہمدرد، خیرخواہ اور غیر جانبدار لیکن عوام کو شکایت ہے کہ پولیس افسر صرف حکومتی پارٹی کے کام کرتے ہیں اور صرف انھیں ریلیف ملتا ہے۔ جو حکومتی پارٹی میں نہ ہوں انھیں انصاف کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں، دوسرے لفظوں میں پولیس اپنے سب سے بڑے Client یعنی عوام کے اعتماد سے محروم ہے۔ عزّت تو اعتماد سے بھی اگلا زینہ ہے۔ مختلف فورمز پر کئی بار کہا بھی ہے اور تحریر بھی کر چکا ہوں کہ پولیس کے دامن میں سب سے قیمتی اثاثہ ، شہداء کا خون ہے۔ شہید گاہے بگاہے اپنے لہوسے پولیس کے دامن پر لگے داغ صاف کرتے ہیں مگر کچھ بدبخت اہلکار رشوت خوری اوربددیانتی سے پولیس کا دامن پھر داغدار کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنے والے شہیدوں کے مقدّس خون کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔

ہر سطح کے پولیس کمانڈروں کو شہداء سے منسوب تقریبات میں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ “ہم کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوّث ہوکر شہداء کے خون کی توہین نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو توہین کرنے دیں گے”۔ آئی جیز دوٹوک الفاظ میں اعلان کریں کہ” کرپٹ اور حرام خور افسران پولیس کی یونیفارم پہننے کے مستحق نہیں ہیں، اُن سے وردی چھین لی جائے گی۔ محافظ کی یونیفارم صرف رزقِ حلال کھانے والوں کے جسم پر سجتی ہے اور وہی اس کے حقدار ہیں”۔

ذوالفقار احمد چیمہ