چینی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم پاک فوج کے دفاعی نظام میں شامل

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں چینی ساختہ لوٹو میڈیم  آلٹی ڈیوڈ ائیرڈیفنس سسٹم شامل کرلیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج میں دور تک کم اور درمیانی بلندی میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے والا نیا ائیرڈیفنس سسٹم شامل کر لیا گیا ہے۔ جس کے لئے راولپنڈی کے آرمی آڈیٹوریم میں تقریب ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ نئے ائیرڈیفنس سسٹم کے حصول کے بعد ہمارا دفاع مضبوط اورطاقت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور یہ سسٹم دور حاضر اور مستقل میں ائیرڈیفنس کے خطرات کا جواب دینے کے لئے فوج کا معاون اور مدد گار ثابت ہو گا۔

آئی ایس پی آرکے مطابق پاک فوج میں شامل کیا گیا ائیرڈیفنس سسٹم چینی ساختہ اور لوئر ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ ہے۔ ائیرسسٹم فضائی اہداف پرنظررکھنے اورانہیں ڈھونڈ کرتباہ کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ہے جب کہ ایل وائی 80 کے ذریعے لو ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ پر اڑنے والے دورتک کے اہداف کو باآسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔

چینی اور ترک فوجی بھی یوم پاکستان پریڈ کا حصہ ہوں گے

23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی پاک فوج کی خصوصی پریڈ میں رواں برس دوست ملک چین کے فوجی دستے اور ترکی کے ملٹری بینڈز بھی شامل ہوں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان دونوں ممالک سے شرکت کرنے والے خصوسی دستے پریڈ کا حصہ ہوں گے اور اس کی رونق میں اضافہ کریں گے۔ خیال رہے کہ 23 مارچ کی خصوصی پریڈ کے حوالے سے افواج پاکستان کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، ہر سال کی طرح اس برس بھی پریڈ کا انعقاد اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہو گا۔

جبکہ چینی فوجی دستے اور ترکی ملٹری بینڈ کی شرکت کے باعث اس برس کی پریڈ خاص اہمیت کی حامل ہو گی۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی ریہرسل جاری ہے، ریہرسل میں فضائیہ کے لڑاکا طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا۔ خیال رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں 23 مارچ 2008 کو منعقد کی گئی پریڈ کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس کا انعقاد روک دیا گیا تھا، جس کا دوبارہ آغاز سات سال بعد 23 مارچ 2015 سے ہوا۔

یہ بھی یاد رہے کہ یوم پاکستان تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری کی یاد دلاتا ہے۔ 75 سال قبل 1940ء کو اس دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی تھی جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔

خانہ کعبہ کے اندر

اگر نیت صاف، دل ودماغ ’’مَیں‘‘ سے پاک اور کوئی ذاتی مفاد نہ ہو تو پھر ناممکن بھی ممکن ہو جائے۔ جب ایک نسبتاً گرم دن کے بعد آئی شام، رات میں ڈھل کرخنکی کی چادر اُوڑھ چکی، جب چائے، کافی اور قہوے کے دور چل چکے، جب وہ اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ا پنی اُس ملاقات کا بتا چکے کہ جو تھی تو آدھے گھنٹے کی اور جو شروع ہوئی انتہائی Tenseماحول میں مگر جاری رہی ڈھائی گھنٹے تک اور جس کا اختتام ہوا پرجوش معانقوں اورمحبت بھرے اندا زمیں، جب وہ دبئی کے حکمران شیخ محمد سے ہوئی اپنی ایک بہت ہی سود مند ملاقات کا حال سنا چکے، جب چینی قیادت سے ہوئی انکی ملاقاتوں پر گفتگو ہو چکی، جب قطر کے امیر کے گھر ایک کھلے ڈھلے ماحول میں ہوئی ایک لمبی نشست پر بات ہو چکی، جب انکا برطانوی دورہ بھی ڈسکس ہو چکا اور جب کلبھوشن سے احسان اللہ احسان تک ہر موضوع زیرِبحث آچکا.

تب مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو میں ہر بار پوچھنا بھول جاتا تھا ’’بحیثیت آرمی چیف سعودی عرب کے پہلے ہی دورے میں آپ کو خانہ کعبہ کے اندر جانے کی سعادت ہوئی، یہ کیسے ہو گیا ‘‘ میرے اس سوال پر اک عجیب سے اطمینان بھرے انداز میں صوفے سے ٹیک لگا کر چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولے ’ ’ سچی بات تو یہ کہ جس کا گھر، اسی کا کرم اور اسی کا بلاوا، ورنہ یہ پہلے سے طے نہیں تھا، دراصل ہوا یوں کہ ریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتوں کے بعد جب مدینہ آکر میں روضہ رسول ؐ پر سلام اور مسجد نبوی ﷺمیں نفل پڑھ کر فارغ ہوا تو سعودی باد شاہ کے پروٹوکول سربراہ جو پہلے میرےا سٹاف کو آگاہ کر چکا تھا، اس نے پھر ٹیلی فون پر مجھے بھی بتایا کہ’’ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خواہش پر عمرے کے بعد آپ کیلئے خصوصی طو ر پر کعبہ کا دروازہ کھولا جائے گا‘‘، یہ سنتے ہی میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور شکر ادا کرتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ خیر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرنے، شاہی مہمان خانے میں آکر احرام اتارنے، تھوڑی دیر آرام کرنے اور پھر عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سعودی شاہی فورس کا خصوصی دستہ ہمیں خانہ کعبہ کے دروازے تک لایا، جہاں سے میں اپنے وفد سمیت اللہ کے گھر کے اندر گیا ‘‘۔

سر باجوہ جونہی بات کرتے کرتے رُکے تو میں نے اگلا سوال کر دیا ’’کعبتہ اللہ میں جانے کیلئے جب آپ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، تب کیا احساسات تھے ‘‘، وہ قہو ے کا کپ اُٹھاتے ہوئے بولے ’’ بس بار بار اپنے گناہ گار ہونے اور اللہ کے گھر کے تقدس اور جاہ وجلال کا احساس ہو رہا تھا ‘‘ سر باجوہ نے رُ ک کر جیسے ہی قہوے کا گھونٹ بھرا تو میں نے ایک اور سوال کیا ’’خانہ کعبہ میں داخل ہو نے کے بعد کیا Feelings تھیں ‘‘لمحہ بھر کے توقف کے بعد وہ بولے ’’وہ Feelings لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتیں، وہاں پہنچ کر بھلا کسے ہوش رہتا ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے بندہ کسی اور ہی دنیا اور کسی اور ہی جہان میں پہنچ گیا ہو، وہاں جونہی یہ خیال آتا ہے کہ میں کہاں ہوں تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ‘‘.

اُنہوں نے بات مکمل کی تومیرا اگلا سوال تیار تھا ’’اللہ کے گھر میں داخل ہوتے وقت یا داخل ہو کر پہلی نظر پڑتے ہی کیا دیکھا اور اندر جا کر پہلا کام کیا کیِا ‘‘، اندر داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ کعبۃ اللہ کے ستونوں کے درمیان رسی پر بہت سارے برتن لٹکے ہوئے ہیں، یہ غالباً حضور ؐ کے دور یا اس سے بھی پہلے کے ہیں، باقی اندر جا کرمیں جیسے ہی نفل پڑھنے کیلئے ایک جگہ کھڑا ہوا تو سعودی شاہی گائیڈ مجھے ’’رکن یمنی ‘‘والی دیوار کے ساتھ ایک جگہ لے جا کر بولا ’’آپ یہاں نفل پڑھیں کیونکہ یہ مصلّیٰ رسولؐ ہے، حضورؐ یہاں نفل پڑھا کرتے تھے‘‘، میں نے پہلے وہاں نفل پڑھے پھر کعبۃ اللہ میں گھوم کر چاروں طرف نفل پڑھے اور پھر جب میں دعا مانگنے میں مصروف تھا تو اللہ کا مجھ پر ایک اور کرم ہوا کہ میرے لیئے کعبۃ اللہ کے اندر موجود ’’ توبہ کا دروازہ‘‘ بھی کھول دیا گیا اور میں نے باقی دعائیں وہاں جا کر کیں.

بات ختم کر کے غیر محسوس طریقے سے ٹشو سے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے سر باجوہ سے جب میں نے یہ پوچھا کہ ’’کوئی ایسی دعا جو آپ نے وہاں بار بار مانگی ہو‘‘توان کا جواب تھا ’’ویسے تو میں نے پاک فوج، اپنے شہداء، والدین، بچوں، رشتہ داروں اور دوست احباب کیلئے بھی بہت دعائیں کیں مگر خانہ کعبہ کے اندر میرے دل ودماغ پر پاکستان چھایا ہوا تھا، وہاں میں نے سب سے زیادہ دعائیں پاکستان کیلئے کیں اور مجھے اچھی طرح یاد کہ دعا مانگتے مانگتے جب میں یہاں پہنچا کہ ’’اے پاک پروردگار پُر امن اور مستحکم پاکستان کیلئے پاک فوج کی دی گئی قربانیاں رائیگاں نہ جانے دینا ‘‘تو میری جو کیفیت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے، یہاں میں یہ بھی ضرور بتانا چاہوں گا کہ ان لمحوں میں جب اندر میں اپنے ملک کیلئے دعائیں کر رہا تھا تو باہر کعبہ کا صحن نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، پاکستان زندہ باد اور پاک فوج پائندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا، میں عمر بھر یہ روح پرور لمحے نہیں بھلا سکتا، اِدھر سرباجوہ خاموش ہوئے اور اُدھر غیر ارادی طورپر جب میری نظر ان کے چہرے پر پڑی تو انکی آنکھیں پھر سے بھیگ چکی تھیں۔

صاحبو ! اُس رات نجانے کتنے موضوعات پر بات کر کے واپس آتے ہوئے بار بار میرے ذہن میں یہ خیال آرہا تھا کہ یہ نصیب نصیب کی بات کہ جو سعادت پچھلے دونوں چیفس کے حصے میں نہ آئی، وہ سعادت آتے ہی سرباجوہ کو حاصل ہو گئی، میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ بھلا کل تک کس کے وہم وگمان میں تھا کہ وہ کام جو پچھلے چیفس 9 سالوں میں نہ کر سکے، وہ جنرل قمر جاوید باجوہ صرف 5 مہینوں میں کر لیں گے، کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ صرف 150 دنوں میں اگر ایک طرف پنجاب میں رینجرز آپریشن شروع ہو جائے گا تو دوسری طرف 9 سالوں سے التوا میں پڑی مردم شماری کا آغاز ہو جائے گا، اگر ایک طرف کلبھوشن کو پھانسی کی سزا سنا دی جائے گی تو دوسری طرف عزیر بلوچ کا کیس فوجی عدالت میں آجائے گا اوراگر ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد لانچ ہو جائے گا تو دوسری طرف بیرونی محاذ پر افغان بارڈ مینجمنٹ پر عملی اقدامات سے لیکر دہشت گردوں کیخلاف افغانستان کے اندر 100 کلومیٹر تک کارروائی اور ہر محاذ پر بھارتی جارحیت کو منہ توڑ جواب بھی ملے گا.

اور پھر یہ کیا آسان کام ہے کہ صرف 5 مہینوں میں آرمی چیف کا نہ صرف اگلے مورچوں اور محاذوں پر لڑتے جوانوں سے دو تین بار ملنے پہنچ جانا، نہ صرف 150 دنوں میں ان کا پاکستان کا مقدمہ لے کر سعودی عرب، یو اے ای، چین، قطر اور برطانیہ سے بھی ہو آنا اور نہ صرف فاٹا میں جاری ترقیاتی کاموں سے لیکر سی پیک اور گوادر کی نگرانی کرنا بلکہ ریکوڈک کے معاملے سے لیکر پاک کی فوج کی جدید خطوط پر تربیت تک سب کچھ کر جانا، یہی نہیں، آگے بھی سنتے جایئے، گو کہ چھٹی والے دن بھی رات 3 تین بجے تک کام کرتے اور پاکستان میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنے کے خواہش مند جنرل باجوہ ان موضوعات پر نہیں بولتے مگر اب یہ سب کو معلوم ہو چکا کہ جنرل راحیل شریف کو زمین کے مسئلے سے نکالنے اور ان کے مسلم افواج کے کمانڈر بننے کے ڈی ٹریک ہو چکے معاملے کو پھر سے ٹریک پر لانے کا کریڈٹ بھی سر باجوہ کو ہی جائے اور پھر ہر قسم کی ٹوئٹ بازی اور کریڈٹ بازی کے چکروں سے دور بڑی خاموشی سے مختلف محاذوں پر بیک وقت ہوش اور جوش سے کام کرتے جنرل قمر باجوہ کی ملک سے محبت کا اندازہ لگائیے کہ جب امیرِ قطر انہیں کہتے ہیں کہ ’’برادر بتایئے میں آپ کیلئے کیا کر سکتا ہوں ‘‘ تو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ امیرِ قطر سے کہہ دیتے ہیں کہ ’’جتنا زیادہ ہو سکے میرے ملک کے بے روزگاروں کو قطر میں روزگار دیں ‘‘ اور جو گارڈ آف آنر کے بعد سڑک کے کنارے چلتے ہوئے برطانوی فوج کے چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دیں کہ ’’وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے حالات بھی ایسے ہو ں گے کہ میں بھی آپکو اسی طرح وہاں سیکورٹی کے بنا آزادانہ گُھما پھرا سکوں گا‘‘۔ صاحبو! میں تو جب بھی گھکھڑ منڈی سے کعبہ شریف میں توبہ کے دروازے تک حیرت انگیز کامیابیوں بھرا یہ سفر دیکھتا ہوں تو اللہ کے فضل کے بعد مجھے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہی کہ اگر نیت صاف، دل ودماغ ’’مَیں‘‘ سے پاک اور ذاتی ایجنڈا نہ ہوتو پھر ناممکن بھی ممکن ہو جائے۔

ارشاد بھٹی

راحیل شریف امت کے اتحاد کا سبب بنیں گے

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کا
کہنا ہے کہ ‘ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کےقریب لائیں گے‘۔ انھوں نے یہ بات پاکستان کی بحری سکیورٹی سے متعلق چیلنجز پر اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے 39 مسلم ممالک پر مشتمل سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘اتحاد مخالف ممالک’ کو اطمینان ہونا چاہیے کہ ‘اس اتحاد کی کمان جنرل راحیل شریف جیسے فوجی کے ہاتھ میں ہو گی۔’

ان کے خیال میں اگر جنرل راحیل یہ عہدہ قبول کرلیتے ہیں تو وہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات ختم کرنے اور دونوں ملکوں کو قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔ جنرل جنجوعہ کے بقول راحیل شریف ‘امت مسلمہ کے اتحاد کا سبب بنیں گے۔’ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو دہشت گردی کے خلاف 39 مسلم ممالک کے اتحاد کا سربراہ بننے سے متعلق اجازت نامے کے اجرا کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف کر چکے ہیں۔ دسمبر 2015 میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 30 سے زیادہ اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک تھے تاہم بعد ازاں ان کی تعداد 39 ہو گئی۔

لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کے مطابق اس اتحاد کی سربراہی کے معاملے پر ‘ذاتی حملوں سے گریز کرتے ہوئے دور رس نتائج پر نظر رکھنا ہوگی’۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف ‘اپنے تجربے اور فکر سے مسلم ممالک کی باہمی غلط فہمیوں کو دور کریں گے’۔ مشیر قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے انڈیا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا نے دو فرنٹ کھول رکھے ہیں جو ‘گھاٹے کا سودہ’ ہے کیونکہ یہ دونوں محاذ ‘ایٹمی طاقتوں’ یعنی چین اور پاکستان کے خلاف ہیں۔ مشیر قومی سلامتی کے مطابق پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب ‘ کاؤنٹر ٹیررازم ‘ تھا، جبکہ آپریشن رد الفساد ‘انتہا پسندانہ سوچ’ کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر کام جاری ہے جو کہ مذہبی انتہا پسندانہ بیانیے سے متعلق ہے۔ اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ‘مدارس کے حوالے سے جلد ایک اچھی خبر’ سنائیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مدرسہ اصلاحات پر کس حد تک کام کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘نفرت انگیز مواد کا خاتمہ بھی قومی ایکشن پلان کا حصہ ہے’، مگر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انٹرنیٹ پر موجود توہین آمیز مواد کے خاتمے کے لیے وزارت داخلہ کام کر رہی ہے جسے ان کی ‘مکمل حمایت’ حاصل ہے۔

فرحت جاوید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاک آرمی کے ساتھ ایک دن

pakistan-army

میجر حارث کی پیش کش کو ٹھکرایا نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 7 فروری کو ہم آپ کو آرمی کے جوانوں سے ملوانا چاہتے ہیں اور دکھائیں گے کہ وہ کس طرح دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہر دم کوشاں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کو گنڈا سنگھ بارڈر پر بھی لے جایا جائے گا، جہاں واہگہ بارڈر کی طرز پر ہر روز پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مَیں مقررہ مقام پر پہنچا تو وہاں بہت سے اجنبی چہرے دکھائی دیئے جو سویلین لباس میں تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی تو پتا چلا کہ یہ تمام احباب سول سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں بینکار، صنعت کار، تاجر اور وکلاء شامل تھے۔ ادیبانہ اور شاعرانہ چہرہ ایک بھی نہیں تھا۔ اتنے میں ایک صاحب بہت تیزی سے میری طرف آئے اور بولے: ’’شکر ہے کہ یہاں آپ موجود ہیں۔ اب مَیں سارا دن آپ کے ساتھ ہی رہوں گا‘‘۔ یہ اردو اور پنجابی زبان کے شاعر انیس احمد تھے۔ ان کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا۔ مجھے اپنا ایک شعر یاد آ گیا:

ناصر بشیر خود کو اکیلا ہی پاؤ گے

لوگوں میں ڈھونڈتے رہے گر اپنے جیسی بات5404febaceb3f

اسی اثناء میں مجھے ایک نہایت خوب صورت نوجوان، صاف ستھری فوجی وردی میں دکھائی دیا۔ یہی میجر حارث تھے جن کی دعوت پر مَیں یہاں پہنچا تھا۔ یادگارِ شہدا کے چبوترے پر نہایت چاق چوبند سپاہی بھاری رائفلیں تھامے کھڑے تھے۔ چند لمحوں کے بعد لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز آ گئے۔ وہ سویلین میں بالکل اسی طرح گھل مل گئے جس طرح ہمارے سیاسی زعمائے کرام فیصل مسجد یا بادشاہی مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد گھل مل جاتے ہیں۔ ابھی ہم ان کی رعب دار شخصیت کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس ایک اور صاحب آ گئے۔ میجر حارث اور لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز نے انہیں پروٹوکول دیا تو مَیں سمجھ گیا کہ یہ یقیناًان کے سینئر ہیں۔ یہ بریگیڈیئر عمران نقوی تھے۔ فوج کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ اس میں جونیئرز اپنے سینئرز کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں اور ان کے اشارے کو بھی حکم سمجھتے ہیں اور جہاں سینئر افسر موجود ہو، وہاں جونیئر اس سے کچھ فاصلے پر رہتے ہیں۔

مَیں چونکہ شاعر ہوں، اس لئے شاعروں کی مثال دوں گا کہ اب ادبی دنیا میں سینئر جونیئر کا فرق مٹ گیا ہے۔ نئے شاعر اپنے سینئرز کی نشستوں پر زبردستی قبضہ کر لیتے ہیں۔ نوجوان شاعر تقریب میں وقت پر آ جائیں تو اگلی نشستوں پر براجمان ہو جاتے ہیں جو سینئر ادیبوں شاعروں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔ صرف ادبی دنیا کا ہی نہیں، ہماری سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ کوئی بڑا سیاسی راہنما کہیں موجود ہو تو نووارد سیاست دان سینئر اور تجربہ کار سیاست دانوں کو پرے دھکیل کر خود اپنے رہنما کی بغل میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہاں موجود کیمروں کی آنکھیں انہیں دیکھ لیں تا کہ وہ بھی ٹیلی ویژن سکرین پر کچھ ثانیوں کے لئے ہی سہی، جلوہ گر ہو سکیں۔ میجر حارث نے میجر علی سے بھی ملوایا جو آئی ایس پی آر میں ہوتے ہیں۔ جب انہیں علم ہوا کہ یومِ یک جہتی کشمیر پر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نغمے میں پہلے دو شعر میرے ہیں تو ان کی گرم جوشی مزید بڑھ گئی۔ میرے دو شعر آپ بھی دیکھ لیجئے:

کشمیر! ترا حسن ہوا درد کی تصویر

آنسو ہیں تری آنکھ میں، پیروں میں ہے زنجیر

وہ کہتے ہیں آزادی کو اک خواب ہی سمجھو

ہم کہتے ہیں ہر خواب کی اک ہوتی ہے تعبیر

سانحۂ پشاور پر بھی آئی ایس پی آر نے دو نہایت شان دار نغمے جاری کئے تھے  لیکن یوم یکِ جہتی کشمیر پر ریکارڈ کیا گیا نغمہ ان کے معیار تک نہیں پہنچا۔ میرے دو شعر تحت اللفظ میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور مشہور

 شعر تحت اللفظ میں شامل کیا گیا ہے:

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ ریکارڈ کرنے والوں نے میرے دو شعروں میں بھی ایک غلطی کی اور اس شعر میں بھی غلطی کر دی۔ دوسرا مصرع یوں کر دیا:

جنت کسی کافر کو نہ ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ سنتے ہی مَیں نے آئی ایس پی آر اسلام آباد میں تعینات اپنے دوست یوسف عالمگیرین سے رابطہ کیا اور انہیں ان اغلاط سے آگاہ کیا۔ مَیں نے انہیں یہ کہا کہ نغمہ ریکارڈ کرنے سے پہلے مجھ سے نہ سہی، کسی اور شاعر سے رابطہ کر لیا جاتا تا کہ غلطی کا احتمال نہ رہتا۔ جو گانا گلوکار سے گوایا گیا ہے،اس کی شاعری کسی بحر میں نہیں ہے۔ میری اس بات کو آپ جملہ معترضہ جان لیجئے۔ کالم کا اصل موضوع تو آرمی کے ساتھ گزرے ہوئے دن کی روداد بیان کرنا ہے۔ یادگار شہدا سے تمام دوستوں کو محفوظ شہید گیریثرن لے جایا گیا۔ ٹینکوں کی سواری ، فائرنگ اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں سے نمٹنے کی مشقیں دیکھ کر دل کو یقین ہونے لگا کہ ہمارا ہر آتا ہوا دن بہتر سے بہتر ہوگا۔ وہاں سے کورہیڈ کوارٹر پہنچے ۔ جہاں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صادق علی ( بلال امتیاز) نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان کے قیام کے لئے بہادر پاکستانی افواج کی طرف سے کی جانے والی کامیاب کوششوں کے حوالے سے تفصیل سے معلومات دیں۔

انہوں نے وکلا، تاجروں، صنعت کاروں اور بینکاروں کے انتہائی تلخ سوالوں کے جوابات نہایت خندہ پیشانی سے دیئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یومِ کشمیر پر جاری کئے گئے نغمے میں میرے دو شعر شامل ہیں تو انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور حاضرین سے تالیاں بجوائیں۔ پُر تکلف چائے پینے کے بعد ہمیں قصور لے جایا گیا۔ ہماری بسوں کے آگے پیچھے فوجی گاڑیاں تھیں جو غالباً ہماری سیکیورٹی پر مامور تھیں۔ ظہرانے میں دیگر کھانوں کے ساتھ قصور کی تو ے والی مچھلی بھی وافر مقدار میں رکھی گئی تھی۔ مہمانوں کو جی بھر کے کھانا کھانے دیا گیا، کسی افسر نے کھانے کے آغاز میں جینٹل مین بسم اللہ کہا، نہ ختم کرنے کے لئے جینٹل مین الحمد للہ کہا۔ کرنل اشفاق حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فوجی میس میں اس وقت تک کھانا شروع نہیں کیا جاتا جب تک وہاں موجود سینئر افسر جینٹل مین بسم اللہ نہ کہے اور کھانے کے دوران میں جب وہی افسر جینٹل مین الحمد للہ کہے تو سب کو اپنا ہاتھ روکنا پڑتا ہے۔

کھانے کے بعد گنڈا سنگھ بارڈر پر پہنچے۔ جہاں پرچم اتارنے کی تقریب ہو رہی تھی۔ ہمارے لئے پہلے سے نشستیں مخصوص تھیں۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی لکیر کے عین اُوپر ایک بلی بیٹھی تھی۔ وہ کبھی پاکستانی فوجیوں کی طرف دیکھتی اور کبھی بھارتی فوجیوں کی طرف۔ وہ دراصل ان کے پاؤں کی دھمک سے خوفزدہ تھی۔ مَیں نے محسوس کیا کہ بھارتی فوجی اس بلی کو دیکھ کر بھیگی بلی بنے ہوئے تھے۔ بلی نے بھارت کی طرف جانا چاہا تو بھارتی فوجیوں نے اشاروں سے اسے پاکستان کی طرف دھکیل دیا۔ یہ وہی بھارتی فوج ہے جو ایک معمولی سے کبوتر سے بھی ڈر جاتی ہے۔ میرا یہ دن تھکا دینے والا تھا، لیکن فوجیوں کی مشقت بھری زندگی کی مصروفیات دیکھ کر مَیں مطمئن تھا کہ میرا پاکستان محفوظ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر اگر کوئی دیوار ہے تو وہ پاک آرمی ہے جس نے تمام خطروں کو روکا ہوا ہے۔

ناصر بشیر

آئیڈیاز 2016 : جنگی ساز و سامان کی نمائش

 پاکستان کے شہر کراچی میں اسحلے، جنگی ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی نمائش منعقد کی گئی ہے۔ 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستانی بیلسٹک میزائل ’’شاہین‘‘ صرف 3 منٹ میں دہلی کو تباہ کر سکتا ہے

 شاہین سوم (شاہین III) پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔ اس رینج اور رفتار کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کی صورت میں شاہین تھری بیلسٹک میزائل دہلی کو صرف تین منٹ میں نشانہ بنا سکے گا اور بھارتی فوج کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں شاہین تھری میزائل سے بھارت کے اُن سب سے دور دراز فوجی اڈوں کو بھی صرف 15 منٹ میں تباہ کیا جا سکے گا جو جزائر نکوبار و انڈمان میں واقع ہیں۔

یہ ’’شاہین بیلسٹک میزائل‘‘ سلسلے کا تیسرا میزائل ہے جس کی خاص بات اس میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہے۔ اسے بیک وقت کئی وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جو روایتی بھی ہوسکتی ہیں اور غیر روایتی (نیوکلیائی) بھی؛ جب کہ ان کا مجموعی وزن 1000 کلو گرام تک ہوسکتا ہے۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری ’’نیسکوم‘‘ اور ’’سپارکو‘‘ سے وابستہ پاکستانی انجینئروں اور سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جب کہ پاک فوج نے اس کا پہلا تجربہ 9 مارچ 2015 میں کیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس کے فوراً بعد شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری بھی شروع کردی گئی۔

یہ زمین سے زمین تک (سرفیس ٹو سرفیس) مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جسے متحرک لانچر کے ذریعے ہدف کی سمت داغا جا سکتا ہے۔ اس کا ٹھوس ایندھن والا راکٹ دو سے زائد مرحلوں میں جلتا ہے اور دورانِ پرواز یہ پچاس ہزار (50000) میٹر سے بھی زیادہ کی بلندی پر، خلا کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں میزائل سازی کا پروگرام بھرپور انداز میں جاری ہے جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح سے بگڑ چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس توازن کو بحال کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس بھی ایسے ہتھیار موجود ہوں جو بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں مؤثر جواب دے سکیں۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل بھی پاکستان کی ان ہی کوششوں کا حامل ہے جس کا مقصد دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہوئے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔