پاک نیوی نے میرین کروز مزائیل سے بھارت کو پانی کے نیچے سے ڈبونے کی صلاحیت حاصل کر لی

پاکستان میں پاک فوج کے ترجمان ادارے، آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے سب میرین لانچ کروز میزائل بابر کے ذریعے ’’ہدف کو درست نشانہ بنانے کا ایک اور کامیاب تجربہ کیا ہے‘‘۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ’’ملکی سطح پر بہتر بنایا گیا کروز میزائل بابر قابل بھروسہ اور سیکنڈ اسٹرائیک کی صلاحیت کا حامل میزائل ہے جو 450 کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو تباہ کر سکتا ہے‘‘۔ بتایا گیا ہے کہ ’’زیرآب آبدوز سے فائر کیے گئے اس کروز میزائل نے تمام مقررہ پیرامیٹرز کے مطابق، کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا‘‘۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے اس تجربہ کی فوٹیج بھی جاری کی گئی ہے جس میں زیرآب میزائل حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے جس کے بعد یہ میزائل پانی سے نکل کر پرواز کرتا ہوا خشکی پر اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ’’یہ میزائل مختلف اقسام کے روایتی اور غیر روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ میزائل فائر کرنے کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، چیئرمین نیسکام، کمانڈر نیول اسٹریٹجک فورس کمانڈ، اعلیٰ حکام، سائنس دان اور انجینئرز موجود تھے۔

Advertisements

چین کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی

چین کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی کو پاکستان میں کئی ماہرین نے پاکستانی دفاع کے لئے مثبت قرار دیا ہے اور ان کے خیال میں یہ چینی اقدام خطے میں استحکام پیدا کرے گا۔ دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹارئرڈ انعام الرحیم کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کی بدولت پاکستان بھارت کا مقابلہ کر سکتا ہے، ’’آج کے دور میں بیلنس آف پاورکو نظر انداز کرنا تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بھارت روایتی طور پر مضبوط ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں فوری طور پر بھارت کے عزائم کا پتہ چل سکتا ہے اور ہم بھر پور جواب کی تیاری کر سکتے ہیں۔ ہم نے اس ٹیکنالوجی کی آج نمائش بھی کی ہے، جس سے بھارت کو ایک بھر پور پیغام جائے گا کہ وہ خطے میں کوئی بھی ایڈوینچر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بھارت نے پہلے ہی ایل او سی کو گرم کیا ہوا ہے اور وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہمارے سفارتکاروں کو بھی تنگ کر رہا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں۔ ایسے موقع پر اس ٹیکنالوجی کا پاکستان کو ملنا بہت اچھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بین الاقوامی طور پر اب روس نے ایسے میزائل تیار کر لئے ہیں، جن کو ٹریس بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمارا مقابلہ بھارت کے ساتھ ہے۔ ابھی یہ ٹیکنالوجی یا امریکی اسٹیلتھ طیارے بھارت کے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب یہ ٹیکنالوجی بھارت کے پاس آئے گی تو پھر ہمارے لئے مشکلات ہوں گی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دفاعی شعبے میں بھر پور کفالت کی طرف جائے۔ میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے علاوہ ہمارے پاس بہترین ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی ہیں، جن سے ہماری دفاعی پوزیشن بہتر ہو گی۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی اس لئے دی ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا نہیں چاہتا، ’’چین معاشی طور پر تیز رفتار انداز میں ترقی کرنا چاہتا ہے۔

اس تیز رفتار ترقی کے لئے سی پیک ایک اہم عنصر ہے اور سی پیک اسی وقت کامیاب ہو گا جب پاکستان مستحکم اور مضبوط ہو گا۔ تو چین کا اس حوالے سے پاکستان کی مدد کرنا قدرتی عمل ہے کیونکہ امریکا خطے میں بھارت کو مضبوط کر کے چین کی اس ترقی کو روکنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن نے ابھی دو بلین ڈالرز کی ڈرون ٹیکنالوجی بھارت کو دی ہے۔ اوباما نے یہ ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن ٹرمپ نے چین کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ اس لئے اس نے یہ ٹیکنالوجی بھارت کو دے دی ہے کیونکہ وہ چین اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔‘‘

اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں ہو گی، ’’یہ دوڑ تو پہلے ہی سے شروع ہے۔ بھارت کے پاس پہلے ہی برہمو سمیت کئی جدید میزائل ہیں۔ اس کے پاس میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ وہ پہلے ہی اسرائیل اور امریکا کی مدد سے جدید سے جدید ترین ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان نے صرف ایک بیلنسنگ ایکٹ کیا ہے، جو ہمارے دفاع کے لئے بہت ضروری ہے۔‘‘اسلام آباد کی پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ پروفیسر امان میمن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر دانشمندانہ پالیسیاں جنوبی ایشیا کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں،’’امریکا چین کا راستہ روکنے کے لئے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے بھارت کو بے تحاشا ہتھیار دے رہا ہے اور اس کو عسکری لحاظ سے بہت مضبوط کر رہا ہے۔ یہ سمجھے بغیر کہ بھارت میں ایک قوم پرست تنظیم بر سرِ اقتدار ہے، جو خطے میں کسی بھی وقت جنگ کے شعلے بھڑکا سکتی ہے۔

پاکستان نے بیک وقت متعدد شہروں کو نشانہ بنانے والا میزائل سسٹم حاصل کر لیا

چین نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو مزید بہتر بنانے کےلیے نیا ٹریکنگ سسٹم فراہم کر دیا ہے جس کی بدولت بیک وقت کئی شہروں کو نشانہ بنایا جا سکے گا۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ اخبار کے مطابق چین نے پاکستان کے میزائل پروگرام کےلیے جدید ترین ٹریکنگ سسٹم فراہم کیا ہے جس کی مدد سے ملٹی وار ہیڈ میزائلز کی تیاری تیز تر کی جا سکتی ہے۔ نئے چینی ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے پاکستان کے لیے دشمن کے متعدد شہروں اور فوجی تنصیبات کو بیک وقت نشانہ بنانا ممکن ہو گیا ہے۔

چینی حکومت نے پاکستان کے ساتھ اس خفیہ معاہدے کی تفصیلات گزشتہ روز (بدھ 21 مارچ 2018) جاری کی۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس) کی ویب سائٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق، چین وہ پہلا ملک ہے جس نے یہ حساس ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو فروخت کی ہے۔ تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان نے کتنی رقم میں یہ سسٹم خریدا ہے۔ چینی سائنس دان ژہینگ مینگوائی نے تصدیق کی کہ پاکستان نے چین سے انتہائی جدید اور وسیع آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم حاصل کیا ہے جبکہ پاکستانی فوج نے اپنے نئے میزائلز کی تیاری اور آزمائش کے لیے چینی ساختہ نئے ٹریکنگ سسٹم کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق پاکستان اپنے جدید میزائلز میں ’ایم آئی آر وی‘ کی صلاحیت پیدا کرنے اور اسے خوب تر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ ’’ایم آئی آر وی‘‘ کی بدولت صرف ایک بیلسٹک میزائل ہی کو متعدد وارہیڈز سے لیس کیا جا سکتا ہے جو الگ الگ اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس طرح صرف ایک میزائل ہی کئی میزائلز جتنا خطرناک اور ہلاکت خیز ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس کمیٹی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے جنوری 2017 میں نیوکلیئر میزائل ابابیل کا تجربہ کیا تھا جو جنوبی ایشیا کا پہلا ایم آئی آر وی میزائل ہے۔ یہ فضا میں بلند ہونے کے بعد، اپنے اختتامی ہدف کی سمت بڑھتے دوران، راستے میں آنے والے مختلف اہداف کی سمت بھی وارہیڈز گراتے ہوئے اور انہیں تباہ کرتے ہوئے محوِ پرواز رہتا ہے۔ اس طرح یہ ایم آئی آر وی دشمن کے میزائل ڈیفنس کو ناکام بنا دیتا ہے۔ دوسری جانب بھارت اب تک ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی کو اپنے میزائلز میں استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے فضائیہ کے بیڑے میں شامل

چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے 16 جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے فضائی بیڑے میں شامل کر لیے گئے۔ ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق طیاروں کو پاکستان ایئر فورس کے 14 اسکوارڈن میں شامل کرنے کی تقریب کامرہ ایئربیس پر منعقد ہوئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بطور خصوصی مہمان شرکت کی۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل سہیل امان سمیت پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے، تقریب کے آغاز میں پاک فضائیہ کے عملے نے وزیر دفاع کو سلامی پیش کی۔ نئی خصوصیات اور جدید آلات سے آراستہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان اور چین کے اشراک سے تیار کیے گئے ہیں۔
تقریب کے دوران طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کا بھی مظاہرہ کیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے طیارے میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا۔ چین کی مدد سے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن کے حامل ملٹی رول طیارے ہیں جو آواز کی رفتار سے دوگنا زیادہ رفتار سے 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے فضا میں ری فیولنگ، ڈیٹا لنک، توسیعی الیکٹرانک وارفیئر اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاک فضائیہ کے پاس پہلے ہی 70 سے زائد جے ایف 17 تھنڈر طیارے موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ ان طیاروں کی خرید و فروخت کے معاہدے کیے۔ رواں ماہ یکم فروری کو امریکی خبر رساں ادارے یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمار کی حکومت جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول جنگی طیاروں کا ملکی ورژن بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ ہو جاتا ہے، تو میانمار، پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی سرکاری ایرو اسپیس کارپوریشن کے تعاون سے سنگل سیٹ پر مشتمل جے ایف 17 طیارے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔
اس سے قبل جون 2015 میں غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان ایئرفورس کے ترجمان ایئر کموڈور سید محمد علی شاہ کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا تھا کہ پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا ایک آرڈر حاصل کر لیا ہے، تاہم انھوں نے اس آرڈر کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ نومبر 2015 میں چینی اخبار ’چائنا ڈیلی‘ نے اپنی رپورٹ میں سینئر چینی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایوی ایشن انڈسٹری کارپ آف چائنا (ایوک) اور پاکستان ایرو ناٹیکل کامپلکس کا دبئی ایئر شو کے دوران نامعلوم خریدار سے جے ایف 17 فائٹر جہاز کی فروخت کا معاہدہ طے پا گیا۔
دبئی ایئر شو 2013 میں بھی پاکستان کے جے ایف تھنڈر اور سپر مشاق طیارے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے تھے، اس موقع پر دنیا بھر کے ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے تھے۔

Raheel Sharif inspected the military exercises Raad-ul-Barq

Prime Minister Nawaz Sharif and Chief of Army Staff Gen Raheel Sharif inspected the military exercises Raad-ul-Barq conducted by the Pakistan Army and Pakistan Air Force at Khairpur Tamewali near Bahawalpur, a strategic area near the border. The exercise, held just days after seven Pakistani soldiers were killed in cross-border firing across the Line of Control, was intended to survey the combat-readiness of troops. PM Nawaz warned against “any ambitious and reckless move by enemies”, saying that the exercises reflect the preparedness of Pakistan’s armed forces to “respond to any threat to national security.”

بھارتی سرحد کے قریب پاکستانی فوج کی ”رعد البرق” جنگی مشقیں

پنجاب کے علاقے خیرپور ٹامیوالی میں رعد البرق نامی فوجی مشقیں ہوئیں جس کی اختتامی تقریب میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی۔

پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر نے ٹیکنالوجی میں امریکی ایف 16 کو مات دے دی

پاکستان کے مایہ ناز لڑاکا طیارے ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ کے جدید ترین ورژن ’’بلاک 3‘‘ کے ڈیزائن کو حتمی شکل دی جاچکی ہے جس کے بعد یہ چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں سے بھی زیادہ جدید ہوجائے گا اور اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف/اے 18 اور ایف 15؛ روس کے سکھوئی 27؛ اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کا انجن زیادہ طاقتور ہوگا جس کی بدولت یہ آواز کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ رفتار (Mach 2.0+) سے پرواز کرسکے گا۔ اس میں خاص قسم کے کم وزن لیکن مضبوط مادّے استعمال کئے جائیں گے جو ایک طرف اس کا مجموعی وزن زیادہ بڑھنے نہیں دیں گے جبکہ دوسری جانب اسے دشمن ریڈار کی نظروں سے بچنے میں مدد بھی دیں گے۔
جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ ایسے جدید ترین ریڈار (اے ای ایس اے ریڈار) سے بھی لیس ہوگا جسے جام کرنا دشمن کے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کےلئے انتہائی مشکل ہوگا۔ پائلٹ کا ہیلمٹ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا جو طیارے کے اطراف سے بہتر واقفیت کے علاوہ ہتھیاروں پر بہترین کنٹرول کی صلاحیت بھی دے گا۔ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ میں طویل فاصلے پر موجود زمینی اہداف کا بہتر نشانہ لینے کےلئے خصوصی آلہ (ٹارگٹنگ پوڈ) بھی اضافی طور پر نصب ہوگا؛ جبکہ اسے زمینی یا فضائی اہداف کو اُن سے خارج ہونے والی گرمی کی بنیاد پر شناخت کرنے اور نشانہ باندھنے والے نظام (آئی آر ایس ٹی) سے بھی ممکنہ طور لیس کیا جائے گا۔
اپنے ’’بلاک 2‘‘ ورژن کی طرح جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں بھی دورانِ پرواز ایندھن بھروانے کی سہولت ہوگی جس کے باعث یہ 2,500 کلومیٹر دور تک کسی ہدف کو نشانہ بناسکے گا۔ یہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین تک مار کرنے والے دوسرے میزائلوں کے علاوہ نظر کی حد سے دُور تک مار کرنے والے (بی وی آر) میزائل سے بھی لیس ہوگا۔ پاکستان کی برّی افواج کےلئے بنائے گئے ’’بابر کروز میزائل‘‘ میں ترامیم کے بعد اسے ’’رعد کروز میزائل‘‘ کی شکل دے دی گئی ہے جو روایتی یا غیر روایتی اسلحے سے لیس کرکے جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں نصب کیا جائے گا؛ اور جس کے باعث سینکڑوں کلومیٹر دُور زمینی اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکے گا۔
امکان ہے کہ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کے کاکپٹ میں 2 افراد کی گنجائش ہوگی۔ اندازہ یہ بھی ہے کہ اب تک اس پر کام کا آغاز کیا جاچکا ہے کیونکہ متوقع طور پر ان لڑاکا طیاروں کو پاک فضائیہ کے سپرد کرنے کا سلسلہ 2019 سے شروع ہوجائے گا۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ بہت کم خرچ لڑاکا طیارہ بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ (وکی پیڈیا کے مطابق) جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 1‘‘ کی فی طیارہ لاگت 25 ملین ڈالر (ڈھائی کروڑ ڈالر) تھی؛ ’’بلاک 2‘‘ پر 28 ملین ڈالر (2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) فی طیارہ لاگت آئی؛ جبکہ ’’بلاک 3‘‘ کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس کے ہر پیداواری یونٹ کی ممکنہ لاگت 32 ملین ڈالر (3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) ہوگی۔
اگر اس لاگت کا موازنہ پرانے قسم کے ایف 16 طیاروں (بلاک 52) سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی اصل قیمت 20 ملین (2 کروڑ) ڈالر فی طیارہ کے لگ بھگ ہے لیکن یہ پاکستان کو 34 ملین (3 کروڑ 40 لاکھ) ڈالر فی طیارہ کے حساب سے فروخت کئے گئے۔ کچھ ماہ پہلے امریکہ سے اسی پرانی قسم کے مزید ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ بھی اسی لئے کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ اب کی بار امریکہ نے پاکستان سے ان کی فی طیارہ قیمت 87 ملین (8 کروڑ 70 لاکھ) ڈالر سے بھی کچھ زیادہ طلب کرلی تھی، جو ایف 16 کی پچھلی قیمت سے بھی ڈھائی گنا زیادہ تھی۔
گزشتہ ماہ بھارت نے فرانس سے 36 عدد ’’رافیل‘‘ لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا؛ جس کے تحت رافیل کی فی طیارہ قیمت تقریباً 242 ملین (24 کروڑ 20 لاکھ) ڈالر طے کی گئی ہے جبکہ اس معاہدے کی مجموعی لاگت 8 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ ان تمام اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ اپنی خصوصیات اور صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کے جدید لڑاکا طیاروں کے ہم پلّہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کےلئے کم خرچ بھی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ جے ایف 17 ’’تھنڈر‘‘ کی بدولت پاکستان نے مقامی طور پر عسکری طیارہ سازی میں خود کفالت کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا ہے۔
اس وقت بھی جبکہ یہ سطور قلم بند کی جارہی ہیں، جے ایف 17 تھنڈر کے منصوبے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے؛ اور مستقبل میں یہ اور بھی زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ پاکستانی انجینئروں کا مثالی اور انتہائی قابلِ فخر کارنامہ ہے جس کےلئے پاک فضائیہ کے دفاعی منصوبہ ساز اور پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) کے انجینئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی اے سی میں جے ایف 17 تھنڈر کے اس سے بھی زیادہ جدید ورژن ’’بلاک 4‘‘ پر ابتدائی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں تفصیلات دستیاب نہیں لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ اپنے ’’بلاک 4‘‘ کے ساتھ جے ایف 17 بھی پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں شامل ہوجائے گا۔
علیم احمد