چین کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی

چین کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی کو پاکستان میں کئی ماہرین نے پاکستانی دفاع کے لئے مثبت قرار دیا ہے اور ان کے خیال میں یہ چینی اقدام خطے میں استحکام پیدا کرے گا۔ دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹارئرڈ انعام الرحیم کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کی بدولت پاکستان بھارت کا مقابلہ کر سکتا ہے، ’’آج کے دور میں بیلنس آف پاورکو نظر انداز کرنا تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بھارت روایتی طور پر مضبوط ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں فوری طور پر بھارت کے عزائم کا پتہ چل سکتا ہے اور ہم بھر پور جواب کی تیاری کر سکتے ہیں۔ ہم نے اس ٹیکنالوجی کی آج نمائش بھی کی ہے، جس سے بھارت کو ایک بھر پور پیغام جائے گا کہ وہ خطے میں کوئی بھی ایڈوینچر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بھارت نے پہلے ہی ایل او سی کو گرم کیا ہوا ہے اور وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہمارے سفارتکاروں کو بھی تنگ کر رہا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں۔ ایسے موقع پر اس ٹیکنالوجی کا پاکستان کو ملنا بہت اچھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بین الاقوامی طور پر اب روس نے ایسے میزائل تیار کر لئے ہیں، جن کو ٹریس بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمارا مقابلہ بھارت کے ساتھ ہے۔ ابھی یہ ٹیکنالوجی یا امریکی اسٹیلتھ طیارے بھارت کے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب یہ ٹیکنالوجی بھارت کے پاس آئے گی تو پھر ہمارے لئے مشکلات ہوں گی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دفاعی شعبے میں بھر پور کفالت کی طرف جائے۔ میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے علاوہ ہمارے پاس بہترین ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی ہیں، جن سے ہماری دفاعی پوزیشن بہتر ہو گی۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی اس لئے دی ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا نہیں چاہتا، ’’چین معاشی طور پر تیز رفتار انداز میں ترقی کرنا چاہتا ہے۔

اس تیز رفتار ترقی کے لئے سی پیک ایک اہم عنصر ہے اور سی پیک اسی وقت کامیاب ہو گا جب پاکستان مستحکم اور مضبوط ہو گا۔ تو چین کا اس حوالے سے پاکستان کی مدد کرنا قدرتی عمل ہے کیونکہ امریکا خطے میں بھارت کو مضبوط کر کے چین کی اس ترقی کو روکنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن نے ابھی دو بلین ڈالرز کی ڈرون ٹیکنالوجی بھارت کو دی ہے۔ اوباما نے یہ ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن ٹرمپ نے چین کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ اس لئے اس نے یہ ٹیکنالوجی بھارت کو دے دی ہے کیونکہ وہ چین اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔‘‘

اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں ہو گی، ’’یہ دوڑ تو پہلے ہی سے شروع ہے۔ بھارت کے پاس پہلے ہی برہمو سمیت کئی جدید میزائل ہیں۔ اس کے پاس میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ وہ پہلے ہی اسرائیل اور امریکا کی مدد سے جدید سے جدید ترین ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان نے صرف ایک بیلنسنگ ایکٹ کیا ہے، جو ہمارے دفاع کے لئے بہت ضروری ہے۔‘‘اسلام آباد کی پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ پروفیسر امان میمن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر دانشمندانہ پالیسیاں جنوبی ایشیا کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں،’’امریکا چین کا راستہ روکنے کے لئے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے بھارت کو بے تحاشا ہتھیار دے رہا ہے اور اس کو عسکری لحاظ سے بہت مضبوط کر رہا ہے۔ یہ سمجھے بغیر کہ بھارت میں ایک قوم پرست تنظیم بر سرِ اقتدار ہے، جو خطے میں کسی بھی وقت جنگ کے شعلے بھڑکا سکتی ہے۔

Advertisements

پاکستان نے بیک وقت متعدد شہروں کو نشانہ بنانے والا میزائل سسٹم حاصل کر لیا

چین نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو مزید بہتر بنانے کےلیے نیا ٹریکنگ سسٹم فراہم کر دیا ہے جس کی بدولت بیک وقت کئی شہروں کو نشانہ بنایا جا سکے گا۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ اخبار کے مطابق چین نے پاکستان کے میزائل پروگرام کےلیے جدید ترین ٹریکنگ سسٹم فراہم کیا ہے جس کی مدد سے ملٹی وار ہیڈ میزائلز کی تیاری تیز تر کی جا سکتی ہے۔ نئے چینی ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے پاکستان کے لیے دشمن کے متعدد شہروں اور فوجی تنصیبات کو بیک وقت نشانہ بنانا ممکن ہو گیا ہے۔

چینی حکومت نے پاکستان کے ساتھ اس خفیہ معاہدے کی تفصیلات گزشتہ روز (بدھ 21 مارچ 2018) جاری کی۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس) کی ویب سائٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق، چین وہ پہلا ملک ہے جس نے یہ حساس ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو فروخت کی ہے۔ تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان نے کتنی رقم میں یہ سسٹم خریدا ہے۔ چینی سائنس دان ژہینگ مینگوائی نے تصدیق کی کہ پاکستان نے چین سے انتہائی جدید اور وسیع آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم حاصل کیا ہے جبکہ پاکستانی فوج نے اپنے نئے میزائلز کی تیاری اور آزمائش کے لیے چینی ساختہ نئے ٹریکنگ سسٹم کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق پاکستان اپنے جدید میزائلز میں ’ایم آئی آر وی‘ کی صلاحیت پیدا کرنے اور اسے خوب تر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ ’’ایم آئی آر وی‘‘ کی بدولت صرف ایک بیلسٹک میزائل ہی کو متعدد وارہیڈز سے لیس کیا جا سکتا ہے جو الگ الگ اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس طرح صرف ایک میزائل ہی کئی میزائلز جتنا خطرناک اور ہلاکت خیز ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس کمیٹی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے جنوری 2017 میں نیوکلیئر میزائل ابابیل کا تجربہ کیا تھا جو جنوبی ایشیا کا پہلا ایم آئی آر وی میزائل ہے۔ یہ فضا میں بلند ہونے کے بعد، اپنے اختتامی ہدف کی سمت بڑھتے دوران، راستے میں آنے والے مختلف اہداف کی سمت بھی وارہیڈز گراتے ہوئے اور انہیں تباہ کرتے ہوئے محوِ پرواز رہتا ہے۔ اس طرح یہ ایم آئی آر وی دشمن کے میزائل ڈیفنس کو ناکام بنا دیتا ہے۔ دوسری جانب بھارت اب تک ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی کو اپنے میزائلز میں استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پاک بحریہ کا دیسی ساختہ کروز میزائل ’حربہ‘ کا کامیاب تجربہ

پاک بحریہ میں حال ہی میں شامل کی جانے والی فاسٹ اٹیک کرافٹ (میزائل ) پی این ایس ہمت نے شمالی بحیرئہ عرب میں لائیو ویپن فائرنگ کا شاندار مظاہرہ کیا۔ پی این ایس ہمت نے اندرون ملک تیار کردہ حربہ نیول کروز میزائل فائر کیا ʼ جو سطح آب سے سطح آب پر مار کرنے والا اینٹی شپ اور زمینی حملے کی صلاحیت کا حامل میزائل ہے۔ میزائل نے اپنے ہدف کو پوری کامیابی سے نشانہ بنایا جو اس ویپن سسٹم کی حربی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ لائیو ویپن فائرنگ کا یہ کامیاب مظاہرہ نہ صرف پاک بحریہ کی فائر پاور کی قابل اعتماد اور بھرپور صلاحیت کا مظہر ہے بلکہ پاکستا ن کی دفاعی صنعت کی اندرون ملک ہائی ٹیک ہتھیار سازی کی معیاری صلاحیت کا عکاس ہے اوراس شعبے میں خود انحصاری کے حصول کے لیے حکومتی عزم کی واضح دلیل ہے۔

پاک بحریہ کا جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستانی بحریہ نے سنیچر کو شمالی بحیرہِ عرب میں بحری جہاز شکن فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ سی کنگ ہیلی کاپٹر نے کھلے سمندر میں یہ مظاہرہ کیا اور کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔ اس موقعے پر پاکستانی بحریہ کے سربراہ محمد زکا اللہ نے مظاہرے کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا سی کنگ ہیلی کاپٹر سے میزائل کا کامیاب مظاہرہ پاکستانی بحریہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جنگی تیاری کا واضح ثبوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی بحریہ اپنے وطن کی سالمیت اور مفادات کا ہر قیمت ہر دفاع کرے گی۔ یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستانی بحریہ نے آبدوز سے کروز میزائل ‘بابر تھری’ کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ بابر تھری کروز میزائل کا تجربہ بحیرہ ہند سے کیا گیا جس نے خشکی میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس کروز میزائل بابر تھری 450 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل زیر سمندر موبائل پلیٹ فارم سے لانچ کیا گیا تھا۔ میزائل بابر تھری کئی قسم کے جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نچلی پرواز کرسکتا ہے۔

پاکستان کا 2200 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے والے ’’ابابیل‘‘ میزائل کا تجربہ

پاکستان نے 2200 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے والے ابابیل کے پہلے میزائل
کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے پہلی بار ابابیل میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے جب کہ ابابیل میزائل مختلف ٹھکانوں کو تباہ کرسکتا ہے اور ایک سے زیادہ وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایس ایس ایم ابابیل میزائل کی رینج 2200 کلومیٹر ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میزائل بنانے والی ٹیم اور پاک فوج کو مبارکباد دی۔

Pak successfully conducted first flight test of SSM #ABABEEL, Rg 2200 Km. #COAS congrats team and Pak Armed Forces for landmk achievement. pic.twitter.com/iXBGgJf9JN
ADVERTISEMENT
— Maj Gen Asif Ghafoor (@OfficialDGISPR) January 24, 2017
دوسری جانب صدر ممنون حسین نے بھی ابابیل میزائل کے کامیاب تجربے پر قوم، فوج  اور سائنسدانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ابابیل میزائل کا کامیاب تجربہ خطے کے امن،طاقت کے توازن کے لیے اہم ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے ابابیل میزائل کے کامیاب تجربے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد دی اور ملکی ٹیکنالوجی کے ذریعے میزائل تیاری میں پاک فوج کے انجینیرز کی کوششوں کو سراہا۔

ابابیل بیلسٹک میزائل کیوں اہم ہے؟

پاکستان نے ’’ابابیل‘‘ کے نام سے ایک نئے بیلسٹک میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جس کی رینج 2200 کلومیٹر ہے جبکہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت ایک وقت میں کئی اہداف کو پوری درستگی سے نشانہ بھی بنا سکتا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ابابیل ’’زمین سے زمین تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل‘‘ (SSM) ہے جسے روایتی اور ایٹمی، دونوں طرح کے وارہیڈ سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ یہ دشمن ریڈار کو شکست دینے کے قابل بھی ہے۔
ابابیل میزائل ٹھوس ایندھن استعمال کرتا ہے جبکہ اسے کئی اہداف کو بیک وقت نشانہ بنانے کےلئے جدید ترین ’’ملٹی پل انڈیپنڈنٹ ری انٹری وہیکل‘‘ (MIRV) ٹیکنالوجی سے بھی لیس کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی دنیا میں گنتی کے صرف چند ممالک کے پاس ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خطے کے موجودہ حالات کے پیش نظر ’’ابابیل نظام‘‘ ملکی دفاع کو مضبوط بنانے میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسرے کسی بھی بیلسٹک میزائل کی طرح ’’ابابیل‘‘ بھی آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار پر سفر کرتے ہوئے دور دراز ہدف تک صرف چند منٹوں میں پہنچنے اور اسے تباہ کرڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کا آبدوز سے کروز میزائل بابر تھری کا کامیاب تجربہ

پاکستانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبدوز سے کروز میزائل ‘بابر تھری’ کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بابر تھری کروز میزائل کا تجربہ بحیرہ ہند سے کیا گیا جس نے خشکی میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس کروز میزائل بابر تھری 450 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل زیر سمندر موبائل پلیٹ فارم سے لانچ کیا گیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ میزائل بابر تھری کئی قسم کے جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نچلی پرواز کرسکتا ہے۔
کامیاب تجربے پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، ڈی جی سٹرٹیجک پلان ڈویژن لیفٹیننٹ مظہر جمیل اور دیگر سینیئر افسران نے میزائل ٹیسٹ کے تجربے کا مشاہدہ کیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان نے زمین اور سمندر میں 700 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل ‘بابر ٹو’ کا بھی کامیاب تجربہ کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر تیار کردہ کروز میزائل زمین اور سمندر میں 700 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستانی بیلسٹک میزائل ’’شاہین‘‘ صرف 3 منٹ میں دہلی کو تباہ کر سکتا ہے

 شاہین سوم (شاہین III) پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔ اس رینج اور رفتار کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کی صورت میں شاہین تھری بیلسٹک میزائل دہلی کو صرف تین منٹ میں نشانہ بنا سکے گا اور بھارتی فوج کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں شاہین تھری میزائل سے بھارت کے اُن سب سے دور دراز فوجی اڈوں کو بھی صرف 15 منٹ میں تباہ کیا جا سکے گا جو جزائر نکوبار و انڈمان میں واقع ہیں۔
یہ ’’شاہین بیلسٹک میزائل‘‘ سلسلے کا تیسرا میزائل ہے جس کی خاص بات اس میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہے۔ اسے بیک وقت کئی وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جو روایتی بھی ہوسکتی ہیں اور غیر روایتی (نیوکلیائی) بھی؛ جب کہ ان کا مجموعی وزن 1000 کلو گرام تک ہوسکتا ہے۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری ’’نیسکوم‘‘ اور ’’سپارکو‘‘ سے وابستہ پاکستانی انجینئروں اور سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جب کہ پاک فوج نے اس کا پہلا تجربہ 9 مارچ 2015 میں کیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس کے فوراً بعد شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری بھی شروع کردی گئی۔
یہ زمین سے زمین تک (سرفیس ٹو سرفیس) مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جسے متحرک لانچر کے ذریعے ہدف کی سمت داغا جا سکتا ہے۔ اس کا ٹھوس ایندھن والا راکٹ دو سے زائد مرحلوں میں جلتا ہے اور دورانِ پرواز یہ پچاس ہزار (50000) میٹر سے بھی زیادہ کی بلندی پر، خلا کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں میزائل سازی کا پروگرام بھرپور انداز میں جاری ہے جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح سے بگڑ چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس توازن کو بحال کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس بھی ایسے ہتھیار موجود ہوں جو بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں مؤثر جواب دے سکیں۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل بھی پاکستان کی ان ہی کوششوں کا حامل ہے جس کا مقصد دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہوئے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔