اسلامی عسکری اتحاد رکن ممالک کی معاونت کرے گا، جنرل راحیل

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف مسلم اتحاد کے پہلے اعلیٰ سطحی اجلاس کا افتتاح کر دیا۔ اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیرارزم کولیشن (آئی سی ایم سی ٹی سی) کے ‘دہشت گردی کے خلاف اتحاد’ کے عنوان سے افتتاحی اجلاس میں رکن ممالک کے وزراء دفاع نے حصہ لیا۔ پاک فوج کے سابق سربراہ اور عسکری اتحاد کے کمانڈر جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر کہا کہ ‘ہمارے کئی رکن ممالک دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح فوج اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی صلاحیت میں کمی کے باعث شدید دباؤ میں ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آئی ایم سی ٹی سی رکن ممالک کو اپنی ریاستوں میں انسداد دہشت گردی کارروائی کے لیے خفیہ معلومات کی ترسیل اور صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاونت کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کردار ادا کرے گا’۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عسکری اتحاد کے وزراء دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس اجلاس سے ایک مضبوط اشارہ دیا گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کے لیے رابطے اور متحد ہو کر کام کرنے جا رہے ہیں’۔  سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ ‘اس دہشت گردی اور انتہا پسندی سے سب سے زیادہ خطرہ ہمارے مقدس دین کی مقبولیت کو ہے اس لیے ہم کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے’۔ انھوں نے کہا کہ ‘ہم آج سے اس دہشت گردی کو ختم کرنے کا آغاز کرتے ہیں اور ہمیں مختلف پہلووں، دنیا اور بالخصوص مسلم ممالک سے اس کا خاتمہ نظر آتا ہے اور ہم اس کی شکست تک اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے’۔

یاد رہے کہ ’41 ملکی پان اسلامی اتحاد’ کے نام سے نئے اتحاد کا اعلان دسمبر 2015 میں کیا گیا تھا۔ پاکستان 34 ممالک کی ابتدائی فہرست میں شامل تھا جو اس اتحاد کا حصہ بننے پر متفق تھے۔ جنرل راحیل شریف اس اتحاد کے کمانڈر کے طور پر رواں سال اپریل میں شامل ہوئے تھے اور آئی ایم سی ٹی سی کے مطابق سابق آرمی چیف عسکری معاملات کو دیکھیں گے جس کا مقصد رابطوں، وسائل اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے عسکری منصوبہ بندی کے علاوہ اطلاعات کی محفوظ ترسیل اور فوجی صلاحیت اور قابلیت کو بڑھانے میں مدد کرنا ہے’۔ اسلامی عسکری اتحاد کے بنیادی مقاصد میں نظریات، مواصلات، انسداد دہشت گردی کے لیے مالی تعاون اور فوج کو شامل کیا گیا ہے۔

Advertisements

پاکستانی فوج : انڈیا ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا

پاکستانی فوج کے ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا ‘چیف آف آرمی سٹاف ایک انتہائی اہم تقرری ہوتی ہے اور فور سٹار وہ رینک ہے جس میں تمام عمر کا تجربہ اور پختگی شامل ہوتی ہے، لہٰذا اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان اتنے اہم اور ذمہ دار عہدے والے افسر کو زیب نہیں دیتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا ‘انڈیا ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت مشرق کی جانب سے آنے والے خطرات کے لیے ہے، جبکہ پاکستان کی جوہری صلاحیت حملے کے لیے نہیں بلکہ دفاع کے لیے ہے۔‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کو جوہری دھوکا کہنے کے انڈین آرمی چیف کے بیان کو بچکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ذمہ دار افسر کی جانب سے ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان انتہائی نامناسب ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے آرمی چیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر حکومت نے حکم دیا تو انڈین آرمی سرحد پار کر کے پاکستان میں آپریشن کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔ ‘پاکستان کی جوہری صلاحیت ایک فریب ہے، اگر ہمیں واقعی پاکستانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ہمیں یہ ٹاسک دیا گیا تو ہمیں یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اس لیے ہم سرحد پار نہیں کر سکتے۔‘ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا ‘اگر انڈیا روایتی طریقوں سے پاکستان پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا تو اب تک ایسا کر چکا ہوتا، انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہی ہے۔‘

میجر جنرل آصف غفور نے کہا ‘ہم ایک پیشہ ورانہ آرمی، ذمہ دار جوہری ریاست اور بیدار قوم ہیں، جو کسی فریب کا شکار نہیں ہے۔‘ دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے انڈین آرمی چیف کے بیان کو جوہری تصادم کو دعوت دینے کے برابر قرار دے دیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ‘انڈین آرمی چیف نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا جو ان کے عہدے کو زیب نہیں دیتا، تاہم اگر انڈیا کی خواہش ہے تو ہمارے عزم کو آزما لے، انشاء اللہ بھارتی جنرل کا شک دور کر دیا جائے گا۔’

کوئی طاقت پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکتی، آرمی چیف

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دھمکانے والے سن لیں جس ملک میں عظیم والدین اور بہادر بیٹے ہوں کوئی بھی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا، ایسی فوج کا سربراہ ہوں جس کے جوان ہر دم وطن کیلئے جان دینے کو تیار ہیں، کوئی رقم ان بہادروں کی حب الوطنی اور قربانیوں کی قیمت نہیں چکا سکتی، ہمارے شہداء کی قربانیاں ہی ہمیں پر امن اور مستحکم پاکستان کی جانب لے جا رہی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرک کے علاقے گڑھ خیل میں مادر وطن پر 3 بیٹے اور 2 بھتیجے قربان کرنیوالے محمدعلی خان کے گھر آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا اور انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا.

جبکہ اپنے دورہ شمالی وزیرستان میں آرمی چیف نے پاک افغان سرحد میں حال ہی میں تعمیر قلعوں اور نصب کی گئی آہنی باڑ کا جائزہ لیا اور میرانشاہ میں یادگار شہدأ پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے شمالی وزیر ستان ایجنسی کا دورہ کیا اور میرانشاہ میں شہداء یادگار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میرانشاہ نے سلامتی کی صورتحال‘ عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی کے لئے ایجنسی میں سماجی اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی ۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان سرحد میں حال ہی میں تیار کیے گئے قلعوں اور نصب کی گئی آہنی باڑ کے جائزہ کے لئے دورہ کیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرحدی سکیورٹی کے لئے فارمیشن کی جانب سے تیز رفتاری کیلئے معیاری کام کرنے کے عمل کو سراہا۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ بعد ازاں آرمی چیف شمالی وزیرستان کے دورے کے دوران کرک کے علاقے گڑھ خیل میں محمد علی خان کے گھر پہنچے، ان کے 6 بچے پاک فوج کا حصہ رہے ٗ3 نے مادر وطن کیلئے جام شہادت نوش کیا ان کے 2 بھتیجے بھی شہید ہو چکے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کو دھمکانے والی بیرونی قوتیں سمجھ لیں ،جس قوم کے پاس ایسے والدین اور بچے ہوں ان کا کوئی بال بیکا بھی نہیں کر سکتا ۔

ان کا کہناتھاکہ وہ ایسی فوج کے چیف ہیں جس کے جوان ہر وقت ملک پر جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ کوئی رقم ان بہادروں کی حب الوطنی اور قربانیوں کی قیمت نہیں چکا سکتی ،ان کی قربانیاں ہی ہمیں پرامن اور مستحکم پاکستان کی طرف لے جارہی ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ محمدعلی نےدورہ کرنےاورگاؤں کیلئے فلاحی پیکیج دینے پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔

پاک بحریہ کا دیسی ساختہ کروز میزائل ’حربہ‘ کا کامیاب تجربہ

پاک بحریہ میں حال ہی میں شامل کی جانے والی فاسٹ اٹیک کرافٹ (میزائل ) پی این ایس ہمت نے شمالی بحیرئہ عرب میں لائیو ویپن فائرنگ کا شاندار مظاہرہ کیا۔ پی این ایس ہمت نے اندرون ملک تیار کردہ حربہ نیول کروز میزائل فائر کیا ʼ جو سطح آب سے سطح آب پر مار کرنے والا اینٹی شپ اور زمینی حملے کی صلاحیت کا حامل میزائل ہے۔ میزائل نے اپنے ہدف کو پوری کامیابی سے نشانہ بنایا جو اس ویپن سسٹم کی حربی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ لائیو ویپن فائرنگ کا یہ کامیاب مظاہرہ نہ صرف پاک بحریہ کی فائر پاور کی قابل اعتماد اور بھرپور صلاحیت کا مظہر ہے بلکہ پاکستا ن کی دفاعی صنعت کی اندرون ملک ہائی ٹیک ہتھیار سازی کی معیاری صلاحیت کا عکاس ہے اوراس شعبے میں خود انحصاری کے حصول کے لیے حکومتی عزم کی واضح دلیل ہے۔

دبئی ایئر شو میں پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیارے کی دھوم

دبئی کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر 16 ویں دبئی ایئر شو میں پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی شاندارفضائی کارکردگی نے تماشائیوں کو حیران کر دیا۔
پاک فضائیہ کے پائلٹ کے شاندار کرتب نے شو دیکھنے کے لیےآنے والے شائقین پر سحر طاری کر دیا، جس کے بعد طیارے کو واپس لینڈ کرایا گیا تو عوام نے اسے خوب سراہا۔ دنیا کے سب سے بڑا ایئر شو اس وقت دبئی میں ہو رہا ہے جس کی 5 روزہ تقریب میں پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس کی جانب سے بھی اسٹال لگایا گیا جہاں جے ایف 17 تھنڈر کو دیکھنے کے لیے عوام اور خریداروں کا رش لگا رہا۔ دبئی ایئر شو کی افتتاحی تقریب میں ایئر مارشل احمر شہزاد اور چیئرمین پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس بھی موجود تھے۔ تقریب میں پاکستان کی جانب سے جدید صلاحیت سے آراستہ سپر مشاک طیارہ بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے
نئی خصوصیات اور جدید آلات سے آراستہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان اور چین کے اشراک سے تیار کیے گئے ہیں۔ چین کے ٹیکنیشنز کی مدد سے پاکستان میں تیار کئے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن ملٹی رول طیارے ہیں جو کہ آواز کی رفتار سے دوگنا زیادہ رفتار سے 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان طیاروں کی تیاری کا آغاز 1999 میں ہوا تھا اور اس کی پہلی آزمائشی 2003 میں کی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری میں دیگر ممالک کی دلچسپی کی بنیادی وجہ اس کی قیمت ہے جو کہ امریکی ایف 16 سے 16 سے 18 لاکھ ڈالر کم ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے فضا میں ری فیولنگ، ڈیٹا لنک، توسیعی الیکٹرانک وارفیئر اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ یاد رہے کہ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ایک بڑی تعداد پاک فضائیہ کے فضائی بیڑے میں شامل کی جا چکی ہے۔

پاکستان کی شدت پسندی سے نمٹنے کی کوششیں، افغانستان کی سرحد پر باڑ کی تنصیب

پاکستانی فوج نے شدت پسندی اور غیر قانونی نقل و حرکت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے افغانستان سے متصل اپنی سرحد پر باڑ نصب کرنا شروع کی ہے۔ یہ منظر شمالی وزیرستان کے مقام انگور اڈا کا ہے جہاں افغان سرحد پر باڑ لگائی جا چکی ہے۔

26 مارچ کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ یہ پاکستانی سپاہی سرحدی نگرانی کی ڈیوٹی پر مامور ہے۔ یہ باڑ افغان صوبے پکتیکا کو پاکستانی علاقے جنوبی وزیرستان سے الگ کرتی ہے۔

 جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ افغان سرحد پر معمول کی فضائی نگرانی کے علاوہ سرحد پر اضافی تکنیکی نگرانی کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

سرحد پر باڑ لگانا اربوں روپے کا ایک منصوبہ ہے جس کے تحت سرحد پر نگرانی کے لیے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے قلعے تعمیر کیے جائیں گے۔

پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، پاکستان کی حفاظت کی ضامن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں نہایت سخت لہجہ اپنایا، مگر انہوں نے اب تک پابندیاں نہیں عائد کی ہیں، جیسا کہ ایران کے ساتھ ہوا، نہ ہی انہوں نے پاکستان کو شمالی کوریا کی طرح ‘مکمل طور پر تباہ’ کر دینے کی دھمکی دی۔ پاکستانی سفارتکاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ گرمجوش تعلقات نہ سہی مگر پھر بھی کام کی حد تک تعلقات کی گنجائش موجود ہے۔ مگر یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اسلام آباد افغانستان سے متعلق امریکا کی ‘نئی’ پالیسی سے متفق نہیں ہے۔ یہ افغانستان کی جنگ اپنی زمین پر نہیں لڑے گا۔ یہ افغانستان میں ہندوستان کے وسیع کردار کی مخالفت کرتا رہے گا۔ اسلام آباد افغان طالبان اور کابل کے درمیان طویل تنازعے کے بجائے تنازعے کا سیاسی حل چاہتا ہے.

اگر پاکستان اور امریکا افغانستان پر اپنے حد درجہ مختلف مؤقف کو ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے، تب بھی ان اسٹریٹجک شراکت داریوں میں تبدیلی ہوتی نظر آتی جو کہ ایشیاء میں پالیسیوں کا تعین کریں گی۔ امریکا نے ایشیاء میں چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے ہندوستان کو اپنا اسٹریٹجک شراکت دار منتخب کر لیا ہے۔ نتیجتاً پاکستان کی سلامتی کے لیے ہندوستان کی جانب سے کیا خطرات پیدا ہوتے ہیں، اِس سے امریکا کو یا تو کوئی فرق نہیں پڑتا، یا پھر خطے میں ہند امریکی بالادستی کے خلاف پاکستان کی مزاحمت کو کمزور کرنا اِس کی پالیسی کا حصہ ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع کے حالیہ دورہءِ ہندوستان نے اِس اسٹریٹجک اتحاد کی تصدیق کرتے ہوئے افغانستان میں اُن کے تعاون پر مہر ثبت کر دی ہے۔ ہندوستانی ڈکٹیشن کی مزاحمت اور امریکا کی اسٹریٹجک پالیسیوں کی مخالفت کرنے کی قابلیت پاکستان میں ایک اہم وجہ سے موجود ہے۔ وہ اہم وجہ پاکستان کی ایٹمی اور میزائل صلاحیت ہے۔ اس کے بغیر پاکستان پر یا عراق کی طرح حملہ کر دیا جاتا یا پھر ایران کی طرح پابندیاں لگا دی جاتیں۔ دوسری جانب شمالی کوریا اپنی تنہائی کے باجود امریکا کو نیچا دکھانے میں اِس لیے کامیاب ہے کیوں کہ وہ ایک ایٹمی قوت اور میزائل ٹیکنالوجی کی ماہر قوم ہے۔

ایک اسلامی ایٹمی قوت امریکا اور زیادہ تر مغربی ممالک کے لیے ہمیشہ سے گلے کی ہڈی کی طرح تھی۔ یہاں تک کہ جب پاکستان امریکا کا قریبی اتحادی تھا، تب بھی امریکا کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح اِس کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو بتدریج کم کرتے ہوئے ختم ہی کر دیا جائے۔ امریکا کے ہندوستان کے ساتھ اتحاد کے بعد اِن کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرامز کے خلاف تفریق پر مبنی ٹیکنولوجیکل اور سیاسی پابندیوں کے علاوہ امریکا اب مطالبہ کر رہا ہے کہ پاکستان اکیلے ہی ایٹمی مواد اور تھوڑے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں کی تیاری بند کر دے۔

مگر اِس کے ساتھ ہی یہ ہندوستان کی اِس کے ایٹمی اسلحے میں اضافے اور جدت لانے، اِس کی میزائل اور اینٹی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں میں اضافے، اور اِس کی فضائی و بحری افواج اور سیٹلائٹ اور خلائی پروگرام میں ترقی کے لیے بھرپور مدد کر رہا ہے۔ باوثوق رپورٹس جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، موجود ہیں کہ امریکا نے کسی تنازعے یا بحران کے دوران پاکستان کے ایٹمی اسلحے پر قبضہ کرنے یا اِسے برباد کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے دہشتگردوں کے ہاتھ لگ جانے، یا اِس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز طور پر پاک فوج کے ‘انتہاپسند’ فوج میں تبدیل ہو جانے کے خیالی پلاؤ بنا رکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کی خوفناک صورتحال پیدا کی جا سکتی ہے تاکہ ‘قبضہ کرو اور تباہ کرو’ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک اور جنگ ہو گئی، تو حالات میں مزید خرابی آئے گی۔ کشمیر دونوں ممالک کے بیچ ایک جاری تنازع ہے جو ایٹمی جنگ کو ہوا دے سکتا ہے۔ چوںکہ دونوں ممالک کی فوجی قوت میں عدم توازن موجود ہے، اِس لیے پاک و ہند جنگ کے فوری طور پر ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ اِس لیے جنگ کا تو سوچا بھی نہیں جانا چاہیے۔ مگر پھر بھی ہندوستان کے سیاسی اور عسکری قائدین پاکستان کے خلاف ‘سرجیکل اسٹرائیکس’ اور ‘محدود’ جنگ کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہندوستان نے کبھی پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کا فیصلہ بھی کیا تو اُسے پہلے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کرنے کے لیے حملہ کرنا ہو گا، یا پھر ہندوستان کے لیے یہ کام امریکا سرانجام دے گا ؟ پاکستان کو دونوں ہی طرح کی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اسلام آباد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ماضی میں اپنے ایٹمی اثاثوں کی ‘سلامتی و تحفظ’ کے لیے امریکا سے ‘تعاون’ کی وجہ سے امریکا کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں اچھی خاصی انٹیلیجنس حاصل ہے۔ مگر پاکستانی حکام امریکا کی پاکستان کے اثاثوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت کو درست طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے پاس کئی ہتھیار، کئی جگہوں پر پھیلے ہوئے اور اچھی طرح محفوظ ہیں، اِس لیے اِن پر قبضہ، یا اِن پر حملہ کر کے اِنہیں برباد نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ایٹمی ہتھیار ڈیلیور کرنے والے سسٹم (میزائل وغیرہ) کو چھپانا یا محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

کسی بھی تنازعے کی صورت میں ابتدائی حملے کا شکار یہ ڈیلیوری سسٹم ہی بنیادی ہدف ہوں گے۔ کسی بھی تنازعے کی صورت میں جب انہیں الگ رکھے گئے وار ہیڈز سے ملایا جا رہا ہو گا، تو اُن کی جگہوں کا پتہ لگانا آسان ہو جائے گا۔ اِس کے علاوہ، جیسا کہ حال ہی میں کوریا میں دیکھا گیا، میزائل لانچ کو سائبر حملوں اور دیگر تکنیکی ذرائع سے سبوتاژ کیا جا سکتا ہے۔ اِس اسٹریٹجک صورتحال میں پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہی بیرونی خطرات اور دباؤ کے خلاف پاکستان کی سب سے بڑی قوت ہیں۔ پاکستان کو اپنی ایٹمی صلاحیت کو قابلِ اعتبار بنائے رکھنے کے لیے کئی اقدامات کرنے چاہیے۔ پہلا، شمالی کوریا کی طرح آرٹلری اور تھوڑے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ہندوستان کے کولڈ اسٹارٹ حملے کے خلاف مزاحمت کی پہلی صف کے طور پر تنصیب۔ اِس سے ہندوستانی حملہ ناکام ہو جائے گا اور ایٹمی حملے کی نوبت اوپر چلی جائے گی۔

دوسرا، پاکستان کو ایٹمی حملوں کی صلاحیت رکھنے والے طویل، درمیانے اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تعداد بڑھانی ہو گی تاکہ ہندوستان کے کسی بھی بیلسٹک میزائل سسٹم کا توڑ کیا جا سکے۔ تیسرا، پاکستان کو اپنے میزائلوں پر ایٹمی وار ہیڈز کی تنصیب کے لیے لگاتار ایٹمی مواد تیار کرتے رہنا ہو گا۔ چوتھا، جوابی حملے کے لیے کم از کم کچھ میزائل ایٹمی وارہیڈز سے لیس کر کے اُنہیں پوشیدہ رکھ کر تیار رکھنا ضروری ہے۔ اِس کے علاوہ آبدوزوں پر نصب بیلسٹک میزائل پاکستان کو دوسرا حملہ کرنے کی صلاحیت فراہم کر سکتے ہیں۔ پانچواں، مؤثر فضائی دفاعی نظام اور محدود اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹمز کی تنصیب ضروری ہے تاکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو محفوظ بنایا جا سکے۔

چھٹا، سائبر جنگ کے لیے حملے اور دفاع، دونوں کی صلاحیت پیدا کی جانی چاہیے۔ اِس سب کے علاوہ، پاکستان کو جلد سے جلد خبردار کرنے والے سسٹمز، جن میں سیٹلائٹس، طیارے اور ڈرونز شامل ہیں، حاصل کرنے چاہیے۔ اِس دوران پاکستان کو چین کے ایسے سسٹمز سے مدد لینی چاہیے۔ آخر میں یہ کہ چین کی بری، بحری اور فضائی افواج کے ساتھ اسٹریٹجک اور روایتی مزاحمت کی صلاحیت بڑھانی چاہیے تاکہ کم وقت اور کم خرچ میں فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
ایک بار پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کے مکمل طور پر قابلِ اعتبار ہونے کو واضح کر دے گا، تو جنوبی ایشیاء میں قیامِ امن اور مسئلہ کشمیر کے حل کی اس کی کوششوں پر ہندوستان اور امریکا، دونوں ہی کی جانب سے مثبت ردِ عمل کی توقع ہے۔ اِس کے بعد پاکستان اپنے سماجی و اقتصادی مقاصد کو بیرونی جارحیت، مداخلت اور دباؤ کے خوف کے بغیر حاصل کر سکے گا۔

منیر اکرم

لکھاری اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 1 اکتوبر 2017 کو شائع ہوا۔
 

سی ویو کراچی پر پاکستان اور برطانیہ کے پائلٹوں کا شاندار ایئرشو کا مظاہرہ

شہر قائد میں پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کی خوشی میں سی ویو پر رنگا رنگ ائیر شو کا انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کی فضائیہ کے ماہر پائلٹوں نے شاندار کرتب دکھا کر حاضرین کے دل جیت لیے ۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ساحل سمندر پر پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیارے اور برطانیہ کے رائل ایئرفورس کی ریڈ ایروز ایئروبیٹک ٹیم فضائی مظاہرہ پیش کیا۔ کراچی کے ساحل پر پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے سلسلے میں فضائی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔

تقریب میں پاک فضائیہ کے افسران سمیت گورنر سندھ اور صوبائی حکومتی شخصیات بھی شریک ہیں۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں اور برطانیہ کے رائل ایئر فورس کی ریڈ ایروز ایئروبیٹک ٹیم کا فضائی مظاہرہ دیکھنے کے لئے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر ماہر پائلٹوں نے پیشہ وارانہ طریقے سے انتہائی خوبصورت انداز میں فارمیشنز بنا کر فضاء میں رنگ بھی بکھیرے ۔ پائلٹوں کے فضاء میں کرتب دیکھ کر حاضرین خوب لطف اندوز ہوئے ۔

Pakistan, Russia Begin ‘Friendship 2017’ Joint Anti-terror Drill

Pakistani and Russian military commandos have launched joint counterterrorism drills in the mountains and forests of Russia’s North Caucasus republic of Karachaevo-Cherkessia. The two-week-long exercise dubbed as “Friendship 2017” involves more than 200 mostly special forces from both countries who will conduct joint “hostage rescue” and “cordon-and-search” operations, according to the Pakistani military. “The joint exercise will enhance and further strengthen military ties between the countries and share Pakistan army’s experience in war against terrorism,” it added. Meanwhile, a nearly three-week-long joint air force exercises China is hosting with Pakistan are due to conclude this week. A spokesman for the Chinese air force described them as “routine” exercises.

Pakistan’s deepening political, economic and defense ties with traditional ally China and its emerging new alliance with Russia come amid Islamabad’s increasingly uneasy and strained relations with the United States. The tensions stem from persistent U.S. allegations that Pakistan is not doing enough to prevent terrorist groups on its soil from undertaking deadly attacks against American troops in Afghanistan or from undermining peace-building efforts in the war-ravaged country. Bilateral ties have plunged to new lows following U.S. President Donald Trump’s policy speech last month that accused Islamabad of not ending terrorist safe havens on its soil. U.S. officials have also threatened, among other punitive measures, to degrade Pakistan’s status of a major non-NATO ally.

Islamabad promptly rejected the charges, saying no sanctuaries exist on Pakistani soil because of sustained security operations. It asserted Washington was “scapegoating” Pakistan because of its own “failures” in ending the Afghan war. Pakistan hosted the inaugural round of the counterterrorism drills with Russia late last year, their first-ever joint military exercise. The drills stem from a defense cooperation agreement the two countries signed in 2014, lifting a long-running Russian embargo on arms sales to Pakistan. The deal paved the way for the sale of Mi-35 combat helicopters to Islamabad, despite objections by India, Moscow’s longtime ally and Pakistan’s archenemy.
The October 4 conclusion of the drills is expected to coincide with an official visit to Russia by Pakistan army chief, General Qamar Javed Bajwa. Foreign Ministry spokesman Nafees Zakaria said the visit is a regular high-level exchange between the two sides that “has set the stage for translating political goodwill into a substantial partnership, in particular, in the field of defense.”

پاکستان اور روس کی مشترکا کمانڈوز مشقیں شروع ہو گئیں

پاکستان اور روس کے درمیان دو ہفتوں پر محیط مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز روس میں ہو گیا ہے۔ ’’دروزبہ‘‘ نامی یہ مشقیں روس کے شہر منرالینی میں ہو رہی ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کے مطابق ان مشترکہ فوجی مشقوں کی افتتاحی تقریب میں دونوں ملکوں کی اسپیشل فورسز کے سینیئر افسران شریک ہوئے۔ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن، یرغمال بنائے گئے افراد کی بازیابی اور سرچ آپریشن سے متعلق کارروائیاں ان فوجی مشقوں کا محور ہیں۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق مشترکہ فوجی مشقوں سے دونوں ملکوں کے درمیان عسکری روابط مزید مضبوط ہوں گے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق اپنے تجربے کا تبادلہ روسی فورسز سے کرے گا۔

گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان اور روس کے درمیان پہلی مشترکہ فوجی مشقیں پاکستان میں ہوئی تھیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے عسکری تعلقات کے لیے اہم قرار دیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں 2014ء کے بعد سے نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسی سال روس نے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی جس کے بعد ماسکو نے اسلام آباد کو لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے گزشتہ ہفتے ہی نیوز بریفنگ میں بتایا تھا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں روس کا دورہ طے ہے۔ اس دورے میں بھی دفاع کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی جائے گی۔