نشان حیدر : کسے، کب دینے کا اعلان کیا گیا ؟

nishan-e-haiders

نشان حید ر کا پہلا اعزاز 27 جولائی 1948ء کو پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے پاکستان آرمی کے کیپٹن محمد سرور کو دیا گیا۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے تھا اور یہ اعزاز ان کو شہادت کے تقریباََ 9 سال بعد 16 مارچ 1957ء کو نشان حیدر کے اجراء کے ساتھ ہی دیا گیا۔

نشان حیدر کا دوسرا اعزاز 7 اگست 1958ء کی پاک بھارت جنگ میں دادِ شجاعت دے کرجام شہادت نوش کرنے والے پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ ہی کے میجر طفیل محمد شہید کو دیا گیا۔

راجا عزیز بھٹی شہید، جن کا تعلق بھی پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے تھا اور جو پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے 10 ستمبر 1965ء کو پاک بھارت جنگ میں شہید ہوئے، تیسرے نشان حیدر کے حقدار قرار پائے۔

چوتھا نشان حیدرپاکستان ائیرفورس کے جواں سال جانباز راشد منہاس شہید کر دیا گیا جنہوں نے 20 اگست 1971ء کو دشمن کے ہاتھ لگنے کے بجائے جام شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔

1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران 6 دسمبر 1971ء کو ارض وطن کیلئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنے والے پاکستان آرمی کے فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے میجر شبیر شریف شہید کو نشان حیدر کے پانچویں اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا۔banner-2

1971ء ہی کی پاک بھارت جنگ کے دوران 10 دسمبر 1971ء ک بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرنے وال پاکستان آرمی کے آرمڈ کور کے سوار محمد حسین جنجوعہ شہید ،5 دسمبر 1971ء کو پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس کے رجمنٹ کے میجر محمد اکرم شہید اور 17 دسمبر 1971ء کو دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہونے والی پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ کے لانس نائیک محمد محفوظ شہید کو بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

نواں نشان حیدر آزاد کشمیر رجمنٹ کے نائیک سیف علی جنجوعہ کو 1948 کی پاک بھارت جنگ میں بہادری کے جوہر دکھانے پر 1995ء میں دیا گیا۔ نشان حیدر کا دسواں اور گیارہواں ایوارڈ 5 جولائی1999ء کوکارگل کے تنازعہ میں شہید ہونے والے سندھ رجمنٹ کے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور7 جولائی 1999ء کو شہید ہونے والے ناردرن لائٹ انفنٹری کے حوالدار لالک جان شہید کو دیا گیا۔

 بشکریہ ’’ہونہار‘‘

Advertisements