یومِ شہدائے پولیس

فوج کے علاوہ پولیس کے افسر اور جوان بھی کئی سالوں سے حالتِ جنگ میں ہیں، ان کے سپاہی سے لے کر آئی جی تک نے دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ پولیس کے جونیئر ہی نہیں سینئر افسروں نے بھی برضا ورغبت اپنی سب سے قیمتی متاع زندگی کی قربانی دی ہے تاکہ ملک کے عام شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہیں، قوم کے یہ محافظ، یہ انوکھے جذبوں سے سرشار متوالے بلاشبہ قوم کے بہت بڑے محسن ہیں۔ آج وطنِ عزیز کے شہروں میں زندگی کی گہما گہمی اور ریل پیل اور دفتروں، بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں انھی کے دم سے ہیں۔

آج ملک کے کروڑوں شہری رات کو سکون سے میٹھی نیند سوتے ہیں تو یہ سکون انھی شہیدوں کی قربانیوں کے طفیل ہے۔ آج قوم کے کروڑوں بچّے اسکولوں سے بحفاظت گھروں کو لوٹتے ہیں تو یہ امن بھی شہیدوں کے خون کا صدقہ ہے ۔ ان کی بیمثال قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے، اس کا زیادہ سے زیادہ ذکر بھی ہونا چاہیے۔ غالباً اسی لیے نیشنل پولیس بیورو نے ملک کے تمام صوبوں اور خطّوں میں پولیس کے شہداء کے لیے ایک دن مخصوص کر دیا تا کہ اسے یومِ شہدائے پولیس کے طور پر منایا جائے۔

کسی کام کے لیے ایک دن مخصوص کر دیا جائے تو سال کے باقی ماندہ دنوں میں انسان اُس سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور اسے کسی حد تک فراموش کر دیتا ہے۔ مگر قوم کے محسنوں کو سارا سال یاد رکھنا چاہیے اور ہمارے محسن اور ہیرو ہمارے دلوں سے کبھی محو نہیں ہونے چاہئیں، خاص دن کے بارے میں معلوم کیا تو بتایا گیا کہ چار اگست چونکہ پولیس کے سب سے سینئر شہید آئی جی صفوت غیوّر کا یومِ شہادت ہے اس لیے نیشنل پولیس بیورو نے اس دن کو ہی پورے ملک کے لیے یومِ شہداء قرار دے دیا ہے۔

یہ بھی مناسب فیصلہ ہے مگر سال میں صرف ایک روز شہداء کی قبروں پر پھول چڑھا دینا کافی نہیں ہے، قوم کے یہ عظیم محسن اس سے کہیں زیادہ کے حقدار ہیں۔ صرف عیدوں پر نہیں ہر مہینے ضلع کا کوئی ایس پی یا ڈی ایس پی رینک کا افسر شہداء کے لواحقین سے جاکر ضرور ملا کرے اور ان کی خَیریّت اور مسائل کے بارے میں دریافت کرتا رہے۔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قافلۂ شہدأ کائناتوں کے خالق اور مالک کا بہت لاڈلا اور پسندیدہ گروپ ہے، اتنا پسندیدہ کہ اسکے لیے ربّ ِ کائنات نے اپنے بنائے ہوئے اصول اور قانون تک بدل ڈالے، مالک کا واضح اعلان ہے کہ ’’کُلُّ نفس’‘ ذ ائقتُہ الموت‘‘ ہر شخص موت سے ہمکنار ہو گا مگر ایک گروپ کو موت سے بھی استثنأ دے دی گئی ہے۔ فرمایا شہید زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے مگر آپ کو اس کا ادراک نہیں ہے۔

جب زندگی اور موت کے خالق اور فرمانروا نے فرما دیا کہ شہید زندہ ہیں تو کون ہے جو ان کا نام دفتروں کے رجسٹروں اور کتابوں سے کاٹے۔ پھر تو ان کی تنخواہ بھی جاری رہنی چاہیے جب حکومتی سطح پر اس چیز کا احساس دلایا گیا تو بات فوراً تسلیم کر لی گئی اور فیصلہ ہو گیا کہ شہیدوں کی تنخواہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک جاری رہیگی اور انکریمنٹ بھی لگا کرے گی مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ شہداء کے بوڑھے والدین اور ان کی بیوگان کو دفتروں کے چکّر کاٹنے پڑتے ہیں۔
صوبوں کے آئی جی صاحبان پر لازم ہے کہ وہ اس چیز کو یقینی بنائیں کہ شہداء کے پسماندگان کو تمام واجبات ان کے گھروں پر ہی وصول ہوں اور جس ضلعے میں انھیں دفتروں کے چکّر کاٹنے پڑیں اور کلرکوں کی منتّیں کرنی پڑیں وہاں ضلع سربرہ کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اگر کسی شہید کا والد یا بھائی کبھی پولیس کے ضلع سربراہ کو ملنے آئے تو پولیس کمانڈر انھیں انتظار کرائے بغیر فوری طور پر خوشدلی سے ملیں، انھیں اپنے دفتر میں پوری عزّت دیں، اچھی چائے پلائیں اور ان کا مسئلہ حل کرانے کی پوری کوشش کریں۔

یومِ شہداء پر ہر ضلع ہیڈکوارٹر میں تقریبات منعقد ہونی چاہئیں اور یہ تقریبات پولیس لائنوں کے بجائے ڈسٹرکٹ کونسل ہال یا کسی بڑے آڈیٹوریم میں منعقد ہوں جہاں شہداء کی فیمیلیز کے علاوہ ضلع کے نامور دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، صنعت و تجارت اور بارایسوسی ایشنز کے نمائیندوں، علمائے کرام اور نوجوان طلباء و طالبات کو بھی مدعو کیا جائے، ایسی تقریبات میں ٹاؤٹ یا بدنام لوگ ہرگز نظر نہیں آنے چاہئیں شہداء کی یاد میں منعقد کی جانے والی فوج کی تقریبات بڑی جاندار اور پُر اثر ہوتی ہیں، پولیس کو فوج کی تقریبات کی وڈیوز دیکھ کر اپنی تقریبات کا Format ان کے مطابق بنانا چاہیے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آج بھی شہداء کے لیے منعقد کی گئی تقریبات میں باون سال پہلے (سن پینسٹھ کی جنگ کے دوران) شہداء کے لیے لکھّے گئے لافانی نغمے گونجتے ہیں، اسمیں کوئی شک نہیں کہ سن پینسٹھ میں بھارت کے خلاف ہونے والی جنگ میں ملک کے شاعروں نے ایسے بے مثال نغمے تخلیق کیے اور موسیقاروں نے ایسی پاور فل دھنیں تخلیق کیں کہ وہ آج بھی ہر عمر کے لوگوں کے رگ و پے میں بجلیاں دوڑادیتی ہیں مگر ہمارے شعر و نغمہ کا میدان بنجر کیوں ہو گیا ہے؟ اس معیار کے نغمے پھر کیوں تخلیق نہیں ہو سکے؟۔

دلوں کے تار ہلا دینے والی اور نوجوانوں کو جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دینے والی دھنیں بنانے والے تخلیق کار کہا ں چلے گئے؟ چونکہ قوم کے محافظوں کے خون سے گلشنِ وطن کی آبیاری کا سلسلہ جاری ہے، اسلیے ان لازوال قربانیوں کی تحسین و توصیف کے لیے نئے نغمے تخلیق ہونے چاہئیں اور نئی دھنیں ترتیب دی جانی چاہئیں، ان تقریبات میں پیش ہونے والا شعر و نغمہ اعلیٰ معیار کا ہونا چاہیے، جو قوم کے بہادر سپوتوں کے عظیم کارناموں اور قربانیوں کے شایانِ شان ہو۔

سوال یہ ہے کہ اسقدر قربانیوں کے باوجود پولیس کو ایک نیک نام اور قابلِ احترام ادارے کی حیثیّت کیوں نہیں حاصل ہو سکی؟ پولیس یونیفارم عزّت کی علامت کیوں نہیں بن سکی؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ عوام اس وردی کو ناگوار نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اسلیے ہے کہ عوام کو پولیس سے کئی شکایات ہیں جن میں سے تین بڑی سنگین نوعیّت کی ہیں۔ پہلی یہ کہ پولیس ایماندار نہیں ہے، رشوت کے بغیر مظلوم کے آنسو پونچھنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ دوسرا یہ کہ عام آدمی کے ساتھ پولیس بدتمیزی اور بداخلاقی کے ساتھ پیش آتی ہے، اس کا روّیہ غیر ہمدردانہ ہے اور تیسرا یہ کہ پولیس کے زیادہ ترافسران قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کا قانون نافذ کرتے ہیں یعنی حکومت ِ وقت کے ذاتی نوکروں کا کردار ادا کرتے ہیں اور حکومتوں کے غیر قانونی احکامات بھی بجا لاتے ہیں۔

پولیس سب کی سانجھی ہونی چاہیے، سب کی ہمدرد، خیرخواہ اور غیر جانبدار لیکن عوام کو شکایت ہے کہ پولیس افسر صرف حکومتی پارٹی کے کام کرتے ہیں اور صرف انھیں ریلیف ملتا ہے۔ جو حکومتی پارٹی میں نہ ہوں انھیں انصاف کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں، دوسرے لفظوں میں پولیس اپنے سب سے بڑے Client یعنی عوام کے اعتماد سے محروم ہے۔ عزّت تو اعتماد سے بھی اگلا زینہ ہے۔ مختلف فورمز پر کئی بار کہا بھی ہے اور تحریر بھی کر چکا ہوں کہ پولیس کے دامن میں سب سے قیمتی اثاثہ ، شہداء کا خون ہے۔ شہید گاہے بگاہے اپنے لہوسے پولیس کے دامن پر لگے داغ صاف کرتے ہیں مگر کچھ بدبخت اہلکار رشوت خوری اوربددیانتی سے پولیس کا دامن پھر داغدار کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنے والے شہیدوں کے مقدّس خون کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔

ہر سطح کے پولیس کمانڈروں کو شہداء سے منسوب تقریبات میں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ “ہم کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوّث ہوکر شہداء کے خون کی توہین نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو توہین کرنے دیں گے”۔ آئی جیز دوٹوک الفاظ میں اعلان کریں کہ” کرپٹ اور حرام خور افسران پولیس کی یونیفارم پہننے کے مستحق نہیں ہیں، اُن سے وردی چھین لی جائے گی۔ محافظ کی یونیفارم صرف رزقِ حلال کھانے والوں کے جسم پر سجتی ہے اور وہی اس کے حقدار ہیں”۔

ذوالفقار احمد چیمہ

پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کیوں ؟

بارک شاہ ان دو پولیس افسروں میں شامل تھے جو چار دنوں کے مختصرعرصے میں کوئٹہ اور چمن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ مبارک شاہ کو کوئٹہ شہر میں دن دہاڑے تین محافظوں سمیت گھر کے قریب ہی مارا گیا۔ وہ 1985 میں بلوچستان پولیس میں بطور انسپیکٹر بھرتی ہوئے اور 2000 میں ایس پی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بڑے بیٹے عبد الستار کا کہنا ہے کہ اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ پشتونوں کے غیبزئی قبیلے میں اس عہدے پر پہنچنے والے واحد شخص تھے۔
عبد الستار کا کہنا ہے کہ ان کا رویہ گھر میں سب کے ساتھ دوستوں جیسا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘خطرات کے پیش نظر ان کو گھروالوں نے سیکورٹی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر انھوں نے کہا کہ میں نے کسی کے بچوں کو نہیں رلایا تو کوئی ان کے بچوں کو کیوں رلائے گا۔’

سنہ 2000 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے پولیس اہلکاروں پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب بھی جاری ہے۔ محکمۂ داخلہ حکومت بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 میں 111 پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ گذشتہ سال پولیس ٹریننگ کالج پر ہونے والے تین خود کش حملوں میں 61 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

سال ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار
2011 23
2012 46
2013 88
2014 35
2015 36
2016 111

رواں سال میں اب تک تین افسروں سمیت 15 سے زائد پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ پولیس اہلکار آسانی کے ساتھ کیوں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں، اس بارے میں سینیئرصحافی سلیم شاہد نے اس کی چند وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ‘پولیس اہلکار کسی گیریژن میں نہیں رہتے۔ وہ الگ بیرکوں میں بھی نہیں رہتے ۔ پولیس اہلکار عام آبادیوں میں رہتے ہیں اس لیے وہ آسانی کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔’ پولیس کے مطابق فورس کے اہلکاروں کی آسانی کے ساتھ ٹارگٹ بننے کی ایک وجہ تحفظ کے لیے جدید سہولیات کا فقدان ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مقتول ایس پی مبارک شاہ نے اعلیٰ حکام کو بلٹ پروف گاڑی کی فراہمی کے لیے تحریری درخواست دی تھی لیکن انھیں گاڑی فراہم نہیں کی گئی۔

تاہم ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ فورس کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے نشانہ بننے کی وجہ شہری علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’سب کو اندازہ ہے کہ اس جنگ میں ہم شہری علاقوں میں فرنٹ لائن پر ہیں۔ فوج ایک اور طریقے سے اس جنگ کو لڑ رہی ہے لیکن شہری علاقوں میں پولیس اور ایف سی فرنٹ لائن پر ہیں۔’ محکمۂ پولیس کے مطابق 2000 سے لے کر اب تک بلوچستان میں 835 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

محمد کاظم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاک آرمی کے ساتھ ایک دن

pakistan-army

میجر حارث کی پیش کش کو ٹھکرایا نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 7 فروری کو ہم آپ کو آرمی کے جوانوں سے ملوانا چاہتے ہیں اور دکھائیں گے کہ وہ کس طرح دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہر دم کوشاں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کو گنڈا سنگھ بارڈر پر بھی لے جایا جائے گا، جہاں واہگہ بارڈر کی طرز پر ہر روز پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مَیں مقررہ مقام پر پہنچا تو وہاں بہت سے اجنبی چہرے دکھائی دیئے جو سویلین لباس میں تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی تو پتا چلا کہ یہ تمام احباب سول سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں بینکار، صنعت کار، تاجر اور وکلاء شامل تھے۔ ادیبانہ اور شاعرانہ چہرہ ایک بھی نہیں تھا۔ اتنے میں ایک صاحب بہت تیزی سے میری طرف آئے اور بولے: ’’شکر ہے کہ یہاں آپ موجود ہیں۔ اب مَیں سارا دن آپ کے ساتھ ہی رہوں گا‘‘۔ یہ اردو اور پنجابی زبان کے شاعر انیس احمد تھے۔ ان کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا۔ مجھے اپنا ایک شعر یاد آ گیا:

ناصر بشیر خود کو اکیلا ہی پاؤ گے

لوگوں میں ڈھونڈتے رہے گر اپنے جیسی بات5404febaceb3f

اسی اثناء میں مجھے ایک نہایت خوب صورت نوجوان، صاف ستھری فوجی وردی میں دکھائی دیا۔ یہی میجر حارث تھے جن کی دعوت پر مَیں یہاں پہنچا تھا۔ یادگارِ شہدا کے چبوترے پر نہایت چاق چوبند سپاہی بھاری رائفلیں تھامے کھڑے تھے۔ چند لمحوں کے بعد لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز آ گئے۔ وہ سویلین میں بالکل اسی طرح گھل مل گئے جس طرح ہمارے سیاسی زعمائے کرام فیصل مسجد یا بادشاہی مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد گھل مل جاتے ہیں۔ ابھی ہم ان کی رعب دار شخصیت کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس ایک اور صاحب آ گئے۔ میجر حارث اور لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز نے انہیں پروٹوکول دیا تو مَیں سمجھ گیا کہ یہ یقیناًان کے سینئر ہیں۔ یہ بریگیڈیئر عمران نقوی تھے۔ فوج کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ اس میں جونیئرز اپنے سینئرز کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں اور ان کے اشارے کو بھی حکم سمجھتے ہیں اور جہاں سینئر افسر موجود ہو، وہاں جونیئر اس سے کچھ فاصلے پر رہتے ہیں۔

مَیں چونکہ شاعر ہوں، اس لئے شاعروں کی مثال دوں گا کہ اب ادبی دنیا میں سینئر جونیئر کا فرق مٹ گیا ہے۔ نئے شاعر اپنے سینئرز کی نشستوں پر زبردستی قبضہ کر لیتے ہیں۔ نوجوان شاعر تقریب میں وقت پر آ جائیں تو اگلی نشستوں پر براجمان ہو جاتے ہیں جو سینئر ادیبوں شاعروں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔ صرف ادبی دنیا کا ہی نہیں، ہماری سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ کوئی بڑا سیاسی راہنما کہیں موجود ہو تو نووارد سیاست دان سینئر اور تجربہ کار سیاست دانوں کو پرے دھکیل کر خود اپنے رہنما کی بغل میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہاں موجود کیمروں کی آنکھیں انہیں دیکھ لیں تا کہ وہ بھی ٹیلی ویژن سکرین پر کچھ ثانیوں کے لئے ہی سہی، جلوہ گر ہو سکیں۔ میجر حارث نے میجر علی سے بھی ملوایا جو آئی ایس پی آر میں ہوتے ہیں۔ جب انہیں علم ہوا کہ یومِ یک جہتی کشمیر پر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نغمے میں پہلے دو شعر میرے ہیں تو ان کی گرم جوشی مزید بڑھ گئی۔ میرے دو شعر آپ بھی دیکھ لیجئے:

کشمیر! ترا حسن ہوا درد کی تصویر

آنسو ہیں تری آنکھ میں، پیروں میں ہے زنجیر

وہ کہتے ہیں آزادی کو اک خواب ہی سمجھو

ہم کہتے ہیں ہر خواب کی اک ہوتی ہے تعبیر

سانحۂ پشاور پر بھی آئی ایس پی آر نے دو نہایت شان دار نغمے جاری کئے تھے  لیکن یوم یکِ جہتی کشمیر پر ریکارڈ کیا گیا نغمہ ان کے معیار تک نہیں پہنچا۔ میرے دو شعر تحت اللفظ میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور مشہور

 شعر تحت اللفظ میں شامل کیا گیا ہے:

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ ریکارڈ کرنے والوں نے میرے دو شعروں میں بھی ایک غلطی کی اور اس شعر میں بھی غلطی کر دی۔ دوسرا مصرع یوں کر دیا:

جنت کسی کافر کو نہ ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ سنتے ہی مَیں نے آئی ایس پی آر اسلام آباد میں تعینات اپنے دوست یوسف عالمگیرین سے رابطہ کیا اور انہیں ان اغلاط سے آگاہ کیا۔ مَیں نے انہیں یہ کہا کہ نغمہ ریکارڈ کرنے سے پہلے مجھ سے نہ سہی، کسی اور شاعر سے رابطہ کر لیا جاتا تا کہ غلطی کا احتمال نہ رہتا۔ جو گانا گلوکار سے گوایا گیا ہے،اس کی شاعری کسی بحر میں نہیں ہے۔ میری اس بات کو آپ جملہ معترضہ جان لیجئے۔ کالم کا اصل موضوع تو آرمی کے ساتھ گزرے ہوئے دن کی روداد بیان کرنا ہے۔ یادگار شہدا سے تمام دوستوں کو محفوظ شہید گیریثرن لے جایا گیا۔ ٹینکوں کی سواری ، فائرنگ اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں سے نمٹنے کی مشقیں دیکھ کر دل کو یقین ہونے لگا کہ ہمارا ہر آتا ہوا دن بہتر سے بہتر ہوگا۔ وہاں سے کورہیڈ کوارٹر پہنچے ۔ جہاں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صادق علی ( بلال امتیاز) نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان کے قیام کے لئے بہادر پاکستانی افواج کی طرف سے کی جانے والی کامیاب کوششوں کے حوالے سے تفصیل سے معلومات دیں۔

انہوں نے وکلا، تاجروں، صنعت کاروں اور بینکاروں کے انتہائی تلخ سوالوں کے جوابات نہایت خندہ پیشانی سے دیئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یومِ کشمیر پر جاری کئے گئے نغمے میں میرے دو شعر شامل ہیں تو انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور حاضرین سے تالیاں بجوائیں۔ پُر تکلف چائے پینے کے بعد ہمیں قصور لے جایا گیا۔ ہماری بسوں کے آگے پیچھے فوجی گاڑیاں تھیں جو غالباً ہماری سیکیورٹی پر مامور تھیں۔ ظہرانے میں دیگر کھانوں کے ساتھ قصور کی تو ے والی مچھلی بھی وافر مقدار میں رکھی گئی تھی۔ مہمانوں کو جی بھر کے کھانا کھانے دیا گیا، کسی افسر نے کھانے کے آغاز میں جینٹل مین بسم اللہ کہا، نہ ختم کرنے کے لئے جینٹل مین الحمد للہ کہا۔ کرنل اشفاق حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فوجی میس میں اس وقت تک کھانا شروع نہیں کیا جاتا جب تک وہاں موجود سینئر افسر جینٹل مین بسم اللہ نہ کہے اور کھانے کے دوران میں جب وہی افسر جینٹل مین الحمد للہ کہے تو سب کو اپنا ہاتھ روکنا پڑتا ہے۔

کھانے کے بعد گنڈا سنگھ بارڈر پر پہنچے۔ جہاں پرچم اتارنے کی تقریب ہو رہی تھی۔ ہمارے لئے پہلے سے نشستیں مخصوص تھیں۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی لکیر کے عین اُوپر ایک بلی بیٹھی تھی۔ وہ کبھی پاکستانی فوجیوں کی طرف دیکھتی اور کبھی بھارتی فوجیوں کی طرف۔ وہ دراصل ان کے پاؤں کی دھمک سے خوفزدہ تھی۔ مَیں نے محسوس کیا کہ بھارتی فوجی اس بلی کو دیکھ کر بھیگی بلی بنے ہوئے تھے۔ بلی نے بھارت کی طرف جانا چاہا تو بھارتی فوجیوں نے اشاروں سے اسے پاکستان کی طرف دھکیل دیا۔ یہ وہی بھارتی فوج ہے جو ایک معمولی سے کبوتر سے بھی ڈر جاتی ہے۔ میرا یہ دن تھکا دینے والا تھا، لیکن فوجیوں کی مشقت بھری زندگی کی مصروفیات دیکھ کر مَیں مطمئن تھا کہ میرا پاکستان محفوظ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر اگر کوئی دیوار ہے تو وہ پاک آرمی ہے جس نے تمام خطروں کو روکا ہوا ہے۔

ناصر بشیر

پاکستان پولیس کے خصوصی دستوں کی تربیتی مشقیں

 دنیا بھر میں پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک ہے اور اس کے ہزاروں شہری دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہو چکے ہیں۔