پاک فضائیہ نے اپنے تمام فارورڈ ایئربیس آپریشنل کر دیئے

پاک فضائیہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ بھارتی ائیرچیف کی دھمکیوں کے پیش نظر پاک فضائیہ کے تمام فارورڈ آپریٹنگ بیسزمکمل آپریشنل کردیئے گئے ہیں اور مختلف جنگی طیاروں کی تربیتی پروازیں جاری ہیں۔ ایئر چیف مارشل سہیل امان سیاچن محاذ کے قریب اسکردو میں فارورڈ آپریٹنگ بیس پر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے پہنچے، ایئر چیف نے نا صرف فضائی سرحدوں کی حفاظت پر مامور جوانوں کے جذبے کو سراہا بلکہ فارورڈ آپریشنل ایریا میں میراج طیارہ اڑا کر جنگی مشقوں میں حصہ بھی لیا۔

بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایئرچیف سہیل امان نے کہا کہ ہم سارا سال ہر لمحے تیار رہتے ہیں، یہ معمول کی آپریشنل سرگرمی ہے اور ہمیں کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم تیار ہیں، قوم کو دشمن کے بیانات پر رتی بھر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

Advertisements

یومِ شہدائے پولیس

فوج کے علاوہ پولیس کے افسر اور جوان بھی کئی سالوں سے حالتِ جنگ میں ہیں، ان کے سپاہی سے لے کر آئی جی تک نے دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ پولیس کے جونیئر ہی نہیں سینئر افسروں نے بھی برضا ورغبت اپنی سب سے قیمتی متاع زندگی کی قربانی دی ہے تاکہ ملک کے عام شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہیں، قوم کے یہ محافظ، یہ انوکھے جذبوں سے سرشار متوالے بلاشبہ قوم کے بہت بڑے محسن ہیں۔ آج وطنِ عزیز کے شہروں میں زندگی کی گہما گہمی اور ریل پیل اور دفتروں، بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں انھی کے دم سے ہیں۔

آج ملک کے کروڑوں شہری رات کو سکون سے میٹھی نیند سوتے ہیں تو یہ سکون انھی شہیدوں کی قربانیوں کے طفیل ہے۔ آج قوم کے کروڑوں بچّے اسکولوں سے بحفاظت گھروں کو لوٹتے ہیں تو یہ امن بھی شہیدوں کے خون کا صدقہ ہے ۔ ان کی بیمثال قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے، اس کا زیادہ سے زیادہ ذکر بھی ہونا چاہیے۔ غالباً اسی لیے نیشنل پولیس بیورو نے ملک کے تمام صوبوں اور خطّوں میں پولیس کے شہداء کے لیے ایک دن مخصوص کر دیا تا کہ اسے یومِ شہدائے پولیس کے طور پر منایا جائے۔

کسی کام کے لیے ایک دن مخصوص کر دیا جائے تو سال کے باقی ماندہ دنوں میں انسان اُس سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور اسے کسی حد تک فراموش کر دیتا ہے۔ مگر قوم کے محسنوں کو سارا سال یاد رکھنا چاہیے اور ہمارے محسن اور ہیرو ہمارے دلوں سے کبھی محو نہیں ہونے چاہئیں، خاص دن کے بارے میں معلوم کیا تو بتایا گیا کہ چار اگست چونکہ پولیس کے سب سے سینئر شہید آئی جی صفوت غیوّر کا یومِ شہادت ہے اس لیے نیشنل پولیس بیورو نے اس دن کو ہی پورے ملک کے لیے یومِ شہداء قرار دے دیا ہے۔

یہ بھی مناسب فیصلہ ہے مگر سال میں صرف ایک روز شہداء کی قبروں پر پھول چڑھا دینا کافی نہیں ہے، قوم کے یہ عظیم محسن اس سے کہیں زیادہ کے حقدار ہیں۔ صرف عیدوں پر نہیں ہر مہینے ضلع کا کوئی ایس پی یا ڈی ایس پی رینک کا افسر شہداء کے لواحقین سے جاکر ضرور ملا کرے اور ان کی خَیریّت اور مسائل کے بارے میں دریافت کرتا رہے۔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قافلۂ شہدأ کائناتوں کے خالق اور مالک کا بہت لاڈلا اور پسندیدہ گروپ ہے، اتنا پسندیدہ کہ اسکے لیے ربّ ِ کائنات نے اپنے بنائے ہوئے اصول اور قانون تک بدل ڈالے، مالک کا واضح اعلان ہے کہ ’’کُلُّ نفس’‘ ذ ائقتُہ الموت‘‘ ہر شخص موت سے ہمکنار ہو گا مگر ایک گروپ کو موت سے بھی استثنأ دے دی گئی ہے۔ فرمایا شہید زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے مگر آپ کو اس کا ادراک نہیں ہے۔

جب زندگی اور موت کے خالق اور فرمانروا نے فرما دیا کہ شہید زندہ ہیں تو کون ہے جو ان کا نام دفتروں کے رجسٹروں اور کتابوں سے کاٹے۔ پھر تو ان کی تنخواہ بھی جاری رہنی چاہیے جب حکومتی سطح پر اس چیز کا احساس دلایا گیا تو بات فوراً تسلیم کر لی گئی اور فیصلہ ہو گیا کہ شہیدوں کی تنخواہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک جاری رہیگی اور انکریمنٹ بھی لگا کرے گی مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ شہداء کے بوڑھے والدین اور ان کی بیوگان کو دفتروں کے چکّر کاٹنے پڑتے ہیں۔
صوبوں کے آئی جی صاحبان پر لازم ہے کہ وہ اس چیز کو یقینی بنائیں کہ شہداء کے پسماندگان کو تمام واجبات ان کے گھروں پر ہی وصول ہوں اور جس ضلعے میں انھیں دفتروں کے چکّر کاٹنے پڑیں اور کلرکوں کی منتّیں کرنی پڑیں وہاں ضلع سربرہ کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اگر کسی شہید کا والد یا بھائی کبھی پولیس کے ضلع سربراہ کو ملنے آئے تو پولیس کمانڈر انھیں انتظار کرائے بغیر فوری طور پر خوشدلی سے ملیں، انھیں اپنے دفتر میں پوری عزّت دیں، اچھی چائے پلائیں اور ان کا مسئلہ حل کرانے کی پوری کوشش کریں۔

یومِ شہداء پر ہر ضلع ہیڈکوارٹر میں تقریبات منعقد ہونی چاہئیں اور یہ تقریبات پولیس لائنوں کے بجائے ڈسٹرکٹ کونسل ہال یا کسی بڑے آڈیٹوریم میں منعقد ہوں جہاں شہداء کی فیمیلیز کے علاوہ ضلع کے نامور دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، صنعت و تجارت اور بارایسوسی ایشنز کے نمائیندوں، علمائے کرام اور نوجوان طلباء و طالبات کو بھی مدعو کیا جائے، ایسی تقریبات میں ٹاؤٹ یا بدنام لوگ ہرگز نظر نہیں آنے چاہئیں شہداء کی یاد میں منعقد کی جانے والی فوج کی تقریبات بڑی جاندار اور پُر اثر ہوتی ہیں، پولیس کو فوج کی تقریبات کی وڈیوز دیکھ کر اپنی تقریبات کا Format ان کے مطابق بنانا چاہیے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آج بھی شہداء کے لیے منعقد کی گئی تقریبات میں باون سال پہلے (سن پینسٹھ کی جنگ کے دوران) شہداء کے لیے لکھّے گئے لافانی نغمے گونجتے ہیں، اسمیں کوئی شک نہیں کہ سن پینسٹھ میں بھارت کے خلاف ہونے والی جنگ میں ملک کے شاعروں نے ایسے بے مثال نغمے تخلیق کیے اور موسیقاروں نے ایسی پاور فل دھنیں تخلیق کیں کہ وہ آج بھی ہر عمر کے لوگوں کے رگ و پے میں بجلیاں دوڑادیتی ہیں مگر ہمارے شعر و نغمہ کا میدان بنجر کیوں ہو گیا ہے؟ اس معیار کے نغمے پھر کیوں تخلیق نہیں ہو سکے؟۔

دلوں کے تار ہلا دینے والی اور نوجوانوں کو جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دینے والی دھنیں بنانے والے تخلیق کار کہا ں چلے گئے؟ چونکہ قوم کے محافظوں کے خون سے گلشنِ وطن کی آبیاری کا سلسلہ جاری ہے، اسلیے ان لازوال قربانیوں کی تحسین و توصیف کے لیے نئے نغمے تخلیق ہونے چاہئیں اور نئی دھنیں ترتیب دی جانی چاہئیں، ان تقریبات میں پیش ہونے والا شعر و نغمہ اعلیٰ معیار کا ہونا چاہیے، جو قوم کے بہادر سپوتوں کے عظیم کارناموں اور قربانیوں کے شایانِ شان ہو۔

سوال یہ ہے کہ اسقدر قربانیوں کے باوجود پولیس کو ایک نیک نام اور قابلِ احترام ادارے کی حیثیّت کیوں نہیں حاصل ہو سکی؟ پولیس یونیفارم عزّت کی علامت کیوں نہیں بن سکی؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ عوام اس وردی کو ناگوار نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اسلیے ہے کہ عوام کو پولیس سے کئی شکایات ہیں جن میں سے تین بڑی سنگین نوعیّت کی ہیں۔ پہلی یہ کہ پولیس ایماندار نہیں ہے، رشوت کے بغیر مظلوم کے آنسو پونچھنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ دوسرا یہ کہ عام آدمی کے ساتھ پولیس بدتمیزی اور بداخلاقی کے ساتھ پیش آتی ہے، اس کا روّیہ غیر ہمدردانہ ہے اور تیسرا یہ کہ پولیس کے زیادہ ترافسران قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کا قانون نافذ کرتے ہیں یعنی حکومت ِ وقت کے ذاتی نوکروں کا کردار ادا کرتے ہیں اور حکومتوں کے غیر قانونی احکامات بھی بجا لاتے ہیں۔

پولیس سب کی سانجھی ہونی چاہیے، سب کی ہمدرد، خیرخواہ اور غیر جانبدار لیکن عوام کو شکایت ہے کہ پولیس افسر صرف حکومتی پارٹی کے کام کرتے ہیں اور صرف انھیں ریلیف ملتا ہے۔ جو حکومتی پارٹی میں نہ ہوں انھیں انصاف کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں، دوسرے لفظوں میں پولیس اپنے سب سے بڑے Client یعنی عوام کے اعتماد سے محروم ہے۔ عزّت تو اعتماد سے بھی اگلا زینہ ہے۔ مختلف فورمز پر کئی بار کہا بھی ہے اور تحریر بھی کر چکا ہوں کہ پولیس کے دامن میں سب سے قیمتی اثاثہ ، شہداء کا خون ہے۔ شہید گاہے بگاہے اپنے لہوسے پولیس کے دامن پر لگے داغ صاف کرتے ہیں مگر کچھ بدبخت اہلکار رشوت خوری اوربددیانتی سے پولیس کا دامن پھر داغدار کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنے والے شہیدوں کے مقدّس خون کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔

ہر سطح کے پولیس کمانڈروں کو شہداء سے منسوب تقریبات میں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ “ہم کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوّث ہوکر شہداء کے خون کی توہین نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو توہین کرنے دیں گے”۔ آئی جیز دوٹوک الفاظ میں اعلان کریں کہ” کرپٹ اور حرام خور افسران پولیس کی یونیفارم پہننے کے مستحق نہیں ہیں، اُن سے وردی چھین لی جائے گی۔ محافظ کی یونیفارم صرف رزقِ حلال کھانے والوں کے جسم پر سجتی ہے اور وہی اس کے حقدار ہیں”۔

ذوالفقار احمد چیمہ

پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کیوں ؟

بارک شاہ ان دو پولیس افسروں میں شامل تھے جو چار دنوں کے مختصرعرصے میں کوئٹہ اور چمن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ مبارک شاہ کو کوئٹہ شہر میں دن دہاڑے تین محافظوں سمیت گھر کے قریب ہی مارا گیا۔ وہ 1985 میں بلوچستان پولیس میں بطور انسپیکٹر بھرتی ہوئے اور 2000 میں ایس پی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بڑے بیٹے عبد الستار کا کہنا ہے کہ اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ پشتونوں کے غیبزئی قبیلے میں اس عہدے پر پہنچنے والے واحد شخص تھے۔
عبد الستار کا کہنا ہے کہ ان کا رویہ گھر میں سب کے ساتھ دوستوں جیسا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘خطرات کے پیش نظر ان کو گھروالوں نے سیکورٹی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر انھوں نے کہا کہ میں نے کسی کے بچوں کو نہیں رلایا تو کوئی ان کے بچوں کو کیوں رلائے گا۔’

سنہ 2000 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے پولیس اہلکاروں پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب بھی جاری ہے۔ محکمۂ داخلہ حکومت بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 میں 111 پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ گذشتہ سال پولیس ٹریننگ کالج پر ہونے والے تین خود کش حملوں میں 61 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

سال ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار
2011 23
2012 46
2013 88
2014 35
2015 36
2016 111

رواں سال میں اب تک تین افسروں سمیت 15 سے زائد پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ پولیس اہلکار آسانی کے ساتھ کیوں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں، اس بارے میں سینیئرصحافی سلیم شاہد نے اس کی چند وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ‘پولیس اہلکار کسی گیریژن میں نہیں رہتے۔ وہ الگ بیرکوں میں بھی نہیں رہتے ۔ پولیس اہلکار عام آبادیوں میں رہتے ہیں اس لیے وہ آسانی کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔’ پولیس کے مطابق فورس کے اہلکاروں کی آسانی کے ساتھ ٹارگٹ بننے کی ایک وجہ تحفظ کے لیے جدید سہولیات کا فقدان ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مقتول ایس پی مبارک شاہ نے اعلیٰ حکام کو بلٹ پروف گاڑی کی فراہمی کے لیے تحریری درخواست دی تھی لیکن انھیں گاڑی فراہم نہیں کی گئی۔

تاہم ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ فورس کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے نشانہ بننے کی وجہ شہری علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’سب کو اندازہ ہے کہ اس جنگ میں ہم شہری علاقوں میں فرنٹ لائن پر ہیں۔ فوج ایک اور طریقے سے اس جنگ کو لڑ رہی ہے لیکن شہری علاقوں میں پولیس اور ایف سی فرنٹ لائن پر ہیں۔’ محکمۂ پولیس کے مطابق 2000 سے لے کر اب تک بلوچستان میں 835 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

محمد کاظم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

خانہ کعبہ کے اندر

اگر نیت صاف، دل ودماغ ’’مَیں‘‘ سے پاک اور کوئی ذاتی مفاد نہ ہو تو پھر ناممکن بھی ممکن ہو جائے۔ جب ایک نسبتاً گرم دن کے بعد آئی شام، رات میں ڈھل کرخنکی کی چادر اُوڑھ چکی، جب چائے، کافی اور قہوے کے دور چل چکے، جب وہ اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ا پنی اُس ملاقات کا بتا چکے کہ جو تھی تو آدھے گھنٹے کی اور جو شروع ہوئی انتہائی Tenseماحول میں مگر جاری رہی ڈھائی گھنٹے تک اور جس کا اختتام ہوا پرجوش معانقوں اورمحبت بھرے اندا زمیں، جب وہ دبئی کے حکمران شیخ محمد سے ہوئی اپنی ایک بہت ہی سود مند ملاقات کا حال سنا چکے، جب چینی قیادت سے ہوئی انکی ملاقاتوں پر گفتگو ہو چکی، جب قطر کے امیر کے گھر ایک کھلے ڈھلے ماحول میں ہوئی ایک لمبی نشست پر بات ہو چکی، جب انکا برطانوی دورہ بھی ڈسکس ہو چکا اور جب کلبھوشن سے احسان اللہ احسان تک ہر موضوع زیرِبحث آچکا.

تب مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو میں ہر بار پوچھنا بھول جاتا تھا ’’بحیثیت آرمی چیف سعودی عرب کے پہلے ہی دورے میں آپ کو خانہ کعبہ کے اندر جانے کی سعادت ہوئی، یہ کیسے ہو گیا ‘‘ میرے اس سوال پر اک عجیب سے اطمینان بھرے انداز میں صوفے سے ٹیک لگا کر چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولے ’ ’ سچی بات تو یہ کہ جس کا گھر، اسی کا کرم اور اسی کا بلاوا، ورنہ یہ پہلے سے طے نہیں تھا، دراصل ہوا یوں کہ ریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتوں کے بعد جب مدینہ آکر میں روضہ رسول ؐ پر سلام اور مسجد نبوی ﷺمیں نفل پڑھ کر فارغ ہوا تو سعودی باد شاہ کے پروٹوکول سربراہ جو پہلے میرےا سٹاف کو آگاہ کر چکا تھا، اس نے پھر ٹیلی فون پر مجھے بھی بتایا کہ’’ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خواہش پر عمرے کے بعد آپ کیلئے خصوصی طو ر پر کعبہ کا دروازہ کھولا جائے گا‘‘، یہ سنتے ہی میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور شکر ادا کرتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ خیر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرنے، شاہی مہمان خانے میں آکر احرام اتارنے، تھوڑی دیر آرام کرنے اور پھر عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سعودی شاہی فورس کا خصوصی دستہ ہمیں خانہ کعبہ کے دروازے تک لایا، جہاں سے میں اپنے وفد سمیت اللہ کے گھر کے اندر گیا ‘‘۔

سر باجوہ جونہی بات کرتے کرتے رُکے تو میں نے اگلا سوال کر دیا ’’کعبتہ اللہ میں جانے کیلئے جب آپ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، تب کیا احساسات تھے ‘‘، وہ قہو ے کا کپ اُٹھاتے ہوئے بولے ’’ بس بار بار اپنے گناہ گار ہونے اور اللہ کے گھر کے تقدس اور جاہ وجلال کا احساس ہو رہا تھا ‘‘ سر باجوہ نے رُ ک کر جیسے ہی قہوے کا گھونٹ بھرا تو میں نے ایک اور سوال کیا ’’خانہ کعبہ میں داخل ہو نے کے بعد کیا Feelings تھیں ‘‘لمحہ بھر کے توقف کے بعد وہ بولے ’’وہ Feelings لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتیں، وہاں پہنچ کر بھلا کسے ہوش رہتا ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے بندہ کسی اور ہی دنیا اور کسی اور ہی جہان میں پہنچ گیا ہو، وہاں جونہی یہ خیال آتا ہے کہ میں کہاں ہوں تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ‘‘.

اُنہوں نے بات مکمل کی تومیرا اگلا سوال تیار تھا ’’اللہ کے گھر میں داخل ہوتے وقت یا داخل ہو کر پہلی نظر پڑتے ہی کیا دیکھا اور اندر جا کر پہلا کام کیا کیِا ‘‘، اندر داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ کعبۃ اللہ کے ستونوں کے درمیان رسی پر بہت سارے برتن لٹکے ہوئے ہیں، یہ غالباً حضور ؐ کے دور یا اس سے بھی پہلے کے ہیں، باقی اندر جا کرمیں جیسے ہی نفل پڑھنے کیلئے ایک جگہ کھڑا ہوا تو سعودی شاہی گائیڈ مجھے ’’رکن یمنی ‘‘والی دیوار کے ساتھ ایک جگہ لے جا کر بولا ’’آپ یہاں نفل پڑھیں کیونکہ یہ مصلّیٰ رسولؐ ہے، حضورؐ یہاں نفل پڑھا کرتے تھے‘‘، میں نے پہلے وہاں نفل پڑھے پھر کعبۃ اللہ میں گھوم کر چاروں طرف نفل پڑھے اور پھر جب میں دعا مانگنے میں مصروف تھا تو اللہ کا مجھ پر ایک اور کرم ہوا کہ میرے لیئے کعبۃ اللہ کے اندر موجود ’’ توبہ کا دروازہ‘‘ بھی کھول دیا گیا اور میں نے باقی دعائیں وہاں جا کر کیں.

بات ختم کر کے غیر محسوس طریقے سے ٹشو سے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے سر باجوہ سے جب میں نے یہ پوچھا کہ ’’کوئی ایسی دعا جو آپ نے وہاں بار بار مانگی ہو‘‘توان کا جواب تھا ’’ویسے تو میں نے پاک فوج، اپنے شہداء، والدین، بچوں، رشتہ داروں اور دوست احباب کیلئے بھی بہت دعائیں کیں مگر خانہ کعبہ کے اندر میرے دل ودماغ پر پاکستان چھایا ہوا تھا، وہاں میں نے سب سے زیادہ دعائیں پاکستان کیلئے کیں اور مجھے اچھی طرح یاد کہ دعا مانگتے مانگتے جب میں یہاں پہنچا کہ ’’اے پاک پروردگار پُر امن اور مستحکم پاکستان کیلئے پاک فوج کی دی گئی قربانیاں رائیگاں نہ جانے دینا ‘‘تو میری جو کیفیت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے، یہاں میں یہ بھی ضرور بتانا چاہوں گا کہ ان لمحوں میں جب اندر میں اپنے ملک کیلئے دعائیں کر رہا تھا تو باہر کعبہ کا صحن نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، پاکستان زندہ باد اور پاک فوج پائندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا، میں عمر بھر یہ روح پرور لمحے نہیں بھلا سکتا، اِدھر سرباجوہ خاموش ہوئے اور اُدھر غیر ارادی طورپر جب میری نظر ان کے چہرے پر پڑی تو انکی آنکھیں پھر سے بھیگ چکی تھیں۔

صاحبو ! اُس رات نجانے کتنے موضوعات پر بات کر کے واپس آتے ہوئے بار بار میرے ذہن میں یہ خیال آرہا تھا کہ یہ نصیب نصیب کی بات کہ جو سعادت پچھلے دونوں چیفس کے حصے میں نہ آئی، وہ سعادت آتے ہی سرباجوہ کو حاصل ہو گئی، میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ بھلا کل تک کس کے وہم وگمان میں تھا کہ وہ کام جو پچھلے چیفس 9 سالوں میں نہ کر سکے، وہ جنرل قمر جاوید باجوہ صرف 5 مہینوں میں کر لیں گے، کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ صرف 150 دنوں میں اگر ایک طرف پنجاب میں رینجرز آپریشن شروع ہو جائے گا تو دوسری طرف 9 سالوں سے التوا میں پڑی مردم شماری کا آغاز ہو جائے گا، اگر ایک طرف کلبھوشن کو پھانسی کی سزا سنا دی جائے گی تو دوسری طرف عزیر بلوچ کا کیس فوجی عدالت میں آجائے گا اوراگر ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد لانچ ہو جائے گا تو دوسری طرف بیرونی محاذ پر افغان بارڈ مینجمنٹ پر عملی اقدامات سے لیکر دہشت گردوں کیخلاف افغانستان کے اندر 100 کلومیٹر تک کارروائی اور ہر محاذ پر بھارتی جارحیت کو منہ توڑ جواب بھی ملے گا.

اور پھر یہ کیا آسان کام ہے کہ صرف 5 مہینوں میں آرمی چیف کا نہ صرف اگلے مورچوں اور محاذوں پر لڑتے جوانوں سے دو تین بار ملنے پہنچ جانا، نہ صرف 150 دنوں میں ان کا پاکستان کا مقدمہ لے کر سعودی عرب، یو اے ای، چین، قطر اور برطانیہ سے بھی ہو آنا اور نہ صرف فاٹا میں جاری ترقیاتی کاموں سے لیکر سی پیک اور گوادر کی نگرانی کرنا بلکہ ریکوڈک کے معاملے سے لیکر پاک کی فوج کی جدید خطوط پر تربیت تک سب کچھ کر جانا، یہی نہیں، آگے بھی سنتے جایئے، گو کہ چھٹی والے دن بھی رات 3 تین بجے تک کام کرتے اور پاکستان میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنے کے خواہش مند جنرل باجوہ ان موضوعات پر نہیں بولتے مگر اب یہ سب کو معلوم ہو چکا کہ جنرل راحیل شریف کو زمین کے مسئلے سے نکالنے اور ان کے مسلم افواج کے کمانڈر بننے کے ڈی ٹریک ہو چکے معاملے کو پھر سے ٹریک پر لانے کا کریڈٹ بھی سر باجوہ کو ہی جائے اور پھر ہر قسم کی ٹوئٹ بازی اور کریڈٹ بازی کے چکروں سے دور بڑی خاموشی سے مختلف محاذوں پر بیک وقت ہوش اور جوش سے کام کرتے جنرل قمر باجوہ کی ملک سے محبت کا اندازہ لگائیے کہ جب امیرِ قطر انہیں کہتے ہیں کہ ’’برادر بتایئے میں آپ کیلئے کیا کر سکتا ہوں ‘‘ تو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ امیرِ قطر سے کہہ دیتے ہیں کہ ’’جتنا زیادہ ہو سکے میرے ملک کے بے روزگاروں کو قطر میں روزگار دیں ‘‘ اور جو گارڈ آف آنر کے بعد سڑک کے کنارے چلتے ہوئے برطانوی فوج کے چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دیں کہ ’’وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے حالات بھی ایسے ہو ں گے کہ میں بھی آپکو اسی طرح وہاں سیکورٹی کے بنا آزادانہ گُھما پھرا سکوں گا‘‘۔ صاحبو! میں تو جب بھی گھکھڑ منڈی سے کعبہ شریف میں توبہ کے دروازے تک حیرت انگیز کامیابیوں بھرا یہ سفر دیکھتا ہوں تو اللہ کے فضل کے بعد مجھے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہی کہ اگر نیت صاف، دل ودماغ ’’مَیں‘‘ سے پاک اور ذاتی ایجنڈا نہ ہوتو پھر ناممکن بھی ممکن ہو جائے۔

ارشاد بھٹی

راحیل شریف امت کے اتحاد کا سبب بنیں گے

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کا
کہنا ہے کہ ‘ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کےقریب لائیں گے‘۔ انھوں نے یہ بات پاکستان کی بحری سکیورٹی سے متعلق چیلنجز پر اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے 39 مسلم ممالک پر مشتمل سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘اتحاد مخالف ممالک’ کو اطمینان ہونا چاہیے کہ ‘اس اتحاد کی کمان جنرل راحیل شریف جیسے فوجی کے ہاتھ میں ہو گی۔’

ان کے خیال میں اگر جنرل راحیل یہ عہدہ قبول کرلیتے ہیں تو وہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات ختم کرنے اور دونوں ملکوں کو قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔ جنرل جنجوعہ کے بقول راحیل شریف ‘امت مسلمہ کے اتحاد کا سبب بنیں گے۔’ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو دہشت گردی کے خلاف 39 مسلم ممالک کے اتحاد کا سربراہ بننے سے متعلق اجازت نامے کے اجرا کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف کر چکے ہیں۔ دسمبر 2015 میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 30 سے زیادہ اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک تھے تاہم بعد ازاں ان کی تعداد 39 ہو گئی۔

لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کے مطابق اس اتحاد کی سربراہی کے معاملے پر ‘ذاتی حملوں سے گریز کرتے ہوئے دور رس نتائج پر نظر رکھنا ہوگی’۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف ‘اپنے تجربے اور فکر سے مسلم ممالک کی باہمی غلط فہمیوں کو دور کریں گے’۔ مشیر قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے انڈیا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا نے دو فرنٹ کھول رکھے ہیں جو ‘گھاٹے کا سودہ’ ہے کیونکہ یہ دونوں محاذ ‘ایٹمی طاقتوں’ یعنی چین اور پاکستان کے خلاف ہیں۔ مشیر قومی سلامتی کے مطابق پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب ‘ کاؤنٹر ٹیررازم ‘ تھا، جبکہ آپریشن رد الفساد ‘انتہا پسندانہ سوچ’ کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر کام جاری ہے جو کہ مذہبی انتہا پسندانہ بیانیے سے متعلق ہے۔ اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ‘مدارس کے حوالے سے جلد ایک اچھی خبر’ سنائیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مدرسہ اصلاحات پر کس حد تک کام کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘نفرت انگیز مواد کا خاتمہ بھی قومی ایکشن پلان کا حصہ ہے’، مگر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انٹرنیٹ پر موجود توہین آمیز مواد کے خاتمے کے لیے وزارت داخلہ کام کر رہی ہے جسے ان کی ‘مکمل حمایت’ حاصل ہے۔

فرحت جاوید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاک آرمی کے ساتھ ایک دن

pakistan-army

میجر حارث کی پیش کش کو ٹھکرایا نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 7 فروری کو ہم آپ کو آرمی کے جوانوں سے ملوانا چاہتے ہیں اور دکھائیں گے کہ وہ کس طرح دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہر دم کوشاں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کو گنڈا سنگھ بارڈر پر بھی لے جایا جائے گا، جہاں واہگہ بارڈر کی طرز پر ہر روز پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مَیں مقررہ مقام پر پہنچا تو وہاں بہت سے اجنبی چہرے دکھائی دیئے جو سویلین لباس میں تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی تو پتا چلا کہ یہ تمام احباب سول سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں بینکار، صنعت کار، تاجر اور وکلاء شامل تھے۔ ادیبانہ اور شاعرانہ چہرہ ایک بھی نہیں تھا۔ اتنے میں ایک صاحب بہت تیزی سے میری طرف آئے اور بولے: ’’شکر ہے کہ یہاں آپ موجود ہیں۔ اب مَیں سارا دن آپ کے ساتھ ہی رہوں گا‘‘۔ یہ اردو اور پنجابی زبان کے شاعر انیس احمد تھے۔ ان کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا۔ مجھے اپنا ایک شعر یاد آ گیا:

ناصر بشیر خود کو اکیلا ہی پاؤ گے

لوگوں میں ڈھونڈتے رہے گر اپنے جیسی بات5404febaceb3f

اسی اثناء میں مجھے ایک نہایت خوب صورت نوجوان، صاف ستھری فوجی وردی میں دکھائی دیا۔ یہی میجر حارث تھے جن کی دعوت پر مَیں یہاں پہنچا تھا۔ یادگارِ شہدا کے چبوترے پر نہایت چاق چوبند سپاہی بھاری رائفلیں تھامے کھڑے تھے۔ چند لمحوں کے بعد لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز آ گئے۔ وہ سویلین میں بالکل اسی طرح گھل مل گئے جس طرح ہمارے سیاسی زعمائے کرام فیصل مسجد یا بادشاہی مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد گھل مل جاتے ہیں۔ ابھی ہم ان کی رعب دار شخصیت کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس ایک اور صاحب آ گئے۔ میجر حارث اور لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز نے انہیں پروٹوکول دیا تو مَیں سمجھ گیا کہ یہ یقیناًان کے سینئر ہیں۔ یہ بریگیڈیئر عمران نقوی تھے۔ فوج کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ اس میں جونیئرز اپنے سینئرز کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں اور ان کے اشارے کو بھی حکم سمجھتے ہیں اور جہاں سینئر افسر موجود ہو، وہاں جونیئر اس سے کچھ فاصلے پر رہتے ہیں۔

مَیں چونکہ شاعر ہوں، اس لئے شاعروں کی مثال دوں گا کہ اب ادبی دنیا میں سینئر جونیئر کا فرق مٹ گیا ہے۔ نئے شاعر اپنے سینئرز کی نشستوں پر زبردستی قبضہ کر لیتے ہیں۔ نوجوان شاعر تقریب میں وقت پر آ جائیں تو اگلی نشستوں پر براجمان ہو جاتے ہیں جو سینئر ادیبوں شاعروں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔ صرف ادبی دنیا کا ہی نہیں، ہماری سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ کوئی بڑا سیاسی راہنما کہیں موجود ہو تو نووارد سیاست دان سینئر اور تجربہ کار سیاست دانوں کو پرے دھکیل کر خود اپنے رہنما کی بغل میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہاں موجود کیمروں کی آنکھیں انہیں دیکھ لیں تا کہ وہ بھی ٹیلی ویژن سکرین پر کچھ ثانیوں کے لئے ہی سہی، جلوہ گر ہو سکیں۔ میجر حارث نے میجر علی سے بھی ملوایا جو آئی ایس پی آر میں ہوتے ہیں۔ جب انہیں علم ہوا کہ یومِ یک جہتی کشمیر پر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نغمے میں پہلے دو شعر میرے ہیں تو ان کی گرم جوشی مزید بڑھ گئی۔ میرے دو شعر آپ بھی دیکھ لیجئے:

کشمیر! ترا حسن ہوا درد کی تصویر

آنسو ہیں تری آنکھ میں، پیروں میں ہے زنجیر

وہ کہتے ہیں آزادی کو اک خواب ہی سمجھو

ہم کہتے ہیں ہر خواب کی اک ہوتی ہے تعبیر

سانحۂ پشاور پر بھی آئی ایس پی آر نے دو نہایت شان دار نغمے جاری کئے تھے  لیکن یوم یکِ جہتی کشمیر پر ریکارڈ کیا گیا نغمہ ان کے معیار تک نہیں پہنچا۔ میرے دو شعر تحت اللفظ میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور مشہور

 شعر تحت اللفظ میں شامل کیا گیا ہے:

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ ریکارڈ کرنے والوں نے میرے دو شعروں میں بھی ایک غلطی کی اور اس شعر میں بھی غلطی کر دی۔ دوسرا مصرع یوں کر دیا:

جنت کسی کافر کو نہ ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ سنتے ہی مَیں نے آئی ایس پی آر اسلام آباد میں تعینات اپنے دوست یوسف عالمگیرین سے رابطہ کیا اور انہیں ان اغلاط سے آگاہ کیا۔ مَیں نے انہیں یہ کہا کہ نغمہ ریکارڈ کرنے سے پہلے مجھ سے نہ سہی، کسی اور شاعر سے رابطہ کر لیا جاتا تا کہ غلطی کا احتمال نہ رہتا۔ جو گانا گلوکار سے گوایا گیا ہے،اس کی شاعری کسی بحر میں نہیں ہے۔ میری اس بات کو آپ جملہ معترضہ جان لیجئے۔ کالم کا اصل موضوع تو آرمی کے ساتھ گزرے ہوئے دن کی روداد بیان کرنا ہے۔ یادگار شہدا سے تمام دوستوں کو محفوظ شہید گیریثرن لے جایا گیا۔ ٹینکوں کی سواری ، فائرنگ اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں سے نمٹنے کی مشقیں دیکھ کر دل کو یقین ہونے لگا کہ ہمارا ہر آتا ہوا دن بہتر سے بہتر ہوگا۔ وہاں سے کورہیڈ کوارٹر پہنچے ۔ جہاں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صادق علی ( بلال امتیاز) نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان کے قیام کے لئے بہادر پاکستانی افواج کی طرف سے کی جانے والی کامیاب کوششوں کے حوالے سے تفصیل سے معلومات دیں۔

انہوں نے وکلا، تاجروں، صنعت کاروں اور بینکاروں کے انتہائی تلخ سوالوں کے جوابات نہایت خندہ پیشانی سے دیئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یومِ کشمیر پر جاری کئے گئے نغمے میں میرے دو شعر شامل ہیں تو انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور حاضرین سے تالیاں بجوائیں۔ پُر تکلف چائے پینے کے بعد ہمیں قصور لے جایا گیا۔ ہماری بسوں کے آگے پیچھے فوجی گاڑیاں تھیں جو غالباً ہماری سیکیورٹی پر مامور تھیں۔ ظہرانے میں دیگر کھانوں کے ساتھ قصور کی تو ے والی مچھلی بھی وافر مقدار میں رکھی گئی تھی۔ مہمانوں کو جی بھر کے کھانا کھانے دیا گیا، کسی افسر نے کھانے کے آغاز میں جینٹل مین بسم اللہ کہا، نہ ختم کرنے کے لئے جینٹل مین الحمد للہ کہا۔ کرنل اشفاق حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فوجی میس میں اس وقت تک کھانا شروع نہیں کیا جاتا جب تک وہاں موجود سینئر افسر جینٹل مین بسم اللہ نہ کہے اور کھانے کے دوران میں جب وہی افسر جینٹل مین الحمد للہ کہے تو سب کو اپنا ہاتھ روکنا پڑتا ہے۔

کھانے کے بعد گنڈا سنگھ بارڈر پر پہنچے۔ جہاں پرچم اتارنے کی تقریب ہو رہی تھی۔ ہمارے لئے پہلے سے نشستیں مخصوص تھیں۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی لکیر کے عین اُوپر ایک بلی بیٹھی تھی۔ وہ کبھی پاکستانی فوجیوں کی طرف دیکھتی اور کبھی بھارتی فوجیوں کی طرف۔ وہ دراصل ان کے پاؤں کی دھمک سے خوفزدہ تھی۔ مَیں نے محسوس کیا کہ بھارتی فوجی اس بلی کو دیکھ کر بھیگی بلی بنے ہوئے تھے۔ بلی نے بھارت کی طرف جانا چاہا تو بھارتی فوجیوں نے اشاروں سے اسے پاکستان کی طرف دھکیل دیا۔ یہ وہی بھارتی فوج ہے جو ایک معمولی سے کبوتر سے بھی ڈر جاتی ہے۔ میرا یہ دن تھکا دینے والا تھا، لیکن فوجیوں کی مشقت بھری زندگی کی مصروفیات دیکھ کر مَیں مطمئن تھا کہ میرا پاکستان محفوظ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر اگر کوئی دیوار ہے تو وہ پاک آرمی ہے جس نے تمام خطروں کو روکا ہوا ہے۔

ناصر بشیر

نشان حیدر : کسے، کب دینے کا اعلان کیا گیا ؟

nishan-e-haiders

نشان حید ر کا پہلا اعزاز 27 جولائی 1948ء کو پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے پاکستان آرمی کے کیپٹن محمد سرور کو دیا گیا۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے تھا اور یہ اعزاز ان کو شہادت کے تقریباََ 9 سال بعد 16 مارچ 1957ء کو نشان حیدر کے اجراء کے ساتھ ہی دیا گیا۔

نشان حیدر کا دوسرا اعزاز 7 اگست 1958ء کی پاک بھارت جنگ میں دادِ شجاعت دے کرجام شہادت نوش کرنے والے پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ ہی کے میجر طفیل محمد شہید کو دیا گیا۔

راجا عزیز بھٹی شہید، جن کا تعلق بھی پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے تھا اور جو پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے 10 ستمبر 1965ء کو پاک بھارت جنگ میں شہید ہوئے، تیسرے نشان حیدر کے حقدار قرار پائے۔

چوتھا نشان حیدرپاکستان ائیرفورس کے جواں سال جانباز راشد منہاس شہید کر دیا گیا جنہوں نے 20 اگست 1971ء کو دشمن کے ہاتھ لگنے کے بجائے جام شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔

1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران 6 دسمبر 1971ء کو ارض وطن کیلئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنے والے پاکستان آرمی کے فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے میجر شبیر شریف شہید کو نشان حیدر کے پانچویں اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا۔banner-2

1971ء ہی کی پاک بھارت جنگ کے دوران 10 دسمبر 1971ء ک بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرنے وال پاکستان آرمی کے آرمڈ کور کے سوار محمد حسین جنجوعہ شہید ،5 دسمبر 1971ء کو پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس کے رجمنٹ کے میجر محمد اکرم شہید اور 17 دسمبر 1971ء کو دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہونے والی پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ کے لانس نائیک محمد محفوظ شہید کو بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

نواں نشان حیدر آزاد کشمیر رجمنٹ کے نائیک سیف علی جنجوعہ کو 1948 کی پاک بھارت جنگ میں بہادری کے جوہر دکھانے پر 1995ء میں دیا گیا۔ نشان حیدر کا دسواں اور گیارہواں ایوارڈ 5 جولائی1999ء کوکارگل کے تنازعہ میں شہید ہونے والے سندھ رجمنٹ کے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور7 جولائی 1999ء کو شہید ہونے والے ناردرن لائٹ انفنٹری کے حوالدار لالک جان شہید کو دیا گیا۔

 بشکریہ ’’ہونہار‘‘

جے ایف 17 تھنڈر طیارے فضائیہ کے بیڑے میں شامل

چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے 16 جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے فضائی بیڑے میں شامل کر لیے گئے۔ ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق طیاروں کو پاکستان ایئر فورس کے 14 اسکوارڈن میں شامل کرنے کی تقریب کامرہ ایئربیس پر منعقد ہوئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بطور خصوصی مہمان شرکت کی۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل سہیل امان سمیت پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے، تقریب کے آغاز میں پاک فضائیہ کے عملے نے وزیر دفاع کو سلامی پیش کی۔ نئی خصوصیات اور جدید آلات سے آراستہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان اور چین کے اشراک سے تیار کیے گئے ہیں۔

تقریب کے دوران طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کا بھی مظاہرہ کیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے طیارے میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا۔ چین کی مدد سے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن کے حامل ملٹی رول طیارے ہیں جو آواز کی رفتار سے دوگنا زیادہ رفتار سے 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے فضا میں ری فیولنگ، ڈیٹا لنک، توسیعی الیکٹرانک وارفیئر اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاک فضائیہ کے پاس پہلے ہی 70 سے زائد جے ایف 17 تھنڈر طیارے موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ ان طیاروں کی خرید و فروخت کے معاہدے کیے۔ رواں ماہ یکم فروری کو امریکی خبر رساں ادارے یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمار کی حکومت جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول جنگی طیاروں کا ملکی ورژن بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ ہو جاتا ہے، تو میانمار، پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی سرکاری ایرو اسپیس کارپوریشن کے تعاون سے سنگل سیٹ پر مشتمل جے ایف 17 طیارے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔

اس سے قبل جون 2015 میں غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان ایئرفورس کے ترجمان ایئر کموڈور سید محمد علی شاہ کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا تھا کہ پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا ایک آرڈر حاصل کر لیا ہے، تاہم انھوں نے اس آرڈر کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ نومبر 2015 میں چینی اخبار ’چائنا ڈیلی‘ نے اپنی رپورٹ میں سینئر چینی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایوی ایشن انڈسٹری کارپ آف چائنا (ایوک) اور پاکستان ایرو ناٹیکل کامپلکس کا دبئی ایئر شو کے دوران نامعلوم خریدار سے جے ایف 17 فائٹر جہاز کی فروخت کا معاہدہ طے پا گیا۔

دبئی ایئر شو 2013 میں بھی پاکستان کے جے ایف تھنڈر اور سپر مشاق طیارے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے تھے، اس موقع پر دنیا بھر کے ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے تھے۔

پاک بحریہ کی مشقیں : امن -2017

بحیرہ عرب میں جاری پاک بحریہ کی کثیرالقومی مشقوں ’امن-2017‘ کے دوران دشمنوں کے حملوں کو ناکام بنانے کی مشقیں کی گئیں امن مشقوں میں امریکا، برطانیہ، سری لنکا، فرانس اور ملائیشیا سمیت دنیا کے 35 سے زائد ممالک کی بحری افواج شامل ہے۔ پاکستان بحریہ امن مشقوں کا انعقاد پر 2 سال بعد کرتی ہے، جب کہ یہ مسلسل چھٹی اور تاریخ کی سب سے بڑی امن مشقیں ہیں۔ بحریہ کی امن مشقوں کا مقصد دشمن کی جانب سے سمندری حملوں کا مقابلہ کرنا، ملکی سمندری حدود سمیت دیگر سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور امن کو فروغ دینا ہے۔