چینی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم پاک فوج کے دفاعی نظام میں شامل

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں چینی ساختہ لوٹو میڈیم  آلٹی ڈیوڈ ائیرڈیفنس سسٹم شامل کرلیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج میں دور تک کم اور درمیانی بلندی میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے والا نیا ائیرڈیفنس سسٹم شامل کر لیا گیا ہے۔ جس کے لئے راولپنڈی کے آرمی آڈیٹوریم میں تقریب ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ نئے ائیرڈیفنس سسٹم کے حصول کے بعد ہمارا دفاع مضبوط اورطاقت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور یہ سسٹم دور حاضر اور مستقل میں ائیرڈیفنس کے خطرات کا جواب دینے کے لئے فوج کا معاون اور مدد گار ثابت ہو گا۔

آئی ایس پی آرکے مطابق پاک فوج میں شامل کیا گیا ائیرڈیفنس سسٹم چینی ساختہ اور لوئر ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ ہے۔ ائیرسسٹم فضائی اہداف پرنظررکھنے اورانہیں ڈھونڈ کرتباہ کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ہے جب کہ ایل وائی 80 کے ذریعے لو ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ پر اڑنے والے دورتک کے اہداف کو باآسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔

Advertisements

چینی اور ترک فوجی بھی یوم پاکستان پریڈ کا حصہ ہوں گے

23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی پاک فوج کی خصوصی پریڈ میں رواں برس دوست ملک چین کے فوجی دستے اور ترکی کے ملٹری بینڈز بھی شامل ہوں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان دونوں ممالک سے شرکت کرنے والے خصوسی دستے پریڈ کا حصہ ہوں گے اور اس کی رونق میں اضافہ کریں گے۔ خیال رہے کہ 23 مارچ کی خصوصی پریڈ کے حوالے سے افواج پاکستان کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، ہر سال کی طرح اس برس بھی پریڈ کا انعقاد اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہو گا۔

جبکہ چینی فوجی دستے اور ترکی ملٹری بینڈ کی شرکت کے باعث اس برس کی پریڈ خاص اہمیت کی حامل ہو گی۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی ریہرسل جاری ہے، ریہرسل میں فضائیہ کے لڑاکا طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا۔ خیال رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں 23 مارچ 2008 کو منعقد کی گئی پریڈ کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس کا انعقاد روک دیا گیا تھا، جس کا دوبارہ آغاز سات سال بعد 23 مارچ 2015 سے ہوا۔

یہ بھی یاد رہے کہ یوم پاکستان تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری کی یاد دلاتا ہے۔ 75 سال قبل 1940ء کو اس دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی تھی جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے فضائیہ کے بیڑے میں شامل

چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے 16 جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے فضائی بیڑے میں شامل کر لیے گئے۔ ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق طیاروں کو پاکستان ایئر فورس کے 14 اسکوارڈن میں شامل کرنے کی تقریب کامرہ ایئربیس پر منعقد ہوئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بطور خصوصی مہمان شرکت کی۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل سہیل امان سمیت پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے، تقریب کے آغاز میں پاک فضائیہ کے عملے نے وزیر دفاع کو سلامی پیش کی۔ نئی خصوصیات اور جدید آلات سے آراستہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان اور چین کے اشراک سے تیار کیے گئے ہیں۔

تقریب کے دوران طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کا بھی مظاہرہ کیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے طیارے میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا۔ چین کی مدد سے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن کے حامل ملٹی رول طیارے ہیں جو آواز کی رفتار سے دوگنا زیادہ رفتار سے 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے فضا میں ری فیولنگ، ڈیٹا لنک، توسیعی الیکٹرانک وارفیئر اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاک فضائیہ کے پاس پہلے ہی 70 سے زائد جے ایف 17 تھنڈر طیارے موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ ان طیاروں کی خرید و فروخت کے معاہدے کیے۔ رواں ماہ یکم فروری کو امریکی خبر رساں ادارے یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمار کی حکومت جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول جنگی طیاروں کا ملکی ورژن بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ ہو جاتا ہے، تو میانمار، پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی سرکاری ایرو اسپیس کارپوریشن کے تعاون سے سنگل سیٹ پر مشتمل جے ایف 17 طیارے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔

اس سے قبل جون 2015 میں غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان ایئرفورس کے ترجمان ایئر کموڈور سید محمد علی شاہ کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا تھا کہ پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا ایک آرڈر حاصل کر لیا ہے، تاہم انھوں نے اس آرڈر کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ نومبر 2015 میں چینی اخبار ’چائنا ڈیلی‘ نے اپنی رپورٹ میں سینئر چینی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایوی ایشن انڈسٹری کارپ آف چائنا (ایوک) اور پاکستان ایرو ناٹیکل کامپلکس کا دبئی ایئر شو کے دوران نامعلوم خریدار سے جے ایف 17 فائٹر جہاز کی فروخت کا معاہدہ طے پا گیا۔

دبئی ایئر شو 2013 میں بھی پاکستان کے جے ایف تھنڈر اور سپر مشاق طیارے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے تھے، اس موقع پر دنیا بھر کے ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے تھے۔

JF-17 Thunder

The PAC JF-17 Thunder is a lightweight, single-engine, multi-role combat aircraft developed jointly by the Pakistan Aeronautical Complex (PAC) and theChengdu Aircraft Corporation (CAC) of China. The JF-17 can be used for aerial reconnaissance, ground attack and aircraft interception. Its designation “JF-17” by Pakistan is short for “Joint Fighter-17”, while the designation and name “FC-1 Xiaolong” by China means “Fighter China-1 Fierce Dragon”.
The JF-17 can deploy diverse ordnance, including air-to-air and air-to-surface missiles, and a 23 mm GSh-23-2 twin-barrelautocannon. Powered by a RD-93 afterburning turbofan it has a top speed of Mach 1.6. The JF-17 is to become the backbone of the Pakistan Air Force (PAF), complementing the General Dynamics F-16 Fighting Falcon. The PAF inducted its first JF-17 squadron in February 2010 and four years later 49 units were in service (one lost in a crash), and 110 units were on order. 
Background
The JF-17 was primarily developed to meet the PAF’s requirement for an affordable, modern, multi-role combat aircraft as a replacement for its large fleet of Dassault Mirage III/5 fighters, Nanchang A-5 bombers, and Chengdu F-7 interceptors, with a cost of US$500 million, divided equally between China and Pakistan. The aircraft was also intended to have export potential as a cost-effective and competitive alternative to more expensive Western fighters.
By 1989, because of economic sanctions by the US, Pakistan had abandoned Project Sabre II, a design study involving US aircraft manufacturer Grumman and China, and had decided to redesign and upgrade the Chengdu F-7.[6] In the same year, China and Grumman started a new design study to develop the Super 7, another redesigned Chengdu F-7.[7] Grumman left the project when sanctions were placed on China following the political fallout from the 1989 Tiananmen Square protests. After Grumman left the Chengdu Super 7 project, the Fighter China project was launched in 1991.[8] In 1995, Pakistan and China signed a memorandum of understanding (MoU) for joint design and development of a new fighter, and over the next few years worked out the project details.[9] In June 1995, Mikoyan had joined the project to provide “design support”, this also involved the secondment of several engineers by CAC.
Production
On 2 March 2007, the first consignment of two small-batch-production (SBP) aircraft arrived in a dismantled state in Pakistan. They flew for the first time on 10 March 2007 and took part in a public aerial demonstration during a Pakistan Day parade on 23 March 2007. The PAF intended to induct 200 JF-17 by 2015 to replace all its Chengdu F-7, Nanchang A-5, and Dassault Mirage III/5 aircraft. In preparation for the in-flight refuelling of JF-17s, the PAF has upgraded several Mirage IIIs with IFR probes for training purposes. A dual-seat, combat-capable trainer was originally scheduled to begin flight testing in 2006; in 2009 Pakistan reportedly decided to develop the training model into a specialised attack variant.
In November 2007, the PAF and PAC conducted flight evaluations of aircraft fitted with a variant of the NRIET KLJ-10 radar developed by China’s Nanjing Research Institute for Electronic Technology (NRIET), and the LETRI SD-10 active radar homing AAM. In 2005, PAC began manufacturing JF-17 components; production of sub-assemblies commenced on 22 January 2008. The PAF was to receive a further six pre-production aircraft in 2005, for a total of 8 out of an initial production run of 16 aircraft. Initial operating capability was to be achieved by the end of 2008. Final assembly of the JF-17 in Pakistan began on 30 June 2009; PAC expected to complete production of four to six aircraft that year. They planned to produce twelve aircraft in 2010 and fifteen to sixteen aircraft per year from 2011; this could increase to twenty-five aircraft per year.
Russia signed an agreement in August 2007 for reexport of 150 RD-93 engines from China to Pakistan for the JF-17. In 2008, the PAF was reportedly not fully satisfied with the RD-93 engine and that it would only power the first 50 aircraft; it was alleged that arrangements for a new engine, reportedly the Snecma M53-P2, may have been made. Mikhail Pogosyan, head of the MiG and Sukhoi design bureaus, recommended the Russian defence export agency Rosoboronexport block RD-92 engine sales to China to prevent export competition from the JF-17 against the MiG-29. At the 2010 Farnborough Airshow, the JF-17 was displayed internationally for the first time; aerial displays at the show were intended but were cancelled due to a late attendance decision as well as license and insurance costs. According to a Rosoboronexport official at the Airshow China 2010, held on November 16–21, 2005 in Zhuhai, China, Russia and China had signed a contract worth $238 million for 100 RD-93 engines with options for another 400 engines developed for the FC-1.

NESCOM Burraq

The NESCOM Burraq is an unmanned combat aerial vehicle (UCAV) built and developed by the National Engineering and Scientific Commission (NESCOM), a civil scientific research and development organizarion of Pakistan, along with thePakistan Air Force (PAF).
Primarily used by the PAF, its applications have also been used by the Pakistan Army (PA) in its counterinsurgency operations. The Burraq carries different imagery and motion sensors, and it is equipped with a laser guided air-to-surfacemissile named “Barq.”.
The Inter-Services Public Relations (ISPR), the public relations department of the Armed Forces of Pakistan, described the system as a “force multiplier”. The Burraq is also claimed to be “all-weather” capable and have “pinpoint accuracy.”
After its successful demonstration to fire missiles as both stationary and moving targets, Pakistan became the ninth country in the World to successfully domestically develop an unmanned combat aerial vehicle.
Development
Since 2004, the United States (US) has been conducting controversial strikes through its own UCAV systems in Pakistan’s northwest territories, that target suspected militants in the region.[5] For years, Pakistan had been pushing the US for acquiring the MQ-1 Predator, the main UCAV system the US uses in the strikes, but such requests had been denied amid fear of technology proliferation.[6] Development is though to have primarily begun in 2009 with the contract being awarded to NESCOM in close coordination with thePAF.
Growing frustration over the US refusal and politicization of the US UCAV strikes in the country, the Burraq program is thought to have picked up its speed in secrecy.In 2012,China offered to help by selling Pakistan armed drones it had developed, but questions were raised about the capabilities of the drones. The first few models of the Burraq were only capable of surveillance and intelligence gathering, and lacked any offensive combat capability. Some of these early models were used by the Pakistani military to track down militants. The first combat capable version of the Burraq was first publicly demonstrated in March 2015.
The Burraq is thought to be mostly influenced by the US MQ-1 Predator and the Chinese CH-3.
About the Burraq program, the Popular Science reported noted: “with the Burraq, Pakistan can now do drone strikes on their own, without the United States.”
Origin of Name
The name, Burraq, comes from the legendary creature mentioned in al-Isra, (sura) in the Qur’an.[8] According to Islamic theology, Buraq is a steed, described as a creature from the heavens which carried Muhammad from Mecca to Jerusalem, and back during the Isra and Mi’raj (lit. “Night Journey”), which is the title of one of the chapters al-Isra, (sura) in the Qur’an.
Use in the Military Operations
Before the Burraq was eventually publicly unveiled for the first time, the Pakistani military reportedly conducted several strikes using the UCAV, as part of Operation Khyber-1 military operations in the Tirah Valley.