سی ویو کراچی پر پاکستان اور برطانیہ کے پائلٹوں کا شاندار ایئرشو کا مظاہرہ

شہر قائد میں پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کی خوشی میں سی ویو پر رنگا رنگ ائیر شو کا انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کی فضائیہ کے ماہر پائلٹوں نے شاندار کرتب دکھا کر حاضرین کے دل جیت لیے ۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ساحل سمندر پر پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیارے اور برطانیہ کے رائل ایئرفورس کی ریڈ ایروز ایئروبیٹک ٹیم فضائی مظاہرہ پیش کیا۔ کراچی کے ساحل پر پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے سلسلے میں فضائی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔

تقریب میں پاک فضائیہ کے افسران سمیت گورنر سندھ اور صوبائی حکومتی شخصیات بھی شریک ہیں۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں اور برطانیہ کے رائل ایئر فورس کی ریڈ ایروز ایئروبیٹک ٹیم کا فضائی مظاہرہ دیکھنے کے لئے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر ماہر پائلٹوں نے پیشہ وارانہ طریقے سے انتہائی خوبصورت انداز میں فارمیشنز بنا کر فضاء میں رنگ بھی بکھیرے ۔ پائلٹوں کے فضاء میں کرتب دیکھ کر حاضرین خوب لطف اندوز ہوئے ۔

 

Advertisements

چینی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم پاک فوج کے دفاعی نظام میں شامل

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں چینی ساختہ لوٹو میڈیم  آلٹی ڈیوڈ ائیرڈیفنس سسٹم شامل کرلیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج میں دور تک کم اور درمیانی بلندی میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے والا نیا ائیرڈیفنس سسٹم شامل کر لیا گیا ہے۔ جس کے لئے راولپنڈی کے آرمی آڈیٹوریم میں تقریب ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ نئے ائیرڈیفنس سسٹم کے حصول کے بعد ہمارا دفاع مضبوط اورطاقت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور یہ سسٹم دور حاضر اور مستقل میں ائیرڈیفنس کے خطرات کا جواب دینے کے لئے فوج کا معاون اور مدد گار ثابت ہو گا۔

آئی ایس پی آرکے مطابق پاک فوج میں شامل کیا گیا ائیرڈیفنس سسٹم چینی ساختہ اور لوئر ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ ہے۔ ائیرسسٹم فضائی اہداف پرنظررکھنے اورانہیں ڈھونڈ کرتباہ کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ہے جب کہ ایل وائی 80 کے ذریعے لو ٹو میڈیم آلٹی ڈیوڈ پر اڑنے والے دورتک کے اہداف کو باآسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔

پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر، بھارت کےلیے ڈراؤنا خواب کیوں؟

7 مارچ 2017ء کے روز پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ (پی اے سی کامرہ) میں اوور ہال کئے گئے ایک ہزارویں طیارے کی رولنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے کہا کہ پی اے سی کامرہ کا مستقبل ’پانچویں نسل‘ کے لڑاکا طیاروں کا ہے۔

اہم اور معنی خیز بیان

ایک عام شہری اس بیان کو ایک سرکاری تقریب کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کر سکتا ہے لیکن دفاعی حلقوں سے وابستہ افراد اور ماہرین کے نزدیک یہ انتہائی اہم اور معنی خیز بیان ہے۔ کتنا اہم اور معنی خیز؟ اس کا اندازہ اگلے ہی روز ٹائمز آف انڈیا میں نمایاں طور پر شائع ہونے والی ایک خبر سے لگایا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت صرف اسی وقت روس سے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے خریدے گا جب وہ ان کی ’’مکمل ٹیکنالوجی‘‘ بھارت کو منتقل کرے گا۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ، اس خبر میں بھارتی اور روسی حکام کے درمیان جن مذاکرات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ فروری میں ہوئے تھے لیکن یہ خبر پاکستانی ایئر چیف مارشل سہیل امان کے مذکورہ بیان کے فوراً بعد جاری کی گئی۔

بھارت سے قطع نظر، یہ بیان اور بھی کئی اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ مثلاً یہ پاک فضائیہ کے حاضر سروس سربراہ کا بیان ہے، یہ بیان دفاعِ وطن سے متعلق ہونے والی ایک سرکاری تقریب میں دیا گیا، اِس بیان کا تعلق ایک ایسے ادارے (پی اے سی کامرہ) سے ہے جو پاکستان میں فضائی دفاع کے حوالے سے کلیدی اہمیت رکھتا ہے، اور یہ کہ پی اے سی کامرہ ہی وہ ادارہ ہے جہاں پاکستان کے مایہ ناز لڑاکا طیارے ’جے ایف 17 تھنڈر‘ کی پیداوار کے علاوہ اسے خوب سے خوب تر بنانے کے لئے تحقیقی و ترقیاتی کام بھی جاری ہے۔ مختصر یہ کہ مذکورہ اور ایسی ہی دوسری وجوہ کی بناء پر اسے دفاعِ وطن کے نقطہِ نگاہ سے پالیسی بیان ہی قرار دیا جا سکتا ہے نہ کہ فردِ واحد کی ذاتی رائے یا خواہش۔ البتہ پاک فضائیہ کے سربراہ کم و بیش اسی طرح کے خیالات کا اظہار گزشتہ برس یومِ پاکستان (23 مارچ 2016) کے موقعے پر پاکستان ٹیلی ویژن کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کرچکے ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی سے تعلق اور دفاعی معاملات سے خصوصی دلچسپی کی بناء پر ہمیں اس بیان کے جس حصے نے سب سے زیادہ متوجہ کیا، اس کا تعلق مستقبل میں پی اے سی کامرہ میں ’پانچویں نسل‘ کے لڑاکا طیاروں کی ممکنہ تیاری سے ہے۔

24 اکتوبر 2016ء کے روز اسی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ’جے ایف 17 تھنڈر‘ لڑاکا طیارے کے ’بلاک 3‘ کے ڈیزائن کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، جس کے بعد یہ چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں سے بھی زیادہ جدید ہو جائے گا یعنی اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف اے 18 اور ایف 15، روس کے سخوئی 27، اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ اِس تحریر میں جہاں یہ بتایا گیا تھا کہ اُس وقت جے ایف 17 تھنڈر کی ٹیکنالوجی میں پاکستان کا حصہ 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے مستقبل میں مزید بڑھنے کی توقع ہے، وہیں یہ بھی لکھا تھا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی اے سی کامرہ میں جے ایف 17 تھنڈر کے اِس سے بھی زیادہ جدید ورژن ’بلاک 4‘ پر ابتدائی کام کا آغاز ہو چکا ہے جو ممکنہ طور پر پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ ہوگا۔ اپنے حالیہ خطاب میں پاک فضائیہ کے سربراہ نے ’’پی اے سی کامرہ کا مستقبل پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کا ہے‘‘ کہہ کر اس امکان پر یقین کی مہر ثبت کردی ہے۔

پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے

آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم بلاوجہ ہی اس بیان میں ’پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں‘ کا تذکرہ پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں ورنہ اس میں ایسی کوئی خاص بات نہیں۔ تو جناب! چلتے چلتے یہ بھی واضح کئے دیتے ہیں کہ اب تک عالمی دفاعی ماہرین ’’پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں‘‘ کی کسی ایک تعریف پر متفق نہیں ہوئے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ درج ذیل خصوصیات کو پانچویں نسل کے کسی بھی لڑاکا طیارے میں لازماً دیکھنا چاہتے ہیں:

وہ اسٹیلتھ ہو یعنی ریڈار پر نہ دیکھا جا سکتا ہو۔

وہ کثیرالمقاصد ہو یعنی فضائی برتری سے لے کر فضائی دفاع تک، ہر طرح کے مقصد میں مؤثر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہو۔

وہ دورانِ پرواز کم فاصلہ طے کرکے واپس پلٹنے کی صلاحیت (High maneuverability) بھی رکھتا ہو۔

وہ رابطوں اور رہنمائی کے جدید ترین نظاموں (ایڈوانسڈ ایویانکس) سے لیس ہو۔

اس میں ’’نیٹ ورکڈ ڈیٹا فیوژن‘‘ کیا گیا ہو، یعنی مختلف سینسروں اور ایویانکس کے آلات سے حاصل ہونے والا ڈیٹا نہ صرف آپس میں مربوط ہو بلکہ ایک ہی جگہ پر اس کی پروسیسنگ بھی کی جائے۔

گرد و پیش سے آگاہی (سچویشنل اویئرنیس) کا نظام بھی انتہائی جدید اور اس نوعیت کا ہو کہ جس کی مدد سے طیارے کا پائلٹ بڑی آسانی سے وسیع تر علاقے پر نظر رکھ سکے۔ یعنی وہ قریب اور دور پرواز کرنے والے حریف و حلیف طیاروں کے ساتھ ساتھ زمینی خدو خال اور فضائی دفاعی نظاموں وغیرہ پر بھی حقیقی وقت (رئیل ٹائم) میں بہ آسانی نظر رکھ سکے۔

وہ ’’سافٹ ویئر ڈیفائنڈ‘‘ طیارہ ہو یعنی اس کی کارکردگی کا انحصار ہارڈویئر (مائیکروپروسیسر، مائیکرو کنٹرولر) سے زیادہ سافٹ ویئر(کمپیوٹر پروگرامز) پر ہو، یعنی وہ ایسے زبردست سافٹ ویئر سے لیس ہو جو کم تر درجے کے ہارڈویئر پر بھی طیارے کو غیرمعمولی صلاحیتیں دے سکیں۔

اس کے انجن اتنے طاقتور ہوں کہ طیارہ آواز سے دوگنی رفتار پر بہت دیر تک پرواز کر سکے یعنی وہ اپنے ’’آفٹر برنر‘‘ استعمال کئے بغیر ہی آواز سے دوگنی رفتار پر گھنٹوں تک پرواز کرنے کا اہل بھی ہو.

وہ اکیلے ہی پرواز کرنے کے قابل نہ ہو بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے ساتھ درجن بھر ’غیر انسان بردار حملہ آور طیاروں‘ (UCAVs) کے جھرمٹ میں پرواز کرسکے اور اپنی تباہ کن حربی صلاحیتوں کو دوچند کر سکے۔

واضح رہے کہ یہ صرف چیدہ چیدہ نکات ہیں جو ہم نے عام قارئین کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کےلیے بیان کئے ہیں ورنہ ان میں سے ہر پہلو اپنی اپنی جگہ بہت تفصیلی اور جزئیات سے بھرپور ہے۔

حاضر سروس اور مجوزہ طیارے

اس وقت دنیا میں صرف ایک ’’حاضر سروس‘‘طیارہ ایسا ہے جسے بجا طور پر پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ کہا جا سکتا ہے، اور وہ ہے امریکی فضائیہ کا ’’ایف 22 ریپٹر‘‘ (F-22 Raptor)۔ اگرچہ امریکہ ہی کے ’’ایف 35 لائٹننگ ٹو‘‘ (F-35 Lightning II) کو بھی پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ قرار دیا جاتا ہے لیکن اس دعوے سے بیشتر دفاعی ماہرین اتفاق نہیں کرتے۔ امریکہ کے سوا پانچویں نسل کے جتنے بھی لڑاکا طیارے ہیں، وہ سب کے سب یا تو ابھی آزمائشی مرحلے پر ہیں یا پھر ان منصوبوں پر تحقیقی و ترقیاتی (R&D) کام جاری ہے۔

مثلاً اِس وقت بھارت میں پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں سے متعلق دو منصوبے جاری ہیں جن میں سے پہلا ’’ہال اے ایم سی اے‘‘ (HAL AMCA) اور دوسرا ’’پی ایم ایف‘‘ (PMF) کہلاتا ہے۔ اگرچہ ان دونوں منصوبوں میں بھارت اور روس ایک دوسرے کے شریک ہیں لیکن یہ اقرار صرف ’’پی ایم ایف‘‘ کے لئے کیا گیا ہے جو پانچویں نسل کے روسی لڑاکا طیارے ’’ٹی 50‘‘ سے ماخوذ ہے جبکہ یہی وہ طیارہ بھی ہے جس کی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بارے میں ٹائمز آف انڈیا نے رپورٹ شائع کی تھی جس کا تذکرہ اس تحریر کے شروع میں کیا جا چکا ہے۔ امریکہ، روس اور بھارت کے علاوہ پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کے میدان میں چین، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی بھی موجود ہیں لیکن اِس وقت ان میں بھی چین اپنے جے 31 اور جے 20 لڑاکا طیاروں کے ساتھ سرِفہرست ہے جو آزمائشی پروازیں کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ 2020 تک ان کی محدود پیداوار بھی شروع کر دی جائے گی۔

آٹھواں ملک

ان تمام معلومات کے پیشِ نظر پاکستان دنیا کا وہ آٹھواں ملک ہے جو پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر کام شروع کر رہا ہے۔ ماضی کو رہنما بنائیں تو قرینِ قیاس یہی لگتا ہے کہ پاکستان میں پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر تحقیقی و ترقیاتی کاموں کی ابتداء چینی تعاون سے ہو گی اور پاکستانی ماہرین چینی تجربے اور مہارت سے مستفید ہوتے ہوئے اپنے تقاضوں کے مطابق یہ منصوبہ خود آگے بڑھائیں گے۔ یہ بات اس لیے بھی مناسب لگتی ہے کیونکہ جے ایف 17 تھنڈر کے معاملے میں پاکستان کی عین یہی حکمتِ عملی رہی ہے جس کے زبردست نتائج آج ساری دنیا کے سامنے ہیں۔

دفاعی ویب سائٹ ’’قوۃ‘‘ کے تجزیہ نگار بلال خان لکھتے ہیں کہ پی اے سی کامرہ میں جے ایف 17 تھنڈر ’بلاک 3‘ کی پیداوار ممکنہ طور پر 2019ء تک شروع کر دی جائے گی لیکن چونکہ اس ادارے کے پاس پہلے ہی پاک فضائیہ میں شامل سارے طیاروں کی اوورہالنگ، تیاری اور جدت طرازی وغیرہ کی ذمہ داری ہے اس لئے نئی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے لئے اسے مزید توسیع کی ضرورت بھی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ پی اے سی کامرہ ماضی میں بھی جے ایف 17 کے انجن (آر ڈی 93) کا اوورہالنگ پلانٹ حاصل کرنے کے لئے روسی ادارے ’کلیموف‘ سے مذاکرات کرتا رہا ہے۔ یعنی مستقبل میں پی اے سی کامرہ ہی وہ ادارہ بنے گا جہاں جدید لڑاکا طیاروں کے جیٹ انجن بھی اوورہال کئے جائیں گے۔

’لکھنا آسان اور کرنا مشکل‘ کے مصداق، ان مقاصد کا حصول اتنا آسان نہیں کہ جتنی سہولت سے یہاں لکھ دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مختصر، اوسط اور طویل مدت کی پائیدار منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے جس پر عملدرآمد کے نتائج میں جدت طرازی کے ساتھ ساتھ خود انحصاری بھی شامل ہے جو دفاعی نقطہ نگاہ سے خصوصی اور فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ پاک فوج کے دفاعی منصوبہ ساز ان ضروریات کو ہم سے کہیں بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں، اسی لئے ’’کامرہ ایوی ایشن سٹی‘‘ کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے، جِسے پاکستان میں طیارہ سازی کی یونیورسٹی بھی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں اپریل 2017 سے پوسٹ گریجویٹ (ماسٹرز اور پی ایچ ڈی) پروگراموں کا آغاز کر دیا جائے گا۔

ایوی ایشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اعلیٰ تربیت یافتہ افرادی قوت جہاں جاری منصوبوں کو معیاری اور مقداری اعتبار سے خوب تر بنائے گی وہیں تحقیقی و ترقیاتی (R&D) سرگرمیوں کے متقاضی نئے منصوبوں کو بھی مضبوط بنیادیں میسر آئیں گی۔ ویسے تو پی اے سی کامرہ میں لائسنس پر مختلف غیرملکی ریڈار تیار کئے جا رہے ہیں لیکن قوی امکان ہے کہ آنے والے برسوں میں یہاں فضائی دفاعی ریڈاروں کے علاوہ جدید ’’اے ای ایس اے ریڈارز‘‘ (AESA Radars) کی تیاری بھی لائسنس، ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی بنیادوں پر شروع کر دی جائے گی۔

غرض کہ انجن، ایئرفریم، ایویانکس اور ایسے ہی دوسرے اجزاء کو مربوط انداز میں یکجا کرتے ہوئے پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر کام شروع کیا جائے گا۔

تاہم، بلال خان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اِس ضمن میں پی اے سی کامرہ کسی نئے اور ’خالص مقامی‘ منصوبے پر کام شروع کرے گا یا پھر چین کے کسی جاری منصوبے (جیسے کہ ایف سی 31) میں شراکت داری کرے گا۔

صورت اور نوعیت کچھ بھی ہو، لیکن اتنا ضرور طے ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر سے حاصل ہونے والی کامیابی کو دیکھتے ہوئے پاک فضائیہ نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے فیصلہ کر لیا ہے کہ مقامی طور پر پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر بھی کام شروع کر دیا جائے، اور عسکری نوعیت کے منصوبوں سے متعلق اہم عوامی اعلانات صرف اسی وقت کئے جاتے ہیں جب دفاعی ادارے اپنی تیاری مکمل کر چکے ہوں۔ اس تناظر میں ایئر چیف مارشل جناب سہیل امان کا یہ بیان کہ کامرہ کا مستقبل پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کا ہے، اس خیال کو تقویت پہنچاتا ہے کہ صرف منصوبہ بندی ہی نہیں بلکہ عمل درآمد کی حد تک بھی بہت کچھ ہو چکا ہے جس کے بارے میں عامۃ الناس کو صحیح وقت آنے پر ہی بتایا جائے گا۔

جے ایف 17 تھنڈر بلاک 4؟

آخر میں رہ جاتا ہے یہ نکتہ کہ کیا پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں بننے والا پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ جے ایف 17 تھنڈر ’بلاک 4‘ ہوگا یا نہیں؟ تو اِس سوال کا معقول جواب یہ ہے کہ پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے اپنی ساخت، کردار اور صلاحیتوں کے اعتبار سے چوتھی نسل والے لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں بہت مختلف اور ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ لہذا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ پی اے سی کامرہ میں پانچویں نسل کے جس لڑاکا طیارے پر کام ’ہو رہا ہے‘ اسے جے ایف 17 تھنڈر منصوبے کا منطقی تسلسل ضرور قرار دیا جا سکتا ہے لیکن بہرکیف وہ جے ایف 17 تھنڈر ’بلاک 4‘ ہر گز نہیں ہو گا۔ البتہ، اپنے نام اور عنوان سے قطع نظر، وہ منصوبہ دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستانی انجینئروں اور سائنسدانوں کی فنی مہارت کا ایک اور منہ بولتا ثبوت ہوگا.

انشاء اللہ۔

علیم احمد

سی کنگ ہیلی کاپٹر پاکستان کیلئے کیسے مددگار ہے ؟

لندن میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران پاکستان نیوی کو 7 ویسٹ لینڈ سی کنگ ہیلی کاپٹر موصول ہو چکے ہیں جو ریکٹر اسپیس نامی کمپنی کے پاس مینٹی نینس کے عمل سے گزر کر پاکستان کو روانہ کردیئے جائیں گے۔ سی کنگ ہیلی کاپٹر ایک ملٹی رول ہیلی کاپٹر ہے، جو مختلف فرائض سر انجام دے سکتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر گذشتہ کئی دہائیوں سے تلاش اور ریسکیو، جنگ اور ٹرانسپورٹ کے لیے بھی استعمال کیا جا تا رہا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر برطانوی ساختہ ہے جو امریکی ہیلی کاپٹر کیکورسکائی ایس-61 جیسا ہی ہے۔ سی کنگ برٹش رائل نیوی، رائل ایئر فورس، جرمن نیوی اور انڈین نیوی کے لیے اپنی خدمات سر انجام دے چکا ہے تاہم گذشتہ برس برطانیہ نے اپنے سی کنگ کے بیڑے کو ریٹائر کر دیا تھا۔

208 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے والا درمیانے لفٹ کی نقل و حمل اور افادیت کا یہ ہیلی کاپٹر رات میں بھی دیکھنے کی صلاحیت والے آلات سے لیس ہے جو اسے ایک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر سے زیادہ کار آمد بناتا ہے۔ پاک بحریہ پہلے ہی کثیر الاطراف مقاصد کے لیے ’سی کنگ‘ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتی رہی ہے اور اس نے جنگی اور سرکاری محاذوں پر پاکستان کی خدمت کی ہے۔

’سی کنگ‘ کا پاک بحریہ میں استعمال

پاک بحریہ، سی کنگ کو جاسوسی، فوجی دستوں کی نقل و حمل، آبدوزوں اور جنگی جہازوں سے مدبھیڑ میں استعمال کرتی ہے، اس ہیلی کاپٹر کو آبدوزوں کو نشانہ بنانے والے میزائل کے ساتھ ساتھ خطرناک اور سمندری گہرائی میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ امن و امان کے دوران یہ ہیلی کاپٹر فوجی اہلکاروں کی تربیت، سیلاب اور زلزلے کے دوران ریسکیو آپریشن کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اکتوبر 2005 میں آنے والے قیامت خیز زلزلے اور 2010 میں سیلاب کی آفت کے بعد ’سی کنگ‘ نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے ترقیاتی کاموں کے دوران پاکستان نیوی ان ہیلی کاپٹروں کو بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کر رہی ہے۔ انتہائی کم اونچائی پر مسلسل اڑنے کی صلاحیت کے پیش نظر پاکستان نیوی ان ہیلی کاپٹروں کو بحری قزاقوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی استعمال کرتی ہے جبکہ ’سی کنگ‘ سمندر میں غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سی کنگ کے نئے ماڈلز میں سطح سمندر پر اترنے اور دوبارہ پرواز کرنے کی صلاحیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہیلی کاپٹر انفرا ریڈ لائٹس سے لیس ہے جنہیں صرف نائٹ وژن آلات کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے، اسی لیے یہ خفیہ اور حیرت انگیز حکمت عملی پر مبنی کارروائیوں کو با آسانی سرانجام دے سکتا ہے۔
سی کنگ کے ماڈل ’ایم کے 4‘ کو بحری حلقوں میں ’جنگلی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی خصوصیات اسے نامساعد حالات میں بھی کارروائی کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ سی کنگ کا اپ گریڈ ورژن ’ایچ سی 4‘ 2 ہزار 7 سو 20 کلو گرام تک کا وزن اپنے ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر میرین اور بحری کمانڈوز کی ٹرینگ کے لیے استعمال ہونے والا ایک اہم ہتھیار ہے۔

پاک فضائیہ نے اپنے تمام فارورڈ ایئربیس آپریشنل کر دیئے

پاک فضائیہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ بھارتی ائیرچیف کی دھمکیوں کے پیش نظر پاک فضائیہ کے تمام فارورڈ آپریٹنگ بیسزمکمل آپریشنل کردیئے گئے ہیں اور مختلف جنگی طیاروں کی تربیتی پروازیں جاری ہیں۔ ایئر چیف مارشل سہیل امان سیاچن محاذ کے قریب اسکردو میں فارورڈ آپریٹنگ بیس پر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے پہنچے، ایئر چیف نے نا صرف فضائی سرحدوں کی حفاظت پر مامور جوانوں کے جذبے کو سراہا بلکہ فارورڈ آپریشنل ایریا میں میراج طیارہ اڑا کر جنگی مشقوں میں حصہ بھی لیا۔

بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایئرچیف سہیل امان نے کہا کہ ہم سارا سال ہر لمحے تیار رہتے ہیں، یہ معمول کی آپریشنل سرگرمی ہے اور ہمیں کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم تیار ہیں، قوم کو دشمن کے بیانات پر رتی بھر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے فضائیہ کے بیڑے میں شامل

چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے 16 جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے فضائی بیڑے میں شامل کر لیے گئے۔ ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق طیاروں کو پاکستان ایئر فورس کے 14 اسکوارڈن میں شامل کرنے کی تقریب کامرہ ایئربیس پر منعقد ہوئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بطور خصوصی مہمان شرکت کی۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل سہیل امان سمیت پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے، تقریب کے آغاز میں پاک فضائیہ کے عملے نے وزیر دفاع کو سلامی پیش کی۔ نئی خصوصیات اور جدید آلات سے آراستہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان اور چین کے اشراک سے تیار کیے گئے ہیں۔

تقریب کے دوران طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کا بھی مظاہرہ کیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے طیارے میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا۔ چین کی مدد سے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن کے حامل ملٹی رول طیارے ہیں جو آواز کی رفتار سے دوگنا زیادہ رفتار سے 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے فضا میں ری فیولنگ، ڈیٹا لنک، توسیعی الیکٹرانک وارفیئر اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاک فضائیہ کے پاس پہلے ہی 70 سے زائد جے ایف 17 تھنڈر طیارے موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ ان طیاروں کی خرید و فروخت کے معاہدے کیے۔ رواں ماہ یکم فروری کو امریکی خبر رساں ادارے یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمار کی حکومت جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول جنگی طیاروں کا ملکی ورژن بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ ہو جاتا ہے، تو میانمار، پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی سرکاری ایرو اسپیس کارپوریشن کے تعاون سے سنگل سیٹ پر مشتمل جے ایف 17 طیارے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔

اس سے قبل جون 2015 میں غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان ایئرفورس کے ترجمان ایئر کموڈور سید محمد علی شاہ کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا تھا کہ پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا ایک آرڈر حاصل کر لیا ہے، تاہم انھوں نے اس آرڈر کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ نومبر 2015 میں چینی اخبار ’چائنا ڈیلی‘ نے اپنی رپورٹ میں سینئر چینی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایوی ایشن انڈسٹری کارپ آف چائنا (ایوک) اور پاکستان ایرو ناٹیکل کامپلکس کا دبئی ایئر شو کے دوران نامعلوم خریدار سے جے ایف 17 فائٹر جہاز کی فروخت کا معاہدہ طے پا گیا۔

دبئی ایئر شو 2013 میں بھی پاکستان کے جے ایف تھنڈر اور سپر مشاق طیارے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے تھے، اس موقع پر دنیا بھر کے ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے تھے۔

آئیڈیاز 2016 : جنگی ساز و سامان کی نمائش

 پاکستان کے شہر کراچی میں اسحلے، جنگی ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی نمائش منعقد کی گئی ہے۔ 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستانی بیلسٹک میزائل ’’شاہین‘‘ صرف 3 منٹ میں دہلی کو تباہ کر سکتا ہے

 شاہین سوم (شاہین III) پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔ اس رینج اور رفتار کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کی صورت میں شاہین تھری بیلسٹک میزائل دہلی کو صرف تین منٹ میں نشانہ بنا سکے گا اور بھارتی فوج کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں شاہین تھری میزائل سے بھارت کے اُن سب سے دور دراز فوجی اڈوں کو بھی صرف 15 منٹ میں تباہ کیا جا سکے گا جو جزائر نکوبار و انڈمان میں واقع ہیں۔

یہ ’’شاہین بیلسٹک میزائل‘‘ سلسلے کا تیسرا میزائل ہے جس کی خاص بات اس میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہے۔ اسے بیک وقت کئی وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جو روایتی بھی ہوسکتی ہیں اور غیر روایتی (نیوکلیائی) بھی؛ جب کہ ان کا مجموعی وزن 1000 کلو گرام تک ہوسکتا ہے۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری ’’نیسکوم‘‘ اور ’’سپارکو‘‘ سے وابستہ پاکستانی انجینئروں اور سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جب کہ پاک فوج نے اس کا پہلا تجربہ 9 مارچ 2015 میں کیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس کے فوراً بعد شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری بھی شروع کردی گئی۔

یہ زمین سے زمین تک (سرفیس ٹو سرفیس) مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جسے متحرک لانچر کے ذریعے ہدف کی سمت داغا جا سکتا ہے۔ اس کا ٹھوس ایندھن والا راکٹ دو سے زائد مرحلوں میں جلتا ہے اور دورانِ پرواز یہ پچاس ہزار (50000) میٹر سے بھی زیادہ کی بلندی پر، خلا کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں میزائل سازی کا پروگرام بھرپور انداز میں جاری ہے جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح سے بگڑ چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس توازن کو بحال کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس بھی ایسے ہتھیار موجود ہوں جو بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں مؤثر جواب دے سکیں۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل بھی پاکستان کی ان ہی کوششوں کا حامل ہے جس کا مقصد دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہوئے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔

بھارتی سرحد کے قریب پاکستانی فوج کی ”رعد البرق” جنگی مشقیں

پنجاب کے علاقے خیرپور ٹامیوالی میں رعد البرق نامی فوجی مشقیں ہوئیں جس کی اختتامی تقریب میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی۔

 

 

 

 

پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر نے ٹیکنالوجی میں امریکی ایف 16 کو مات دے دی

پاکستان کے مایہ ناز لڑاکا طیارے ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ کے جدید ترین ورژن ’’بلاک 3‘‘ کے ڈیزائن کو حتمی شکل دی جاچکی ہے جس کے بعد یہ چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں سے بھی زیادہ جدید ہوجائے گا اور اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف/اے 18 اور ایف 15؛ روس کے سکھوئی 27؛ اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کا انجن زیادہ طاقتور ہوگا جس کی بدولت یہ آواز کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ رفتار (Mach 2.0+) سے پرواز کرسکے گا۔ اس میں خاص قسم کے کم وزن لیکن مضبوط مادّے استعمال کئے جائیں گے جو ایک طرف اس کا مجموعی وزن زیادہ بڑھنے نہیں دیں گے جبکہ دوسری جانب اسے دشمن ریڈار کی نظروں سے بچنے میں مدد بھی دیں گے۔

جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ ایسے جدید ترین ریڈار (اے ای ایس اے ریڈار) سے بھی لیس ہوگا جسے جام کرنا دشمن کے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کےلئے انتہائی مشکل ہوگا۔ پائلٹ کا ہیلمٹ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا جو طیارے کے اطراف سے بہتر واقفیت کے علاوہ ہتھیاروں پر بہترین کنٹرول کی صلاحیت بھی دے گا۔ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ میں طویل فاصلے پر موجود زمینی اہداف کا بہتر نشانہ لینے کےلئے خصوصی آلہ (ٹارگٹنگ پوڈ) بھی اضافی طور پر نصب ہوگا؛ جبکہ اسے زمینی یا فضائی اہداف کو اُن سے خارج ہونے والی گرمی کی بنیاد پر شناخت کرنے اور نشانہ باندھنے والے نظام (آئی آر ایس ٹی) سے بھی ممکنہ طور لیس کیا جائے گا۔

اپنے ’’بلاک 2‘‘ ورژن کی طرح جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں بھی دورانِ پرواز ایندھن بھروانے کی سہولت ہوگی جس کے باعث یہ 2,500 کلومیٹر دور تک کسی ہدف کو نشانہ بناسکے گا۔ یہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین تک مار کرنے والے دوسرے میزائلوں کے علاوہ نظر کی حد سے دُور تک مار کرنے والے (بی وی آر) میزائل سے بھی لیس ہوگا۔ پاکستان کی برّی افواج کےلئے بنائے گئے ’’بابر کروز میزائل‘‘ میں ترامیم کے بعد اسے ’’رعد کروز میزائل‘‘ کی شکل دے دی گئی ہے جو روایتی یا غیر روایتی اسلحے سے لیس کرکے جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں نصب کیا جائے گا؛ اور جس کے باعث سینکڑوں کلومیٹر دُور زمینی اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکے گا۔

امکان ہے کہ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کے کاکپٹ میں 2 افراد کی گنجائش ہوگی۔ اندازہ یہ بھی ہے کہ اب تک اس پر کام کا آغاز کیا جاچکا ہے کیونکہ متوقع طور پر ان لڑاکا طیاروں کو پاک فضائیہ کے سپرد کرنے کا سلسلہ 2019 سے شروع ہوجائے گا۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ بہت کم خرچ لڑاکا طیارہ بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ (وکی پیڈیا کے مطابق) جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 1‘‘ کی فی طیارہ لاگت 25 ملین ڈالر (ڈھائی کروڑ ڈالر) تھی؛ ’’بلاک 2‘‘ پر 28 ملین ڈالر (2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) فی طیارہ لاگت آئی؛ جبکہ ’’بلاک 3‘‘ کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس کے ہر پیداواری یونٹ کی ممکنہ لاگت 32 ملین ڈالر (3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) ہوگی۔

اگر اس لاگت کا موازنہ پرانے قسم کے ایف 16 طیاروں (بلاک 52) سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی اصل قیمت 20 ملین (2 کروڑ) ڈالر فی طیارہ کے لگ بھگ ہے لیکن یہ پاکستان کو 34 ملین (3 کروڑ 40 لاکھ) ڈالر فی طیارہ کے حساب سے فروخت کئے گئے۔ کچھ ماہ پہلے امریکہ سے اسی پرانی قسم کے مزید ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ بھی اسی لئے کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ اب کی بار امریکہ نے پاکستان سے ان کی فی طیارہ قیمت 87 ملین (8 کروڑ 70 لاکھ) ڈالر سے بھی کچھ زیادہ طلب کرلی تھی، جو ایف 16 کی پچھلی قیمت سے بھی ڈھائی گنا زیادہ تھی۔

گزشتہ ماہ بھارت نے فرانس سے 36 عدد ’’رافیل‘‘ لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا؛ جس کے تحت رافیل کی فی طیارہ قیمت تقریباً 242 ملین (24 کروڑ 20 لاکھ) ڈالر طے کی گئی ہے جبکہ اس معاہدے کی مجموعی لاگت 8 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ ان تمام اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ اپنی خصوصیات اور صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کے جدید لڑاکا طیاروں کے ہم پلّہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کےلئے کم خرچ بھی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ جے ایف 17 ’’تھنڈر‘‘ کی بدولت پاکستان نے مقامی طور پر عسکری طیارہ سازی میں خود کفالت کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا ہے۔

اس وقت بھی جبکہ یہ سطور قلم بند کی جارہی ہیں، جے ایف 17 تھنڈر کے منصوبے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے؛ اور مستقبل میں یہ اور بھی زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ پاکستانی انجینئروں کا مثالی اور انتہائی قابلِ فخر کارنامہ ہے جس کےلئے پاک فضائیہ کے دفاعی منصوبہ ساز اور پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) کے انجینئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی اے سی میں جے ایف 17 تھنڈر کے اس سے بھی زیادہ جدید ورژن ’’بلاک 4‘‘ پر ابتدائی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں تفصیلات دستیاب نہیں لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ اپنے ’’بلاک 4‘‘ کے ساتھ جے ایف 17 بھی پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں شامل ہوجائے گا۔

علیم احمد