جے ایف 17 تھنڈر طیارے فضائیہ کے بیڑے میں شامل

چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے 16 جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے فضائی بیڑے میں شامل کر لیے گئے۔ ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق طیاروں کو پاکستان ایئر فورس کے 14 اسکوارڈن میں شامل کرنے کی تقریب کامرہ ایئربیس پر منعقد ہوئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بطور خصوصی مہمان شرکت کی۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل سہیل امان سمیت پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے، تقریب کے آغاز میں پاک فضائیہ کے عملے نے وزیر دفاع کو سلامی پیش کی۔ نئی خصوصیات اور جدید آلات سے آراستہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان اور چین کے اشراک سے تیار کیے گئے ہیں۔

تقریب کے دوران طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کا بھی مظاہرہ کیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے طیارے میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا۔ چین کی مدد سے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن کے حامل ملٹی رول طیارے ہیں جو آواز کی رفتار سے دوگنا زیادہ رفتار سے 55000 فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے فضا میں ری فیولنگ، ڈیٹا لنک، توسیعی الیکٹرانک وارفیئر اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاک فضائیہ کے پاس پہلے ہی 70 سے زائد جے ایف 17 تھنڈر طیارے موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ ان طیاروں کی خرید و فروخت کے معاہدے کیے۔ رواں ماہ یکم فروری کو امریکی خبر رساں ادارے یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمار کی حکومت جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول جنگی طیاروں کا ملکی ورژن بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ ہو جاتا ہے، تو میانمار، پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی سرکاری ایرو اسپیس کارپوریشن کے تعاون سے سنگل سیٹ پر مشتمل جے ایف 17 طیارے بنانے کے قابل ہو جائے گا۔

اس سے قبل جون 2015 میں غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان ایئرفورس کے ترجمان ایئر کموڈور سید محمد علی شاہ کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا تھا کہ پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا ایک آرڈر حاصل کر لیا ہے، تاہم انھوں نے اس آرڈر کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ نومبر 2015 میں چینی اخبار ’چائنا ڈیلی‘ نے اپنی رپورٹ میں سینئر چینی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایوی ایشن انڈسٹری کارپ آف چائنا (ایوک) اور پاکستان ایرو ناٹیکل کامپلکس کا دبئی ایئر شو کے دوران نامعلوم خریدار سے جے ایف 17 فائٹر جہاز کی فروخت کا معاہدہ طے پا گیا۔

دبئی ایئر شو 2013 میں بھی پاکستان کے جے ایف تھنڈر اور سپر مشاق طیارے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے تھے، اس موقع پر دنیا بھر کے ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے ہوئے تھے۔

آئیڈیاز 2016 : جنگی ساز و سامان کی نمائش

 پاکستان کے شہر کراچی میں اسحلے، جنگی ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی نمائش منعقد کی گئی ہے۔ 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستانی بیلسٹک میزائل ’’شاہین‘‘ صرف 3 منٹ میں دہلی کو تباہ کر سکتا ہے

 شاہین سوم (شاہین III) پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔ اس رینج اور رفتار کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کی صورت میں شاہین تھری بیلسٹک میزائل دہلی کو صرف تین منٹ میں نشانہ بنا سکے گا اور بھارتی فوج کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں شاہین تھری میزائل سے بھارت کے اُن سب سے دور دراز فوجی اڈوں کو بھی صرف 15 منٹ میں تباہ کیا جا سکے گا جو جزائر نکوبار و انڈمان میں واقع ہیں۔

یہ ’’شاہین بیلسٹک میزائل‘‘ سلسلے کا تیسرا میزائل ہے جس کی خاص بات اس میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہے۔ اسے بیک وقت کئی وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جو روایتی بھی ہوسکتی ہیں اور غیر روایتی (نیوکلیائی) بھی؛ جب کہ ان کا مجموعی وزن 1000 کلو گرام تک ہوسکتا ہے۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری ’’نیسکوم‘‘ اور ’’سپارکو‘‘ سے وابستہ پاکستانی انجینئروں اور سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جب کہ پاک فوج نے اس کا پہلا تجربہ 9 مارچ 2015 میں کیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس کے فوراً بعد شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری بھی شروع کردی گئی۔

یہ زمین سے زمین تک (سرفیس ٹو سرفیس) مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جسے متحرک لانچر کے ذریعے ہدف کی سمت داغا جا سکتا ہے۔ اس کا ٹھوس ایندھن والا راکٹ دو سے زائد مرحلوں میں جلتا ہے اور دورانِ پرواز یہ پچاس ہزار (50000) میٹر سے بھی زیادہ کی بلندی پر، خلا کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں میزائل سازی کا پروگرام بھرپور انداز میں جاری ہے جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح سے بگڑ چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس توازن کو بحال کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس بھی ایسے ہتھیار موجود ہوں جو بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں مؤثر جواب دے سکیں۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل بھی پاکستان کی ان ہی کوششوں کا حامل ہے جس کا مقصد دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہوئے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔

بھارتی سرحد کے قریب پاکستانی فوج کی ”رعد البرق” جنگی مشقیں

پنجاب کے علاقے خیرپور ٹامیوالی میں رعد البرق نامی فوجی مشقیں ہوئیں جس کی اختتامی تقریب میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی۔

 

 

 

 

پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر نے ٹیکنالوجی میں امریکی ایف 16 کو مات دے دی

پاکستان کے مایہ ناز لڑاکا طیارے ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ کے جدید ترین ورژن ’’بلاک 3‘‘ کے ڈیزائن کو حتمی شکل دی جاچکی ہے جس کے بعد یہ چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں سے بھی زیادہ جدید ہوجائے گا اور اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف/اے 18 اور ایف 15؛ روس کے سکھوئی 27؛ اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کا انجن زیادہ طاقتور ہوگا جس کی بدولت یہ آواز کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ رفتار (Mach 2.0+) سے پرواز کرسکے گا۔ اس میں خاص قسم کے کم وزن لیکن مضبوط مادّے استعمال کئے جائیں گے جو ایک طرف اس کا مجموعی وزن زیادہ بڑھنے نہیں دیں گے جبکہ دوسری جانب اسے دشمن ریڈار کی نظروں سے بچنے میں مدد بھی دیں گے۔

جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ ایسے جدید ترین ریڈار (اے ای ایس اے ریڈار) سے بھی لیس ہوگا جسے جام کرنا دشمن کے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کےلئے انتہائی مشکل ہوگا۔ پائلٹ کا ہیلمٹ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا جو طیارے کے اطراف سے بہتر واقفیت کے علاوہ ہتھیاروں پر بہترین کنٹرول کی صلاحیت بھی دے گا۔ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ میں طویل فاصلے پر موجود زمینی اہداف کا بہتر نشانہ لینے کےلئے خصوصی آلہ (ٹارگٹنگ پوڈ) بھی اضافی طور پر نصب ہوگا؛ جبکہ اسے زمینی یا فضائی اہداف کو اُن سے خارج ہونے والی گرمی کی بنیاد پر شناخت کرنے اور نشانہ باندھنے والے نظام (آئی آر ایس ٹی) سے بھی ممکنہ طور لیس کیا جائے گا۔

اپنے ’’بلاک 2‘‘ ورژن کی طرح جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں بھی دورانِ پرواز ایندھن بھروانے کی سہولت ہوگی جس کے باعث یہ 2,500 کلومیٹر دور تک کسی ہدف کو نشانہ بناسکے گا۔ یہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین تک مار کرنے والے دوسرے میزائلوں کے علاوہ نظر کی حد سے دُور تک مار کرنے والے (بی وی آر) میزائل سے بھی لیس ہوگا۔ پاکستان کی برّی افواج کےلئے بنائے گئے ’’بابر کروز میزائل‘‘ میں ترامیم کے بعد اسے ’’رعد کروز میزائل‘‘ کی شکل دے دی گئی ہے جو روایتی یا غیر روایتی اسلحے سے لیس کرکے جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں نصب کیا جائے گا؛ اور جس کے باعث سینکڑوں کلومیٹر دُور زمینی اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکے گا۔

امکان ہے کہ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کے کاکپٹ میں 2 افراد کی گنجائش ہوگی۔ اندازہ یہ بھی ہے کہ اب تک اس پر کام کا آغاز کیا جاچکا ہے کیونکہ متوقع طور پر ان لڑاکا طیاروں کو پاک فضائیہ کے سپرد کرنے کا سلسلہ 2019 سے شروع ہوجائے گا۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ بہت کم خرچ لڑاکا طیارہ بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ (وکی پیڈیا کے مطابق) جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 1‘‘ کی فی طیارہ لاگت 25 ملین ڈالر (ڈھائی کروڑ ڈالر) تھی؛ ’’بلاک 2‘‘ پر 28 ملین ڈالر (2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) فی طیارہ لاگت آئی؛ جبکہ ’’بلاک 3‘‘ کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس کے ہر پیداواری یونٹ کی ممکنہ لاگت 32 ملین ڈالر (3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) ہوگی۔

اگر اس لاگت کا موازنہ پرانے قسم کے ایف 16 طیاروں (بلاک 52) سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی اصل قیمت 20 ملین (2 کروڑ) ڈالر فی طیارہ کے لگ بھگ ہے لیکن یہ پاکستان کو 34 ملین (3 کروڑ 40 لاکھ) ڈالر فی طیارہ کے حساب سے فروخت کئے گئے۔ کچھ ماہ پہلے امریکہ سے اسی پرانی قسم کے مزید ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ بھی اسی لئے کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ اب کی بار امریکہ نے پاکستان سے ان کی فی طیارہ قیمت 87 ملین (8 کروڑ 70 لاکھ) ڈالر سے بھی کچھ زیادہ طلب کرلی تھی، جو ایف 16 کی پچھلی قیمت سے بھی ڈھائی گنا زیادہ تھی۔

گزشتہ ماہ بھارت نے فرانس سے 36 عدد ’’رافیل‘‘ لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا؛ جس کے تحت رافیل کی فی طیارہ قیمت تقریباً 242 ملین (24 کروڑ 20 لاکھ) ڈالر طے کی گئی ہے جبکہ اس معاہدے کی مجموعی لاگت 8 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ ان تمام اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ اپنی خصوصیات اور صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کے جدید لڑاکا طیاروں کے ہم پلّہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کےلئے کم خرچ بھی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ جے ایف 17 ’’تھنڈر‘‘ کی بدولت پاکستان نے مقامی طور پر عسکری طیارہ سازی میں خود کفالت کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا ہے۔

اس وقت بھی جبکہ یہ سطور قلم بند کی جارہی ہیں، جے ایف 17 تھنڈر کے منصوبے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے؛ اور مستقبل میں یہ اور بھی زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ پاکستانی انجینئروں کا مثالی اور انتہائی قابلِ فخر کارنامہ ہے جس کےلئے پاک فضائیہ کے دفاعی منصوبہ ساز اور پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) کے انجینئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی اے سی میں جے ایف 17 تھنڈر کے اس سے بھی زیادہ جدید ورژن ’’بلاک 4‘‘ پر ابتدائی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں تفصیلات دستیاب نہیں لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ اپنے ’’بلاک 4‘‘ کے ساتھ جے ایف 17 بھی پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں شامل ہوجائے گا۔

علیم احمد

Army Chief attends passing-out parade at PAF Academy Risalpur

Chief of Army Staff General Raheel Sharif said any aggression by the country’s enemies would be met with a befitting response as he called on the international community to condemn Indian fabrications against Pakistan. “We have recently witnessed an unfortunate display of utter desperation playing out inside Occupied Kashmir and along Line of Control through a litany of falsehoods and distortion of facts by India. We expect international community to condemn Indian insinuations and fabrications about a nation that has made unparallel contributions in the global fight against terrorism,” General Raheel Sharif said while addressing the passing-out parade of PAF cadets in Risalpur.
Pakistan’s Army chief added Pakistan’s enemies would now attempt to accelerate their efforts to reverse our gains and derail our progress through direct and indirect strategy. “Their nefarious designs will not be allowed to succeed at any cost. Resolute efforts to consolidate our gains is the only way forward for which we will not leave any stone unturned.” The Army Chief asserted that Pakistan Armed Forces are highly vigilant and committed to their collective resolve of defending the motherland and defeating the enemy’s nefarious designs.

 

 

 

 

پاک فضائیہ : کل اور آج…تفصیلی کارکردگی جانیے

وطن عزیز پاکستان کی فضائی حدود کی حفاظت پاکستان ایئر فورس کے ذمے ہے، جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسے بخوبی انجام دے رہی ہے۔ آج پاک فضائیہ کے 65 ہزار اہلکار ہیں، جن میں سے 3 ہزار پائلٹ ہیں جو 1032 ہوائی جہاز اڑانے کے ذمہ دار ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں کی جانوں کے رکھوالے بنے ہوئے ہیں۔ پاک فضائیہ کی تاریخ عظمت و شجاعت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ 1959ء میں عید الفطر کے روز راولپنڈی میں بھارت کا جاسوس طیارہ مار گرانے سے لے کر جنگ ستمبر میں عظیم کارناموں تک، پاک فضائیہ نے خود کو اقبال کا حقیقی شاہین ثابت کیا ہے۔

اپریل 1959ء میں عید الفطر کے روز بھارت کا ایک جاسوس طیارہ کینبرا پاکستان کی سرحدی حدود میں گھس آیا، جس سے نمٹنے کے لیے سرگودھا سے دو ایف-86 سیبر طیارے اڑے، لیکن بھارتی طیارہ 50 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا کہ جہاں تک پہنچنا پاکستانی طیاروں کے بس کی بات ہی نہیں تھی، لیکن شاہینوں نے ایک لمحہ بھی اس طیارے پر سے اپنی نظر نہیں ہٹائی، پھر جیسے ہی بھارتی طیارے نے راولپنڈی کے اوپر سے واپسی کے لیے موڑ کاٹا، اس کی بلندی کم ہوئی اور یہیں پر فلائٹ لیفٹیننٹ محمد یونس اس پر جھپٹ پڑے۔ ساڑھے 47 ہزار فٹ کی بلندی پر کینبرا طیارہ ایف-86 کی گولیوں سے لڑکھڑایا، ڈگمایا اور پھر منہ کے بل زمین پر آ گرا۔ طیارے کے دونوں پائلٹ اس سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن گرفتار ہوئے اور یوں پاک فضائیہ کی تاریخ میں فلائٹ لیفٹیننٹ محمد یونس امر ہوگئے.

لیکن چھ سال بعد پاک فضائیہ کو مجموعی طور پر بہت بڑے امتحان سے گزرنا پڑا اور اس میں جس طرح شاہین پورا اترے، اس نے دنیا بھر میں ان کی عزت اور مرتبے میں اضافہ کیا۔ جب ستمبر 1965ء میں جنگ چھڑی تو پاکستان کے پاس صرف 12 ایف-104 سٹار فائٹرز، 120 ایف-86 سیبرز اور 20 بی-57 کینبرا بمبار طیارے تھے، جن سے شاہینوں خود سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کرنا تھا۔ بھارت اپنی عددی برتری اور فضائی تجربے کے باوجود صرف تین دنوں میں شاہینوں کے ہاتھوں بری طرح شکست کھاگیا۔ پاکستان نے جنگ ستمبر کے دوران بھارت کے 104 طیارے تباہ کیے جبکہ پاک فضائیہ کو صرف 19 طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں پاکستان کے دو لڑاکا پائلٹوں نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ ایک سکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم المعروف ایم ایم عالم تھے، جنہوں نے صرف پانچ منٹ میں دشمن کے 9 طیارے مار گرائے اور ایک ایسا عالمی ریکارڈ بنایا، جو آج تک نہیں ٹوٹ سکا۔ اس دوران انہوں نے ایک منٹ کے اندر پانچ طیارے گرانے کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ اس کارنامے پر ایم ایم عالم کو ستارۂ جرات سے نوازا گیا۔

دوسرے بہادری اور حب الوطنی کی عظیم مثال سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی تھے۔ جنگ شروع ہونے کے پہلے ہی دن 6 ستمبر کی شام وہ ہلواڑا ایئر بیس پر حملہ کرنے والے دستے کا حصہ تھے، جہاں ایک جہاز گرانے کے بعد ان کی مشین گن جام ہوگئی۔ بجائے میدان چھوڑ کے بھاگنے کے انہوں نے اپنے ساتھیوں کو حملہ جاری رکھنے پر آمادہ کیا اور خود پشت سے ان کی حفاظت کرنے لگے۔ اس دوران ایک بھارتی طیارے کی گولیوں کی زد میں آ گئے اور شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ پاک فضائیہ نے 1967ء میں چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں بھی حصہ لیا اور 10 اسرائیلی طیارے تباہ کیے۔ علاوہ ازیں 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی داد شجاعت دکھائی جہاں فلائٹ لیفٹیننٹ ستار علوی نے اسرائیلی ایئرفورس کے ایک میراج طیارے کو تباہ کیا اور یوں شامی حکومت کی طرف سے اعلیٰ اعزاز بھی حاصل کیا۔

ان دونوں عرب اسرائیل جنگوں کے درمیان شاہینوں کے کندھوں پر 1971ء میں وطن عزیز کی حفاظت کی کڑی ذمہ داری ایک مرتبہ پھر پڑی۔ اس جنگ میں جہاں پاکستان کو شکست ہوئی اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بنا، لیکن پاکستانی فضائیہ نے مغربی حصے کی بھرپور حفاظت کی اور بھارت کو 45 جہازوں کا نقصان بھی پہنچایا،پھر 1979ء میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کی مغربی سرحد بھی غیر محفوظ ہوگئی۔ ساتھ ہی کہوٹہ میں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت بھی ایک اہم کام تھا جسے پورا کرنے کے لیے پاکستان نے 1983ء میں امریکا سے جدید ایف-16 طیارے حاصل کیے۔ ان طیاروں نے افغانستان کے ساتھ پاکستانی سرحد حفاظت بھی کی اور 1986ء سے 1988ء کے دوران دو سالوں میں افغانستان سے سرحدی مداخلت کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے آٹھ طیارے تباہ کیے، جن میں سے چار ایس یو-22، دو مگ-23 اور ایک ایس یو-25 اور ایک اے این-26 طیارے تھے۔

آج پاک فضائیہ کے پاس 76 ایف-16 طیارے ہیں جبکہ چین کے تعاون سے بنائے گئے جدید جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی تعداد 90 ہے جو جلد ہی یہ تعداد 250 تک پہنچ جائے گی۔ جے ایف-17 کی شمولیت کے بعد پاکستان چین ہی کے تعاون سے بنائے گئے ایف-7 طیاروں کو ریٹائر کردے گا، جن کی تعداد اس وقت 185 ہے۔ فرانس سے خریدے گئے 80 میراج III اور 85 میراج 5 طیارے اس کے علاوہ ہیں۔ پاک فضائیہ کے پاس تربیتی مقاصد کے لیے 145 مشاق اور 60 کے-8 طیارے بھی موجود ہیں۔ سامان کی نقل و حمل کے لیے 18 سی-130 ہرکولیس، 4 آئی ایل-78 اور ایک اے این-26 بھی اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، جن میں سے آئی ایل-78 طیارہ لڑاکا جہازوں میں دوران پرواز ایندھن بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس وقت پاک فضائیہ کے 11 اڈے یعنی بیسز ہیں، جہاں سے طیارے اڑتے ہیں ان میں سے دو کراچی میں ہیں جنہیں بیس مسرور اور بیس فیصل کہا جاتا ہے جبکہ باقی بیس مصحف، سرگودھا، بیس رفیقی، شورکوٹ، بیس پشاور، بیس سمنگلی، کوئٹہ، بیس میانوالی، بیس منہاس، کامرہ، بیس چکلالہ، راولپنڈی، بیس رسالپور اور بیس شہباز، جیکب آباد شامل ہیں۔ پاکستان اس وقت جدید ترین جے ایف-17 طیارے حاصل کر رہی ہے اور بہت جلد یہ تعداد میں تمام طیاروں کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ اس کے ساتھ پاکستان کی فضائیہ کی لڑنے کی قابلیت کہیں بڑھ جائے گی۔

(بشکریہ اُردو ٹرائب ڈاٹ کام) –

یوم دفاع، شہریوں کا ملک سے محبت کا بھر پور اظہار

51 واں یوم دفاع بھر پور جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ ارض پاک کے تقدس کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ قوم نے اس دن کو بہترین انداز منایا۔ 6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کے طور پر ہر سال اِن شہیدوں اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے جنہوں نے وطنِ عزیز کی سالمیت اور یکجہتی کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔

 

 

 

 

پانچ اور چھہ ستمبر 1965ء کی درمیانی شب قصور میں

ستمبر 1965ء میں پاک بھارت جنگ کے بادل اگرچہ ہمارے آسمان پر چھائے ہوئے تھے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ اس طرح اچانک جنگ سرپر آ جائے گی۔ ہم نے اگرچہ فوج جوائن نہیں کی تھی لیکن دل میں دور دور تک بھی یہ ارمان موجود نہ تھا کہ فوج میں شامل ہوا جائے۔ ہمارے نزدیک فوج کا تصور ایک دھندلا سا تصور تھا،۔۔۔ ایک الگ قبیلہ۔۔۔ ایک علیحدہ برادری۔۔۔ ایک انجانی سی تنظیم۔۔۔ اور ایک ان سوچا سا خیال۔۔۔ جب سات آٹھ برس پہلے ایوب خان کا پہلا مارشل لا لگا تھا تو کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ مارشل لا کیا ہوتا ہے۔ بس اتنا معلوم تھا کہ وردی پوش لوگوں کی خبریں اور تصویریں اخباروں میں چھپا کرتی تھیں۔ کوئی آفیسر اور کوئی جوان 6 فٹ سے کم قد آور نہ تھا اور سخت اور تنومند جسمانی خدوخال سے مزین ایک مجسمہ ہمارے سامنے آتا اور ہم اس سے محبت کرنے سے زیادہ اس سے خوفزدہ رہنے کا رجحان رکھتے تھے۔ ہمارے اکثر رشتہ دار پولیس میں تھے لیکن دیکھا گیا تھا کہ پولیس والے بھی فوجیوں سے خم کھاتے تھے۔ فوجیوں کے بارے میں ہماری معلومات بھی بس اتنی ہی تھیں جتنی عام سکول یا کالج کے طالب علموں کی تھیں۔ ہم نے اسلامی لشکروں اور سپہ سالاروں وغیرہ کے نام تو اکثر کتابوں میں پڑھے تھے لیکن انگریزفوجوں اور کمانڈر انچیفوں کے نام ابھی تک زبان پر نہیں چڑھے تھے۔ ہم شمشیر و سناں کو رائفل اور ریڈار سے زیادہ وقیع سمجھا کرتے تھے!

 اِسی اثنا میں قصور میں بابا بلھے شاہ کا عرس آ گیا اور ہم عرس دیکھنے اپنے ننھال چلے گئے۔ اولیائے کرام کے عرسوں سے ویسے بھی ہماری عقیدت تھی کہ پاک پتن شریف کے دامن میں واقع ملکہ ہانس میں پیدا ہوئے اور پھر پاک پتن میں آبسے۔ وہیں سکول کی تعلیم پائی اور خاندان کے آدھے افرادلورالائی سے ،ہجرت کر کے آئے اور پھر پاک پتن ہی کے ہو رہے۔ اس زمانے میں پاک پتن کے ساتھ ’’شریف‘‘ کا لاحقہ بھی ضرور لگا کرتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم کے دونوں کناروں پر جو بڑے بڑے بورڈ لگے ہوتے تھے ان پر انگریزی اور اردو میں’’ پاک پتن شریف‘‘ ہی لکھا ہوتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اگر پاک پتن کے ساتھ شریف نہ لگائیں تو یہ شہر نا مکمل، اجاڑ، سنسان اور نا شریف سا لگنے لگتا تھا۔ ذرا ہوش سنبھالی تو شریف کے لاحقے والے شہروں اور قصبوں کی قطاریں لگ گئیں۔ ملتان شریف، گولڑہ شریف، کھڑی شریف، چاچڑاں شریف اور اس طرح کئی شریفوں کے حصار میں گھرے ہم پاک پتن شریف پر بہت نازاں ہوا کرتے تھے۔ پھر جب یہ بھی سوچا کہ چونکہ اس جگہ برصغیر ہندو پاک کی ایک عظیم روحانی شخصیت محو خواب ہے اس لئے بابا فرید گنج شکر کی نسبت سے یہ شہر شریف کہلاتا ہے تو ہم نے اول اول اس پر یقین کر لیا۔ لیکن جب پہلی دفعہ لاہور آئے اور لاہور ریلوے اسٹیشن پر اترے تو صرف لاہور لکھا دیکھا اور سوچا کہ حضرت داتا گنج بخش کی نسبت سے لاہور کو بھی شریف کا لاحقہ عطا ہونا چاہئے تھا۔۔۔۔ ذہن کچھ الجھ سا گیا۔۔۔ کچھ یہی حال قصور کا بھی تھا۔ یہاں بابا بلھے شاہ اور شاہ کمال چشتی کے مزارات کی سارے برصغیر میں ایک خاص تقدیس تھی لیکن قصور ریلوے اسٹیشن پر ہم جب بھی اترتے تو ’’قصور جنکشن‘‘ لکھا دیکھتے اور چونکہ قصور شریف نہیں ہوتا تھا اس لئے ہم نے ایک اور مفروضہ ذہن میں پال لیا کہ شائد جنوبی پنجاب کے شہروں میں شریف کا اضافہ مناسب سمجھ جاتا ہوگا اور شمالی پنجاب میں نہیں۔ لیکن گولڑہ شریف اوردیول شریف کے مقامات تو جنوبی پنجاب میں نہیں تھے!۔۔۔بالآخر یہی سمجھا کہ لوگ عقیدتاً شریف کا لاحقہ لگا دیتے ہیں!۔۔۔ یہ کنفیوژن پوری طرح آج بھی ذہن سے محو نہیں ہو سکا۔

میرے ننھال تو قصور میں کوٹ مراد خان میں رہتے تھے لیکن قصور کے بارہ کوٹوں میں سب سے زیادہ مشہور کوٹ، کوٹ مراد خان کے علاوہ کوٹ عثمان خان سمجھا جاتا تھا جہاں میرے ایک کزن پولیس تھانے کے انچارج تھے۔ ہم اس روز ان کے ہاں گئے ہوئے تھے۔ پہلے بابا بلھے شاہ کے مزار پر حاضری دی اور پھر چند گز دور کوٹ عثمان خاں میں واقع ان کے سرکاری گھر میں چلے گئے۔۔۔ یہ 5 ستمبر 1965ء کا دن تھا! اچانک خبر آئی کہ کوٹ مراد خان پر بھارتی فضائیہ نے حملہ کیا ہے اور وہاں ایک دھوبی گھاٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ ہم کوٹ عثمان خان سے نکلے اور دھوبی گھاٹ دیکھنے کے لئے تانگے میں سوار ہو گئے۔ ان دنوں تو لاہور میں بھی تانگے ہی چلا کرتے تھے۔ دھوبی گھاٹ میں جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے تھے۔ انڈین بمبار نے اس جگہ شائد دو یا تین بم گرائے تھے۔۔۔ اس وقت تو معلوم نہ تھا کہ انڈین ایئر فورس کا ہدف قصور کا یہ دھوبی گھاٹ کیوں تھا لیکن بعد میں جب تاریخِ جنگ کی شدبد ہوئی تو معلوم ہوا کہ حملہ آور طیارے کا ہدف قصور ریلوے اسٹیشن تھا۔ اور دھوبی گھاٹ وہاں سے تقریباً دو تین کلومیٹر دور تھا! یعنی اس وقت بھی بھارتی فضائیہ کی نشانے بازی میں ’’مہارت‘‘ نمایاں اور واضح تھی! ستمبر کے مہینے میں اگرچہ دن رات برابر ہو جاتے ہیں اور موسم بھی زیادہ گرم سرد نہیں ہوتا اس لئے اس شب ہم تا دیر جاگتے اور گپیں ہانکتے رہے۔ معاً ریڈیو پر خبریں آنا شروع ہوئیں کہ انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے اور اس کی فوجیں قصور کی طرف بڑھی چلی آ رہی ہیں۔ میرے کزن نے گھر آ کر جب یہ خبرسنائی تو ہمیں خاصی تشویش ہوئی۔

قصور، دفاعی لحاظ سے ایک اہم سرحدی شہر تھا۔ ہم کئی بار قصور سے گنڈا سنگھ والا صبح پیدا چل کر جاتے اور شام کو واپس آ جاتے تھے۔ لیکن قصور پر انڈیا کی طرف سے حملے کرنے کے امکانات فوجی فائلوں میں ضرور ہوں گے لیکن پبلک کو کچھ آگاہی نہ تھی کہ شہر پر حملہ ہونے والا ہے۔ نہ ہی کسی نے بلیک آؤٹ کا ذکر کیا تھا۔ سارا شہر 5 ستمبر 1965ء کی شام کو حسبِ معمول روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ شہری ہوا بازی کی کوئی موثر تنظیم موجود نہ تھی۔ فضائی حملوں کے خلاف کوئی احتیاطی تدابیر نہیں اٹھائی گئی تھیں۔ کسی نے خندقیں کھودنے کامشورہ یا ہدائت نہیں دی تھی۔ (تاہم یہ سب کچھ 6 ستمبر کے بعد کیا گیا) ۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ 6 ستمبر کا بھارتی حملہ ایک ناگہانی حملہ تھا تو اس کی صداقت اور ہماری حماقت کا ثبوت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں بھی وہ دفاعی احتیاطی تدابیر کام میں نہیں لائی گئی تھیں جو عام جنگی حالات سے پہلے لائی جاتی ہیں۔ میں عمداً عسکری احتیاطوں کا ذکر نہیں کروں گا۔ لیکن سول انتظامیہ کی غفلت اور نا اہلی کا اندازہ کیجئے کہ کسی کو بھی خیال نہ آیا کہ رن کچھ جھڑپ کے بعد (اپریل مئی 1965ء) بھی پاکستان اور بھارت میں کشیدگی برقرار ہے اور کسی وقت بھی عام جنگ کا نقارہ بج سکتا ہے۔ فوج نے جب آپریشن جبرالٹر شروع کیا تھا (یکم اگست 1965ء) تو تب بھی پاکستان میں ’’سب اچھا‘‘ کی گردان ہو رہی تھی۔ اور جب اگست کے آخری ایام میں دریائے توی عبور کر کے پاک فوج چھمب جوڑیاں کو روندتی ہوئی اکھنور کی طرف بڑھ رہی تھی تو پھر بھی حکومت نے مناسب نہ سمجھا کہ عوام کو مطلع کیا جائے کہ اگر اکھنور پر قبضہ ہو گیا تو پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے اور بھارت اس کے جواب میں کیا اقدامات کرے گا۔ اس دھمکی کے باوجود جو اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے انہی دنوں دی تھی کہ ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے، اربابِ اقتدار نے عوام کو بے خبر ہی رکھا۔ اور بعد میں واویلا مچایا کہ بھارت نے دھوکے سے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کر دیا ہے!

میڈیا میں یہ خبریں ضرور اچھالی جاتی رہیں کہ شاستری جی نے یہ دھمکی دی ہے لیکن قومی اور سرکاری سطح پر اس اجتماعی آگہی کا کوئی اہتمام نہ کیا گیا جوایسی دھمکی کے بعد ضروری ہوتی ہے۔ یہ تو جب جنگ شروع ہوئی اور پاک فوج کی جونیئر اور مڈل کلاس قیادت نے ہر سطح پر اپنے سے تین چار گنا طاقتور بھارتی فوج کو روک دیا تو پاکستانی عوام کو معلوم ہوا کہ خطرہ کتنا بڑا تھا ۔اور جب معلوم ہوا تو پھر پاکستان کا بچہ بچہ واقعی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا۔ اور تو اور مشرقی پاکستان بھی کہ جو اس جنگ کے چھ سال بعد بھارت کے ساتھ مل کر ہم سے علیٰحدہ ہو گیا، وہ بھی قومی جذبے سے سرشار معلوم ہوا۔ مجھے خبر نہیں یہ سرشاری واقعی اصلی تھی یا مغربی پاکستان کے عوام کی دیکھا دیکھی جھوٹ موٹ اختیار کی گئی تھی۔ ستمبر1965ء کی اس 17 روزہ جنگ میں پاکستان کی تینوں فورسز نے جو حیرت انگیز عسکری کارنامے انجام دیئے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی اقوام میں سراہے گئے اور جب سے اب تک پاک فوج کا ایک ایسا تشخص بیرونی دنیا میں مروج ہے کہ جس کی شہرت مدھم نہیں ہو سکی بلکہ اس میں مرورِ ایام سے اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ الحمد للہ!

میں قصور میں 5 اور 6 ستمبر 1965ء کی درمیانی شب کا ذکر کر رہا تھا!۔۔۔ اللہ اکبر!۔۔۔ آج اس رات کو گزرے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا لیکن وہ سارا منظر آنکھوں میں اس طرح بسا ہواہے جیسے ابھی کل کی بات ہو!۔۔۔ اُس 6 ستمبر 1965ء کی صبح نا خوشگوار سی تھی۔ شہر میں بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور لوگ گھروں کو چھوڑ کر محفوظ تر قصبوں اور شہروں کا رخ کر رہے تھے۔ توپوں کی گھن گرج اور چمک سنائی اور دکھائی دے رہی تھی۔ پھر ریڈیو پر خبریں آئیں کہ صدر مملکت قوم سے خطاب کریں گے۔ ان کا خطاب اور اس میں ایوب خان کی زبان سے کلمہ طیبہ کی ادائیگی اتنی بروقت، اتنی حوصلہ افزا اور اتنی سکون بخش تھی کہ جو لوگ جوق در جوق لاری اڈوں کا رخ کر کے قصور سے نکل رہے تھے، وہ واپس آنے لگے۔ شہر کا نظم و نسق ایک لمحے کے لئے بھی متزلزل نہ ہوا۔ کھیم کرن۔ قصور سرحد میں صرف دو تین کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ جب اہل قصور کو اطلاع ملی کہ پاک فوج نے کھیم کرن پر قبضہ کرلیا ہے تو ہم جیسے خوش فہموں نے آس لگا لی کہ اب امرتسر اور فیروز پور کچھ زیادہ دور نہیں ہوں گے اوران دونوں بھارتی شہروں کا سقوط اب شائد ’’چند گھنٹوں‘‘کی مار ہو!

لیکن اصل میں قصور محاذ پر کیا ہوا؟۔۔۔ کیا واقعی پاکستانی فوج امرتسرکے قریب پہنچ گئی تھی اور اگر کرنل صاحب زاد کے ٹینک ولٹوہا جا سکتے تھے تو اس سے آگے کیوں نہ گئے؟۔۔۔ بھارتی آرمی چیف جنرل چودھری نے انڈین آرمی کی ویسٹرن کمانڈ کے کمانڈر، جنرل ہربخش سنگھ کو دریائے بیاس تک پیچھے ہٹنے کے احکام دیئے تو ہربخش سنگھ نے ان پر عمل کیوں نہ کیا ؟۔۔۔قصور کی طرف سے پاکستان آرمی کی جوابی یلغار (کاؤنٹر اوفینسو) کامیابی کے عین کنارے پر پہنچ کر ناکام کیوں ہوئی؟۔۔۔ ہمارے پیٹن ٹینک جو کسی بھی بھارتی ٹینک سے ہر طرح سے بہتر اور طاقتور تھے ان کو انڈیا کے4 ماؤنٹین ڈویژن نے کیسے روکا؟۔۔۔ ایک بھارتی مسلمان حوالدار عبدالحمید نے اصل اُتر کی اس ٹینک بیٹل میں کیا کردار ادا کیا اور اسے بھارت سرکار نے دلیری کا اعلیٰ ترین اعزاز جو ہمارے نشانِ حیدر کے برابر تھا، کیوں دیا؟۔۔۔ یہ سب تفصیلات حوصلہ شکن بھی ہیں اور حوصلہ افزا بھی۔ ۔۔۔ آدھے خالی گلا س کوبھرا بھی جاسکتا تھا اگر جنرل قسمت (General Luck) ہماری طرفداری کرتا!۔۔۔ یہ باتیں کالموں میں نہیں لکھی جا سکتیں۔ اصل حقیقت تک پہنچنے کے لئے قارئین کو کم از کم اس جنگ کی کوئی ایسی تاریخ پڑھنی چاہئے جو یکطرفہ اور جانبدارانہ نہ ہو۔ اور یہ تاریخ غیر ملکی مصنفین اور مورخین ہی لکھ سکتے ہیں۔ قارئین کو لائبریریوں یا انٹرنیٹ پر جا کر جنگ ستمبر 1965ء کی تواریخ کو براؤز) (Browse کرنا چاہئے اور اس حقیقت کا ادراک بھی کرنا چاہئے کہ پاکستان نے اگرچہ مختصر دورانیئے کی یہ جنگ جیتی نہیں تھی لیکن بھارت کو بھی جیتنے نہیں دی تھی!

لیفٹیننٹ کرنل (ر)غلام جیلانی خان