پاک آرمی کے ساتھ ایک دن

pakistan-army

میجر حارث کی پیش کش کو ٹھکرایا نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 7 فروری کو ہم آپ کو آرمی کے جوانوں سے ملوانا چاہتے ہیں اور دکھائیں گے کہ وہ کس طرح دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہر دم کوشاں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کو گنڈا سنگھ بارڈر پر بھی لے جایا جائے گا، جہاں واہگہ بارڈر کی طرز پر ہر روز پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مَیں مقررہ مقام پر پہنچا تو وہاں بہت سے اجنبی چہرے دکھائی دیئے جو سویلین لباس میں تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی تو پتا چلا کہ یہ تمام احباب سول سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں بینکار، صنعت کار، تاجر اور وکلاء شامل تھے۔ ادیبانہ اور شاعرانہ چہرہ ایک بھی نہیں تھا۔ اتنے میں ایک صاحب بہت تیزی سے میری طرف آئے اور بولے: ’’شکر ہے کہ یہاں آپ موجود ہیں۔ اب مَیں سارا دن آپ کے ساتھ ہی رہوں گا‘‘۔ یہ اردو اور پنجابی زبان کے شاعر انیس احمد تھے۔ ان کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا۔ مجھے اپنا ایک شعر یاد آ گیا:

ناصر بشیر خود کو اکیلا ہی پاؤ گے

لوگوں میں ڈھونڈتے رہے گر اپنے جیسی بات5404febaceb3f

اسی اثناء میں مجھے ایک نہایت خوب صورت نوجوان، صاف ستھری فوجی وردی میں دکھائی دیا۔ یہی میجر حارث تھے جن کی دعوت پر مَیں یہاں پہنچا تھا۔ یادگارِ شہدا کے چبوترے پر نہایت چاق چوبند سپاہی بھاری رائفلیں تھامے کھڑے تھے۔ چند لمحوں کے بعد لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز آ گئے۔ وہ سویلین میں بالکل اسی طرح گھل مل گئے جس طرح ہمارے سیاسی زعمائے کرام فیصل مسجد یا بادشاہی مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد گھل مل جاتے ہیں۔ ابھی ہم ان کی رعب دار شخصیت کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس ایک اور صاحب آ گئے۔ میجر حارث اور لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز نے انہیں پروٹوکول دیا تو مَیں سمجھ گیا کہ یہ یقیناًان کے سینئر ہیں۔ یہ بریگیڈیئر عمران نقوی تھے۔ فوج کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ اس میں جونیئرز اپنے سینئرز کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں اور ان کے اشارے کو بھی حکم سمجھتے ہیں اور جہاں سینئر افسر موجود ہو، وہاں جونیئر اس سے کچھ فاصلے پر رہتے ہیں۔

مَیں چونکہ شاعر ہوں، اس لئے شاعروں کی مثال دوں گا کہ اب ادبی دنیا میں سینئر جونیئر کا فرق مٹ گیا ہے۔ نئے شاعر اپنے سینئرز کی نشستوں پر زبردستی قبضہ کر لیتے ہیں۔ نوجوان شاعر تقریب میں وقت پر آ جائیں تو اگلی نشستوں پر براجمان ہو جاتے ہیں جو سینئر ادیبوں شاعروں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔ صرف ادبی دنیا کا ہی نہیں، ہماری سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ کوئی بڑا سیاسی راہنما کہیں موجود ہو تو نووارد سیاست دان سینئر اور تجربہ کار سیاست دانوں کو پرے دھکیل کر خود اپنے رہنما کی بغل میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہاں موجود کیمروں کی آنکھیں انہیں دیکھ لیں تا کہ وہ بھی ٹیلی ویژن سکرین پر کچھ ثانیوں کے لئے ہی سہی، جلوہ گر ہو سکیں۔ میجر حارث نے میجر علی سے بھی ملوایا جو آئی ایس پی آر میں ہوتے ہیں۔ جب انہیں علم ہوا کہ یومِ یک جہتی کشمیر پر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نغمے میں پہلے دو شعر میرے ہیں تو ان کی گرم جوشی مزید بڑھ گئی۔ میرے دو شعر آپ بھی دیکھ لیجئے:

کشمیر! ترا حسن ہوا درد کی تصویر

آنسو ہیں تری آنکھ میں، پیروں میں ہے زنجیر

وہ کہتے ہیں آزادی کو اک خواب ہی سمجھو

ہم کہتے ہیں ہر خواب کی اک ہوتی ہے تعبیر

سانحۂ پشاور پر بھی آئی ایس پی آر نے دو نہایت شان دار نغمے جاری کئے تھے  لیکن یوم یکِ جہتی کشمیر پر ریکارڈ کیا گیا نغمہ ان کے معیار تک نہیں پہنچا۔ میرے دو شعر تحت اللفظ میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور مشہور

 شعر تحت اللفظ میں شامل کیا گیا ہے:

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ ریکارڈ کرنے والوں نے میرے دو شعروں میں بھی ایک غلطی کی اور اس شعر میں بھی غلطی کر دی۔ دوسرا مصرع یوں کر دیا:

جنت کسی کافر کو نہ ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ سنتے ہی مَیں نے آئی ایس پی آر اسلام آباد میں تعینات اپنے دوست یوسف عالمگیرین سے رابطہ کیا اور انہیں ان اغلاط سے آگاہ کیا۔ مَیں نے انہیں یہ کہا کہ نغمہ ریکارڈ کرنے سے پہلے مجھ سے نہ سہی، کسی اور شاعر سے رابطہ کر لیا جاتا تا کہ غلطی کا احتمال نہ رہتا۔ جو گانا گلوکار سے گوایا گیا ہے،اس کی شاعری کسی بحر میں نہیں ہے۔ میری اس بات کو آپ جملہ معترضہ جان لیجئے۔ کالم کا اصل موضوع تو آرمی کے ساتھ گزرے ہوئے دن کی روداد بیان کرنا ہے۔ یادگار شہدا سے تمام دوستوں کو محفوظ شہید گیریثرن لے جایا گیا۔ ٹینکوں کی سواری ، فائرنگ اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں سے نمٹنے کی مشقیں دیکھ کر دل کو یقین ہونے لگا کہ ہمارا ہر آتا ہوا دن بہتر سے بہتر ہوگا۔ وہاں سے کورہیڈ کوارٹر پہنچے ۔ جہاں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صادق علی ( بلال امتیاز) نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان کے قیام کے لئے بہادر پاکستانی افواج کی طرف سے کی جانے والی کامیاب کوششوں کے حوالے سے تفصیل سے معلومات دیں۔

انہوں نے وکلا، تاجروں، صنعت کاروں اور بینکاروں کے انتہائی تلخ سوالوں کے جوابات نہایت خندہ پیشانی سے دیئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یومِ کشمیر پر جاری کئے گئے نغمے میں میرے دو شعر شامل ہیں تو انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور حاضرین سے تالیاں بجوائیں۔ پُر تکلف چائے پینے کے بعد ہمیں قصور لے جایا گیا۔ ہماری بسوں کے آگے پیچھے فوجی گاڑیاں تھیں جو غالباً ہماری سیکیورٹی پر مامور تھیں۔ ظہرانے میں دیگر کھانوں کے ساتھ قصور کی تو ے والی مچھلی بھی وافر مقدار میں رکھی گئی تھی۔ مہمانوں کو جی بھر کے کھانا کھانے دیا گیا، کسی افسر نے کھانے کے آغاز میں جینٹل مین بسم اللہ کہا، نہ ختم کرنے کے لئے جینٹل مین الحمد للہ کہا۔ کرنل اشفاق حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فوجی میس میں اس وقت تک کھانا شروع نہیں کیا جاتا جب تک وہاں موجود سینئر افسر جینٹل مین بسم اللہ نہ کہے اور کھانے کے دوران میں جب وہی افسر جینٹل مین الحمد للہ کہے تو سب کو اپنا ہاتھ روکنا پڑتا ہے۔

کھانے کے بعد گنڈا سنگھ بارڈر پر پہنچے۔ جہاں پرچم اتارنے کی تقریب ہو رہی تھی۔ ہمارے لئے پہلے سے نشستیں مخصوص تھیں۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی لکیر کے عین اُوپر ایک بلی بیٹھی تھی۔ وہ کبھی پاکستانی فوجیوں کی طرف دیکھتی اور کبھی بھارتی فوجیوں کی طرف۔ وہ دراصل ان کے پاؤں کی دھمک سے خوفزدہ تھی۔ مَیں نے محسوس کیا کہ بھارتی فوجی اس بلی کو دیکھ کر بھیگی بلی بنے ہوئے تھے۔ بلی نے بھارت کی طرف جانا چاہا تو بھارتی فوجیوں نے اشاروں سے اسے پاکستان کی طرف دھکیل دیا۔ یہ وہی بھارتی فوج ہے جو ایک معمولی سے کبوتر سے بھی ڈر جاتی ہے۔ میرا یہ دن تھکا دینے والا تھا، لیکن فوجیوں کی مشقت بھری زندگی کی مصروفیات دیکھ کر مَیں مطمئن تھا کہ میرا پاکستان محفوظ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر اگر کوئی دیوار ہے تو وہ پاک آرمی ہے جس نے تمام خطروں کو روکا ہوا ہے۔

ناصر بشیر

نشان حیدر : کسے، کب دینے کا اعلان کیا گیا ؟

nishan-e-haiders

نشان حید ر کا پہلا اعزاز 27 جولائی 1948ء کو پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے پاکستان آرمی کے کیپٹن محمد سرور کو دیا گیا۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے تھا اور یہ اعزاز ان کو شہادت کے تقریباََ 9 سال بعد 16 مارچ 1957ء کو نشان حیدر کے اجراء کے ساتھ ہی دیا گیا۔

نشان حیدر کا دوسرا اعزاز 7 اگست 1958ء کی پاک بھارت جنگ میں دادِ شجاعت دے کرجام شہادت نوش کرنے والے پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ ہی کے میجر طفیل محمد شہید کو دیا گیا۔

راجا عزیز بھٹی شہید، جن کا تعلق بھی پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے تھا اور جو پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے 10 ستمبر 1965ء کو پاک بھارت جنگ میں شہید ہوئے، تیسرے نشان حیدر کے حقدار قرار پائے۔

چوتھا نشان حیدرپاکستان ائیرفورس کے جواں سال جانباز راشد منہاس شہید کر دیا گیا جنہوں نے 20 اگست 1971ء کو دشمن کے ہاتھ لگنے کے بجائے جام شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔

1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران 6 دسمبر 1971ء کو ارض وطن کیلئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنے والے پاکستان آرمی کے فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے میجر شبیر شریف شہید کو نشان حیدر کے پانچویں اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا۔banner-2

1971ء ہی کی پاک بھارت جنگ کے دوران 10 دسمبر 1971ء ک بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرنے وال پاکستان آرمی کے آرمڈ کور کے سوار محمد حسین جنجوعہ شہید ،5 دسمبر 1971ء کو پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس کے رجمنٹ کے میجر محمد اکرم شہید اور 17 دسمبر 1971ء کو دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہونے والی پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ کے لانس نائیک محمد محفوظ شہید کو بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

نواں نشان حیدر آزاد کشمیر رجمنٹ کے نائیک سیف علی جنجوعہ کو 1948 کی پاک بھارت جنگ میں بہادری کے جوہر دکھانے پر 1995ء میں دیا گیا۔ نشان حیدر کا دسواں اور گیارہواں ایوارڈ 5 جولائی1999ء کوکارگل کے تنازعہ میں شہید ہونے والے سندھ رجمنٹ کے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور7 جولائی 1999ء کو شہید ہونے والے ناردرن لائٹ انفنٹری کے حوالدار لالک جان شہید کو دیا گیا۔

 بشکریہ ’’ہونہار‘‘

پاک بحریہ کی مشقیں : امن -2017

بحیرہ عرب میں جاری پاک بحریہ کی کثیرالقومی مشقوں ’امن-2017‘ کے دوران دشمنوں کے حملوں کو ناکام بنانے کی مشقیں کی گئیں امن مشقوں میں امریکا، برطانیہ، سری لنکا، فرانس اور ملائیشیا سمیت دنیا کے 35 سے زائد ممالک کی بحری افواج شامل ہے۔ پاکستان بحریہ امن مشقوں کا انعقاد پر 2 سال بعد کرتی ہے، جب کہ یہ مسلسل چھٹی اور تاریخ کی سب سے بڑی امن مشقیں ہیں۔ بحریہ کی امن مشقوں کا مقصد دشمن کی جانب سے سمندری حملوں کا مقابلہ کرنا، ملکی سمندری حدود سمیت دیگر سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور امن کو فروغ دینا ہے۔

 

 

 

 

آئیڈیاز 2016 : جنگی ساز و سامان کی نمائش

 پاکستان کے شہر کراچی میں اسحلے، جنگی ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی نمائش منعقد کی گئی ہے۔ 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستان پولیس کے خصوصی دستوں کی تربیتی مشقیں

 دنیا بھر میں پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک ہے اور اس کے ہزاروں شہری دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہو چکے ہیں۔

 

پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر نے ٹیکنالوجی میں امریکی ایف 16 کو مات دے دی

پاکستان کے مایہ ناز لڑاکا طیارے ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ کے جدید ترین ورژن ’’بلاک 3‘‘ کے ڈیزائن کو حتمی شکل دی جاچکی ہے جس کے بعد یہ چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں سے بھی زیادہ جدید ہوجائے گا اور اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف/اے 18 اور ایف 15؛ روس کے سکھوئی 27؛ اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کا انجن زیادہ طاقتور ہوگا جس کی بدولت یہ آواز کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ رفتار (Mach 2.0+) سے پرواز کرسکے گا۔ اس میں خاص قسم کے کم وزن لیکن مضبوط مادّے استعمال کئے جائیں گے جو ایک طرف اس کا مجموعی وزن زیادہ بڑھنے نہیں دیں گے جبکہ دوسری جانب اسے دشمن ریڈار کی نظروں سے بچنے میں مدد بھی دیں گے۔

جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ ایسے جدید ترین ریڈار (اے ای ایس اے ریڈار) سے بھی لیس ہوگا جسے جام کرنا دشمن کے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کےلئے انتہائی مشکل ہوگا۔ پائلٹ کا ہیلمٹ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا جو طیارے کے اطراف سے بہتر واقفیت کے علاوہ ہتھیاروں پر بہترین کنٹرول کی صلاحیت بھی دے گا۔ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ میں طویل فاصلے پر موجود زمینی اہداف کا بہتر نشانہ لینے کےلئے خصوصی آلہ (ٹارگٹنگ پوڈ) بھی اضافی طور پر نصب ہوگا؛ جبکہ اسے زمینی یا فضائی اہداف کو اُن سے خارج ہونے والی گرمی کی بنیاد پر شناخت کرنے اور نشانہ باندھنے والے نظام (آئی آر ایس ٹی) سے بھی ممکنہ طور لیس کیا جائے گا۔

اپنے ’’بلاک 2‘‘ ورژن کی طرح جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں بھی دورانِ پرواز ایندھن بھروانے کی سہولت ہوگی جس کے باعث یہ 2,500 کلومیٹر دور تک کسی ہدف کو نشانہ بناسکے گا۔ یہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین تک مار کرنے والے دوسرے میزائلوں کے علاوہ نظر کی حد سے دُور تک مار کرنے والے (بی وی آر) میزائل سے بھی لیس ہوگا۔ پاکستان کی برّی افواج کےلئے بنائے گئے ’’بابر کروز میزائل‘‘ میں ترامیم کے بعد اسے ’’رعد کروز میزائل‘‘ کی شکل دے دی گئی ہے جو روایتی یا غیر روایتی اسلحے سے لیس کرکے جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں نصب کیا جائے گا؛ اور جس کے باعث سینکڑوں کلومیٹر دُور زمینی اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکے گا۔

امکان ہے کہ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ کے کاکپٹ میں 2 افراد کی گنجائش ہوگی۔ اندازہ یہ بھی ہے کہ اب تک اس پر کام کا آغاز کیا جاچکا ہے کیونکہ متوقع طور پر ان لڑاکا طیاروں کو پاک فضائیہ کے سپرد کرنے کا سلسلہ 2019 سے شروع ہوجائے گا۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ بہت کم خرچ لڑاکا طیارہ بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ (وکی پیڈیا کے مطابق) جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 1‘‘ کی فی طیارہ لاگت 25 ملین ڈالر (ڈھائی کروڑ ڈالر) تھی؛ ’’بلاک 2‘‘ پر 28 ملین ڈالر (2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) فی طیارہ لاگت آئی؛ جبکہ ’’بلاک 3‘‘ کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس کے ہر پیداواری یونٹ کی ممکنہ لاگت 32 ملین ڈالر (3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) ہوگی۔

اگر اس لاگت کا موازنہ پرانے قسم کے ایف 16 طیاروں (بلاک 52) سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی اصل قیمت 20 ملین (2 کروڑ) ڈالر فی طیارہ کے لگ بھگ ہے لیکن یہ پاکستان کو 34 ملین (3 کروڑ 40 لاکھ) ڈالر فی طیارہ کے حساب سے فروخت کئے گئے۔ کچھ ماہ پہلے امریکہ سے اسی پرانی قسم کے مزید ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ بھی اسی لئے کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ اب کی بار امریکہ نے پاکستان سے ان کی فی طیارہ قیمت 87 ملین (8 کروڑ 70 لاکھ) ڈالر سے بھی کچھ زیادہ طلب کرلی تھی، جو ایف 16 کی پچھلی قیمت سے بھی ڈھائی گنا زیادہ تھی۔

گزشتہ ماہ بھارت نے فرانس سے 36 عدد ’’رافیل‘‘ لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا؛ جس کے تحت رافیل کی فی طیارہ قیمت تقریباً 242 ملین (24 کروڑ 20 لاکھ) ڈالر طے کی گئی ہے جبکہ اس معاہدے کی مجموعی لاگت 8 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ ان تمام اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر ’’بلاک 3‘‘ اپنی خصوصیات اور صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کے جدید لڑاکا طیاروں کے ہم پلّہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کےلئے کم خرچ بھی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ جے ایف 17 ’’تھنڈر‘‘ کی بدولت پاکستان نے مقامی طور پر عسکری طیارہ سازی میں خود کفالت کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا ہے۔

اس وقت بھی جبکہ یہ سطور قلم بند کی جارہی ہیں، جے ایف 17 تھنڈر کے منصوبے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے؛ اور مستقبل میں یہ اور بھی زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ پاکستانی انجینئروں کا مثالی اور انتہائی قابلِ فخر کارنامہ ہے جس کےلئے پاک فضائیہ کے دفاعی منصوبہ ساز اور پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) کے انجینئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی اے سی میں جے ایف 17 تھنڈر کے اس سے بھی زیادہ جدید ورژن ’’بلاک 4‘‘ پر ابتدائی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں تفصیلات دستیاب نہیں لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ اپنے ’’بلاک 4‘‘ کے ساتھ جے ایف 17 بھی پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں شامل ہوجائے گا۔

علیم احمد

Pakistan hosts 16-nation military sports tournament

Army cricket teams from different countries have arrived at Lahore to take part in the first ever Physical Agility Combat Efficiency System (PACES) competition being hosted by Pakistan Army. Teams from Sri Lanka, England, Saudi Arabia, China and Australia will participate in the competition. The event is being organised by Pakistan Army, which is the first-ever such competition in the world. Commander Lahore Corps Lt-General Sadiq Ali declared the PACES Competition Open amid a colourful ceremony at the Venue which was attended by a large crowd.
All the participating teams joined a Flag March Past, followed by Army’s regimental troupes, representing all provinces of Pakistan including Gilgit Baltistan and Azad Jammun Kashmir, which presented traditional folk dances on the tune of famous regional songs and a spectacular demonstration by the Pakistan Army band, which won thunderous applauds from the audience. People’s Liberation Army (China) and Pakistan Army dominated the opening day of the Pull-Ups contest in the First International PACES Competition-2016 that commenced at the Ayub Stadium on Tuesday.
The visiting cricket teams practised at (NCA) indoor and outdoor to prepare for the first leg of matches to be held on October 19, 21 and 22 in various grounds of Lahore. Later, the team will travel to Rawalpindi and Abbottabad to feature in the remaining matches. On Wednesday, the participating teams will compete in 3.2-km run which will start at 9am from Askari-10 and end at the Ayub Stadium. Players of different countries during opening ceremony of first ever Physical Agility and Combat Efficiency System competition. ─APP

Army Chief attends passing-out parade at PAF Academy Risalpur

Chief of Army Staff General Raheel Sharif said any aggression by the country’s enemies would be met with a befitting response as he called on the international community to condemn Indian fabrications against Pakistan. “We have recently witnessed an unfortunate display of utter desperation playing out inside Occupied Kashmir and along Line of Control through a litany of falsehoods and distortion of facts by India. We expect international community to condemn Indian insinuations and fabrications about a nation that has made unparallel contributions in the global fight against terrorism,” General Raheel Sharif said while addressing the passing-out parade of PAF cadets in Risalpur.
Pakistan’s Army chief added Pakistan’s enemies would now attempt to accelerate their efforts to reverse our gains and derail our progress through direct and indirect strategy. “Their nefarious designs will not be allowed to succeed at any cost. Resolute efforts to consolidate our gains is the only way forward for which we will not leave any stone unturned.” The Army Chief asserted that Pakistan Armed Forces are highly vigilant and committed to their collective resolve of defending the motherland and defeating the enemy’s nefarious designs.

 

 

 

 

Iran, Pakistan Carrying Out Joint Navy Drills in Arabian Sea

45076c06-1d32-4aaa-82ec-8e398c3889af
Iranian naval fleet docked at the Karachi port  on a three-day visit to hold discussions on the regional political situation and matters of mutual interest, said a statement issued by Pakistan Navy. Four Iranian Naval Ships — Lavan, Konarak, Falakhen and Khanjar — were received by the senior officials of Pakistan Navy and Iranian diplomats at the docks, the statement added. “During the visit, the naval forces of both the countries will undertake joint drills in the Pakistani waters for three days.” Iranian naval vessels are on visit to Pakistan for the joint drills ahead of ‘Aman-17’ exercise, which the Pakistan Navy will host early next year. Operational training activities and sports activities are also planned, said the statement by Pakistan Navy. The visit of Iranian fleet is expected to promote peace and security in the region and enhance maritime collaboration between the two brotherly Islamic countries, read the statement. The naval forces of Russia, China, Turkey and Iran are expected to participate in the annual international naval exercise ‘Aman-17’ next year. The objective of the exercise is to exchange naval experiences and improve regional security. The visit of Iranian fleet is expected to enhance maritime collaboration between the two brotherly Islamic countries. —Photo courtesy Pak Navy