پاک آرمی کے ساتھ ایک دن

pakistan-army

میجر حارث کی پیش کش کو ٹھکرایا نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 7 فروری کو ہم آپ کو آرمی کے جوانوں سے ملوانا چاہتے ہیں اور دکھائیں گے کہ وہ کس طرح دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہر دم کوشاں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کو گنڈا سنگھ بارڈر پر بھی لے جایا جائے گا، جہاں واہگہ بارڈر کی طرز پر ہر روز پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مَیں مقررہ مقام پر پہنچا تو وہاں بہت سے اجنبی چہرے دکھائی دیئے جو سویلین لباس میں تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی تو پتا چلا کہ یہ تمام احباب سول سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں بینکار، صنعت کار، تاجر اور وکلاء شامل تھے۔ ادیبانہ اور شاعرانہ چہرہ ایک بھی نہیں تھا۔ اتنے میں ایک صاحب بہت تیزی سے میری طرف آئے اور بولے: ’’شکر ہے کہ یہاں آپ موجود ہیں۔ اب مَیں سارا دن آپ کے ساتھ ہی رہوں گا‘‘۔ یہ اردو اور پنجابی زبان کے شاعر انیس احمد تھے۔ ان کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا۔ مجھے اپنا ایک شعر یاد آ گیا:

ناصر بشیر خود کو اکیلا ہی پاؤ گے

لوگوں میں ڈھونڈتے رہے گر اپنے جیسی بات5404febaceb3f

اسی اثناء میں مجھے ایک نہایت خوب صورت نوجوان، صاف ستھری فوجی وردی میں دکھائی دیا۔ یہی میجر حارث تھے جن کی دعوت پر مَیں یہاں پہنچا تھا۔ یادگارِ شہدا کے چبوترے پر نہایت چاق چوبند سپاہی بھاری رائفلیں تھامے کھڑے تھے۔ چند لمحوں کے بعد لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز آ گئے۔ وہ سویلین میں بالکل اسی طرح گھل مل گئے جس طرح ہمارے سیاسی زعمائے کرام فیصل مسجد یا بادشاہی مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد گھل مل جاتے ہیں۔ ابھی ہم ان کی رعب دار شخصیت کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس ایک اور صاحب آ گئے۔ میجر حارث اور لیفٹیننٹ کرنل اعتزاز نے انہیں پروٹوکول دیا تو مَیں سمجھ گیا کہ یہ یقیناًان کے سینئر ہیں۔ یہ بریگیڈیئر عمران نقوی تھے۔ فوج کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ اس میں جونیئرز اپنے سینئرز کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں اور ان کے اشارے کو بھی حکم سمجھتے ہیں اور جہاں سینئر افسر موجود ہو، وہاں جونیئر اس سے کچھ فاصلے پر رہتے ہیں۔

مَیں چونکہ شاعر ہوں، اس لئے شاعروں کی مثال دوں گا کہ اب ادبی دنیا میں سینئر جونیئر کا فرق مٹ گیا ہے۔ نئے شاعر اپنے سینئرز کی نشستوں پر زبردستی قبضہ کر لیتے ہیں۔ نوجوان شاعر تقریب میں وقت پر آ جائیں تو اگلی نشستوں پر براجمان ہو جاتے ہیں جو سینئر ادیبوں شاعروں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔ صرف ادبی دنیا کا ہی نہیں، ہماری سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ کوئی بڑا سیاسی راہنما کہیں موجود ہو تو نووارد سیاست دان سینئر اور تجربہ کار سیاست دانوں کو پرے دھکیل کر خود اپنے رہنما کی بغل میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہاں موجود کیمروں کی آنکھیں انہیں دیکھ لیں تا کہ وہ بھی ٹیلی ویژن سکرین پر کچھ ثانیوں کے لئے ہی سہی، جلوہ گر ہو سکیں۔ میجر حارث نے میجر علی سے بھی ملوایا جو آئی ایس پی آر میں ہوتے ہیں۔ جب انہیں علم ہوا کہ یومِ یک جہتی کشمیر پر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نغمے میں پہلے دو شعر میرے ہیں تو ان کی گرم جوشی مزید بڑھ گئی۔ میرے دو شعر آپ بھی دیکھ لیجئے:

کشمیر! ترا حسن ہوا درد کی تصویر

آنسو ہیں تری آنکھ میں، پیروں میں ہے زنجیر

وہ کہتے ہیں آزادی کو اک خواب ہی سمجھو

ہم کہتے ہیں ہر خواب کی اک ہوتی ہے تعبیر

سانحۂ پشاور پر بھی آئی ایس پی آر نے دو نہایت شان دار نغمے جاری کئے تھے  لیکن یوم یکِ جہتی کشمیر پر ریکارڈ کیا گیا نغمہ ان کے معیار تک نہیں پہنچا۔ میرے دو شعر تحت اللفظ میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور مشہور

 شعر تحت اللفظ میں شامل کیا گیا ہے:

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ ریکارڈ کرنے والوں نے میرے دو شعروں میں بھی ایک غلطی کی اور اس شعر میں بھی غلطی کر دی۔ دوسرا مصرع یوں کر دیا:

جنت کسی کافر کو نہ ملی ہے نہ ملے گی

نغمہ سنتے ہی مَیں نے آئی ایس پی آر اسلام آباد میں تعینات اپنے دوست یوسف عالمگیرین سے رابطہ کیا اور انہیں ان اغلاط سے آگاہ کیا۔ مَیں نے انہیں یہ کہا کہ نغمہ ریکارڈ کرنے سے پہلے مجھ سے نہ سہی، کسی اور شاعر سے رابطہ کر لیا جاتا تا کہ غلطی کا احتمال نہ رہتا۔ جو گانا گلوکار سے گوایا گیا ہے،اس کی شاعری کسی بحر میں نہیں ہے۔ میری اس بات کو آپ جملہ معترضہ جان لیجئے۔ کالم کا اصل موضوع تو آرمی کے ساتھ گزرے ہوئے دن کی روداد بیان کرنا ہے۔ یادگار شہدا سے تمام دوستوں کو محفوظ شہید گیریثرن لے جایا گیا۔ ٹینکوں کی سواری ، فائرنگ اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں سے نمٹنے کی مشقیں دیکھ کر دل کو یقین ہونے لگا کہ ہمارا ہر آتا ہوا دن بہتر سے بہتر ہوگا۔ وہاں سے کورہیڈ کوارٹر پہنچے ۔ جہاں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صادق علی ( بلال امتیاز) نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان کے قیام کے لئے بہادر پاکستانی افواج کی طرف سے کی جانے والی کامیاب کوششوں کے حوالے سے تفصیل سے معلومات دیں۔

انہوں نے وکلا، تاجروں، صنعت کاروں اور بینکاروں کے انتہائی تلخ سوالوں کے جوابات نہایت خندہ پیشانی سے دیئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یومِ کشمیر پر جاری کئے گئے نغمے میں میرے دو شعر شامل ہیں تو انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور حاضرین سے تالیاں بجوائیں۔ پُر تکلف چائے پینے کے بعد ہمیں قصور لے جایا گیا۔ ہماری بسوں کے آگے پیچھے فوجی گاڑیاں تھیں جو غالباً ہماری سیکیورٹی پر مامور تھیں۔ ظہرانے میں دیگر کھانوں کے ساتھ قصور کی تو ے والی مچھلی بھی وافر مقدار میں رکھی گئی تھی۔ مہمانوں کو جی بھر کے کھانا کھانے دیا گیا، کسی افسر نے کھانے کے آغاز میں جینٹل مین بسم اللہ کہا، نہ ختم کرنے کے لئے جینٹل مین الحمد للہ کہا۔ کرنل اشفاق حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فوجی میس میں اس وقت تک کھانا شروع نہیں کیا جاتا جب تک وہاں موجود سینئر افسر جینٹل مین بسم اللہ نہ کہے اور کھانے کے دوران میں جب وہی افسر جینٹل مین الحمد للہ کہے تو سب کو اپنا ہاتھ روکنا پڑتا ہے۔

کھانے کے بعد گنڈا سنگھ بارڈر پر پہنچے۔ جہاں پرچم اتارنے کی تقریب ہو رہی تھی۔ ہمارے لئے پہلے سے نشستیں مخصوص تھیں۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی لکیر کے عین اُوپر ایک بلی بیٹھی تھی۔ وہ کبھی پاکستانی فوجیوں کی طرف دیکھتی اور کبھی بھارتی فوجیوں کی طرف۔ وہ دراصل ان کے پاؤں کی دھمک سے خوفزدہ تھی۔ مَیں نے محسوس کیا کہ بھارتی فوجی اس بلی کو دیکھ کر بھیگی بلی بنے ہوئے تھے۔ بلی نے بھارت کی طرف جانا چاہا تو بھارتی فوجیوں نے اشاروں سے اسے پاکستان کی طرف دھکیل دیا۔ یہ وہی بھارتی فوج ہے جو ایک معمولی سے کبوتر سے بھی ڈر جاتی ہے۔ میرا یہ دن تھکا دینے والا تھا، لیکن فوجیوں کی مشقت بھری زندگی کی مصروفیات دیکھ کر مَیں مطمئن تھا کہ میرا پاکستان محفوظ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر اگر کوئی دیوار ہے تو وہ پاک آرمی ہے جس نے تمام خطروں کو روکا ہوا ہے۔

ناصر بشیر

آئیڈیاز 2016 : جنگی ساز و سامان کی نمائش

 پاکستان کے شہر کراچی میں اسحلے، جنگی ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی نمائش منعقد کی گئی ہے۔ 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستانی بیلسٹک میزائل ’’شاہین‘‘ صرف 3 منٹ میں دہلی کو تباہ کر سکتا ہے

 شاہین سوم (شاہین III) پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔ اس رینج اور رفتار کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کی صورت میں شاہین تھری بیلسٹک میزائل دہلی کو صرف تین منٹ میں نشانہ بنا سکے گا اور بھارتی فوج کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں شاہین تھری میزائل سے بھارت کے اُن سب سے دور دراز فوجی اڈوں کو بھی صرف 15 منٹ میں تباہ کیا جا سکے گا جو جزائر نکوبار و انڈمان میں واقع ہیں۔

یہ ’’شاہین بیلسٹک میزائل‘‘ سلسلے کا تیسرا میزائل ہے جس کی خاص بات اس میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہے۔ اسے بیک وقت کئی وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جو روایتی بھی ہوسکتی ہیں اور غیر روایتی (نیوکلیائی) بھی؛ جب کہ ان کا مجموعی وزن 1000 کلو گرام تک ہوسکتا ہے۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری ’’نیسکوم‘‘ اور ’’سپارکو‘‘ سے وابستہ پاکستانی انجینئروں اور سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جب کہ پاک فوج نے اس کا پہلا تجربہ 9 مارچ 2015 میں کیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس کے فوراً بعد شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری بھی شروع کردی گئی۔

یہ زمین سے زمین تک (سرفیس ٹو سرفیس) مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جسے متحرک لانچر کے ذریعے ہدف کی سمت داغا جا سکتا ہے۔ اس کا ٹھوس ایندھن والا راکٹ دو سے زائد مرحلوں میں جلتا ہے اور دورانِ پرواز یہ پچاس ہزار (50000) میٹر سے بھی زیادہ کی بلندی پر، خلا کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں میزائل سازی کا پروگرام بھرپور انداز میں جاری ہے جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح سے بگڑ چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس توازن کو بحال کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس بھی ایسے ہتھیار موجود ہوں جو بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں مؤثر جواب دے سکیں۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل بھی پاکستان کی ان ہی کوششوں کا حامل ہے جس کا مقصد دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہوئے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔

بھارتی سرحد کے قریب پاکستانی فوج کی ”رعد البرق” جنگی مشقیں

پنجاب کے علاقے خیرپور ٹامیوالی میں رعد البرق نامی فوجی مشقیں ہوئیں جس کی اختتامی تقریب میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی۔

 

 

 

 

Raheel Sharif inspected the military exercises Raad-ul-Barq

Prime Minister Nawaz Sharif and Chief of Army Staff Gen Raheel Sharif inspected the military exercises Raad-ul-Barq conducted by the Pakistan Army and Pakistan Air Force at Khairpur Tamewali near Bahawalpur, a strategic area near the border. The exercise, held just days after seven Pakistani soldiers were killed in cross-border firing across the Line of Control, was intended to survey the combat-readiness of troops. PM Nawaz warned against “any ambitious and reckless move by enemies”, saying that the exercises reflect the preparedness of Pakistan’s armed forces to “respond to any threat to national security.”

Pakistan Army Shaheeds who embraced shahdat in Bhimber

 آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھارتی فائرنگ پربھرپوراورموثر جواب جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مادروطن کے دفاع میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھیں گے اور پاک سر زمین کے مکمل دفاع کے لیے پاک فوج بھرپور جواب دینے کے لیے ہر دم تیار ہے۔

سرحدوں پر پہرا دینے کی فضیلت

1445531689849اللہ نے مومنوں سے انکی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں اور اسکے عوض انکے لئے بہشت تیار کی ہے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے  اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

سورۃ التوبة 111