پاک نیوی نے میرین کروز مزائیل سے بھارت کو پانی کے نیچے سے ڈبونے کی صلاحیت حاصل کر لی

پاکستان میں پاک فوج کے ترجمان ادارے، آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے سب میرین لانچ کروز میزائل بابر کے ذریعے ’’ہدف کو درست نشانہ بنانے کا ایک اور کامیاب تجربہ کیا ہے‘‘۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ’’ملکی سطح پر بہتر بنایا گیا کروز میزائل بابر قابل بھروسہ اور سیکنڈ اسٹرائیک کی صلاحیت کا حامل میزائل ہے جو 450 کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو تباہ کر سکتا ہے‘‘۔ بتایا گیا ہے کہ ’’زیرآب آبدوز سے فائر کیے گئے اس کروز میزائل نے تمام مقررہ پیرامیٹرز کے مطابق، کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا‘‘۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے اس تجربہ کی فوٹیج بھی جاری کی گئی ہے جس میں زیرآب میزائل حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے جس کے بعد یہ میزائل پانی سے نکل کر پرواز کرتا ہوا خشکی پر اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ’’یہ میزائل مختلف اقسام کے روایتی اور غیر روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ میزائل فائر کرنے کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، چیئرمین نیسکام، کمانڈر نیول اسٹریٹجک فورس کمانڈ، اعلیٰ حکام، سائنس دان اور انجینئرز موجود تھے۔

Advertisements

چین کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی

چین کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی کو پاکستان میں کئی ماہرین نے پاکستانی دفاع کے لئے مثبت قرار دیا ہے اور ان کے خیال میں یہ چینی اقدام خطے میں استحکام پیدا کرے گا۔ دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹارئرڈ انعام الرحیم کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کی بدولت پاکستان بھارت کا مقابلہ کر سکتا ہے، ’’آج کے دور میں بیلنس آف پاورکو نظر انداز کرنا تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بھارت روایتی طور پر مضبوط ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں فوری طور پر بھارت کے عزائم کا پتہ چل سکتا ہے اور ہم بھر پور جواب کی تیاری کر سکتے ہیں۔ ہم نے اس ٹیکنالوجی کی آج نمائش بھی کی ہے، جس سے بھارت کو ایک بھر پور پیغام جائے گا کہ وہ خطے میں کوئی بھی ایڈوینچر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بھارت نے پہلے ہی ایل او سی کو گرم کیا ہوا ہے اور وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہمارے سفارتکاروں کو بھی تنگ کر رہا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں۔ ایسے موقع پر اس ٹیکنالوجی کا پاکستان کو ملنا بہت اچھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بین الاقوامی طور پر اب روس نے ایسے میزائل تیار کر لئے ہیں، جن کو ٹریس بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمارا مقابلہ بھارت کے ساتھ ہے۔ ابھی یہ ٹیکنالوجی یا امریکی اسٹیلتھ طیارے بھارت کے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب یہ ٹیکنالوجی بھارت کے پاس آئے گی تو پھر ہمارے لئے مشکلات ہوں گی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دفاعی شعبے میں بھر پور کفالت کی طرف جائے۔ میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے علاوہ ہمارے پاس بہترین ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی ہیں، جن سے ہماری دفاعی پوزیشن بہتر ہو گی۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی اس لئے دی ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا نہیں چاہتا، ’’چین معاشی طور پر تیز رفتار انداز میں ترقی کرنا چاہتا ہے۔

اس تیز رفتار ترقی کے لئے سی پیک ایک اہم عنصر ہے اور سی پیک اسی وقت کامیاب ہو گا جب پاکستان مستحکم اور مضبوط ہو گا۔ تو چین کا اس حوالے سے پاکستان کی مدد کرنا قدرتی عمل ہے کیونکہ امریکا خطے میں بھارت کو مضبوط کر کے چین کی اس ترقی کو روکنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن نے ابھی دو بلین ڈالرز کی ڈرون ٹیکنالوجی بھارت کو دی ہے۔ اوباما نے یہ ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن ٹرمپ نے چین کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ اس لئے اس نے یہ ٹیکنالوجی بھارت کو دے دی ہے کیونکہ وہ چین اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔‘‘

اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں ہو گی، ’’یہ دوڑ تو پہلے ہی سے شروع ہے۔ بھارت کے پاس پہلے ہی برہمو سمیت کئی جدید میزائل ہیں۔ اس کے پاس میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ وہ پہلے ہی اسرائیل اور امریکا کی مدد سے جدید سے جدید ترین ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان نے صرف ایک بیلنسنگ ایکٹ کیا ہے، جو ہمارے دفاع کے لئے بہت ضروری ہے۔‘‘اسلام آباد کی پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ پروفیسر امان میمن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر دانشمندانہ پالیسیاں جنوبی ایشیا کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں،’’امریکا چین کا راستہ روکنے کے لئے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے بھارت کو بے تحاشا ہتھیار دے رہا ہے اور اس کو عسکری لحاظ سے بہت مضبوط کر رہا ہے۔ یہ سمجھے بغیر کہ بھارت میں ایک قوم پرست تنظیم بر سرِ اقتدار ہے، جو خطے میں کسی بھی وقت جنگ کے شعلے بھڑکا سکتی ہے۔

پاکستان نے بیک وقت متعدد شہروں کو نشانہ بنانے والا میزائل سسٹم حاصل کر لیا

چین نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو مزید بہتر بنانے کےلیے نیا ٹریکنگ سسٹم فراہم کر دیا ہے جس کی بدولت بیک وقت کئی شہروں کو نشانہ بنایا جا سکے گا۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ اخبار کے مطابق چین نے پاکستان کے میزائل پروگرام کےلیے جدید ترین ٹریکنگ سسٹم فراہم کیا ہے جس کی مدد سے ملٹی وار ہیڈ میزائلز کی تیاری تیز تر کی جا سکتی ہے۔ نئے چینی ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے پاکستان کے لیے دشمن کے متعدد شہروں اور فوجی تنصیبات کو بیک وقت نشانہ بنانا ممکن ہو گیا ہے۔

چینی حکومت نے پاکستان کے ساتھ اس خفیہ معاہدے کی تفصیلات گزشتہ روز (بدھ 21 مارچ 2018) جاری کی۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس) کی ویب سائٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق، چین وہ پہلا ملک ہے جس نے یہ حساس ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو فروخت کی ہے۔ تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان نے کتنی رقم میں یہ سسٹم خریدا ہے۔ چینی سائنس دان ژہینگ مینگوائی نے تصدیق کی کہ پاکستان نے چین سے انتہائی جدید اور وسیع آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم حاصل کیا ہے جبکہ پاکستانی فوج نے اپنے نئے میزائلز کی تیاری اور آزمائش کے لیے چینی ساختہ نئے ٹریکنگ سسٹم کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق پاکستان اپنے جدید میزائلز میں ’ایم آئی آر وی‘ کی صلاحیت پیدا کرنے اور اسے خوب تر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ ’’ایم آئی آر وی‘‘ کی بدولت صرف ایک بیلسٹک میزائل ہی کو متعدد وارہیڈز سے لیس کیا جا سکتا ہے جو الگ الگ اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس طرح صرف ایک میزائل ہی کئی میزائلز جتنا خطرناک اور ہلاکت خیز ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس کمیٹی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے جنوری 2017 میں نیوکلیئر میزائل ابابیل کا تجربہ کیا تھا جو جنوبی ایشیا کا پہلا ایم آئی آر وی میزائل ہے۔ یہ فضا میں بلند ہونے کے بعد، اپنے اختتامی ہدف کی سمت بڑھتے دوران، راستے میں آنے والے مختلف اہداف کی سمت بھی وارہیڈز گراتے ہوئے اور انہیں تباہ کرتے ہوئے محوِ پرواز رہتا ہے۔ اس طرح یہ ایم آئی آر وی دشمن کے میزائل ڈیفنس کو ناکام بنا دیتا ہے۔ دوسری جانب بھارت اب تک ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی کو اپنے میزائلز میں استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے۔