پاک بحریہ کا جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستانی بحریہ نے سنیچر کو شمالی بحیرہِ عرب میں بحری جہاز شکن فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ سی کنگ ہیلی کاپٹر نے کھلے سمندر میں یہ مظاہرہ کیا اور کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔ اس موقعے پر پاکستانی بحریہ کے سربراہ محمد زکا اللہ نے مظاہرے کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا سی کنگ ہیلی کاپٹر سے میزائل کا کامیاب مظاہرہ پاکستانی بحریہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جنگی تیاری کا واضح ثبوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی بحریہ اپنے وطن کی سالمیت اور مفادات کا ہر قیمت ہر دفاع کرے گی۔ یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستانی بحریہ نے آبدوز سے کروز میزائل ‘بابر تھری’ کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ بابر تھری کروز میزائل کا تجربہ بحیرہ ہند سے کیا گیا جس نے خشکی میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس کروز میزائل بابر تھری 450 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل زیر سمندر موبائل پلیٹ فارم سے لانچ کیا گیا تھا۔ میزائل بابر تھری کئی قسم کے جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نچلی پرواز کرسکتا ہے۔

 

Advertisements

پاکستانی بیلسٹک میزائل ’’شاہین‘‘ صرف 3 منٹ میں دہلی کو تباہ کر سکتا ہے

 شاہین سوم (شاہین III) پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔ اس رینج اور رفتار کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کی صورت میں شاہین تھری بیلسٹک میزائل دہلی کو صرف تین منٹ میں نشانہ بنا سکے گا اور بھارتی فوج کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں شاہین تھری میزائل سے بھارت کے اُن سب سے دور دراز فوجی اڈوں کو بھی صرف 15 منٹ میں تباہ کیا جا سکے گا جو جزائر نکوبار و انڈمان میں واقع ہیں۔

یہ ’’شاہین بیلسٹک میزائل‘‘ سلسلے کا تیسرا میزائل ہے جس کی خاص بات اس میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہے۔ اسے بیک وقت کئی وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جو روایتی بھی ہوسکتی ہیں اور غیر روایتی (نیوکلیائی) بھی؛ جب کہ ان کا مجموعی وزن 1000 کلو گرام تک ہوسکتا ہے۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری ’’نیسکوم‘‘ اور ’’سپارکو‘‘ سے وابستہ پاکستانی انجینئروں اور سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جب کہ پاک فوج نے اس کا پہلا تجربہ 9 مارچ 2015 میں کیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس کے فوراً بعد شاہین سوم بیلسٹک میزائل کی تیاری بھی شروع کردی گئی۔

یہ زمین سے زمین تک (سرفیس ٹو سرفیس) مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جسے متحرک لانچر کے ذریعے ہدف کی سمت داغا جا سکتا ہے۔ اس کا ٹھوس ایندھن والا راکٹ دو سے زائد مرحلوں میں جلتا ہے اور دورانِ پرواز یہ پچاس ہزار (50000) میٹر سے بھی زیادہ کی بلندی پر، خلا کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں میزائل سازی کا پروگرام بھرپور انداز میں جاری ہے جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح سے بگڑ چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس توازن کو بحال کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس بھی ایسے ہتھیار موجود ہوں جو بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں مؤثر جواب دے سکیں۔ شاہین سوم بیلسٹک میزائل بھی پاکستان کی ان ہی کوششوں کا حامل ہے جس کا مقصد دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہوئے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔

Ghaznavi Missile

The Ghaznavi is a hypersonic and surface to surface short rangeballistic missile designed and developed by the National Development Complex, in service with the Pakistan Army’s strategic command since 2004.[3] With an optimal range of 290 km,[1] it is named after the 11th century Muslim Turkic conquerorMahmud of Ghazni. The missile has a length of 9.64m, diameter of 0.99 m, launch weight of 5256 kg and is powered by a single stage solid fuel rocket motor.[4] It is believed influenced from a Chinese design, the M-11 (NATO reporting name: CSS-7).
Design history
Initially, the Pakistan government was actively pushing of acquiring the M-11 missiles from China on purpose of a quick deployment.[7] Prime Minister Benazir Bhutto personally lobbied in China for the M-11 missiles, but unable to do so after the intense pressure mounted by the United States and the MTCR’s strict monitoring of prevention of the technology transfers of the missiles.[8] Development on Ghaznavi started in 1990s after the refusal of export of M-11 missiles from China toPakistan.[7] The Ghaznavi was pursuit alongside with the Abdali program, and its features extremely close to Chinese M-11.[8]The Ghaznavi program went to NDC and designed the missile which was extremely close to that Chinese M-11.
The Pakistan military officials consistently maintained that the Ghaznavi program is locally designed and ingeniously built.[9] In 1995, its engine was successfully tested and was said to be a “major break-through in missile development in Pakistan”.
The Ghaznavi has a range of 600km with a payload of 500kg and a proper terminal guidance system giving it an accuracy of 0.1%, as the CEP at 600km— a similar to the Indian Prithvi surface to surface ballistic missile which is at 250km. This meant that Ghaznavi was to be controlled by an on-board computer for accuracy and was not to follow a purely ballistic trajectory.[9]The main features of Ghaznavi are its two-stage rocket ability for war-head separation, a terminal guidance system and five different types of warheads, designed by DESTO.[9] Pakistani scientists and engineers who worked on the missile recalled their memories on the development of the Ghaznavi, and maintained that the “most difficult part of the missile’s development was its computerized guidance system which was developed at the Margalla Electronics and NIE.”
Tests and status
The Ghaznavi took its first spaceflight on 26 May 2002, at the height of the military standoff between India and Pakistan.[10] On 3 October 2003, the Ghaznavi was again successfully test fired from an undisclosed location, and was quoted by the military as “highly successful”.[11] The Ghaznavi successfully reached to its target and has a range of 290km (180mi), making it capable of striking several key targets within neighboring nuclear rival, India[11] The Ghaznavi entered in the service in March 2004 and currently with the Pakistan Army.
Its third test launched took place on 8 December 2004;[12] subsequent tests were conducted on 9 December 2006 another on 13 February 2008 and 8 May 2010; the 2008 test was believed to have concluded a winter training exercise of Pakistan’s Army Strategic Force Command (ASFC).[1] In May 2012, one more successful test of the missile was conducted as part of a training exercise.[13]
During its development at the NDC, the program was named in the memory of Mahmud of Ghazni– the 10th century Turkic emperor who founded the Ghaznavid Empire and frequently invaded India. The JS HQ, however, officially codenames the missile as “Hatf–III Ghaznavi”.